دریائے راوی کی زمین پر قبضے کی کہانی بہت پرانی اور افسوسناک ہے۔ یہ جو نقشہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس میں 1893 کے دریائے راوی کے بہاؤ کو آج کے لاہور شہر پر دکھایا گیا ہے+
ماضی میں اس دریا کی حدود موجودہ رنگ روڈ سے لے کر آج کے دریا کے بہاؤ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رنگ روڈ اور موجودہ دریا کے درمیان جتنی بھی آبادیاں ہیں، وہ آج بھی دریا کے سیلابی میدان (فلڈ پلین) میں واقع ہیں۔ یہ ایک سنگین خطرے کی علامت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا+
علی امین گنڈاپُور کے بطور امیدوار برائے وزیر اعلی چُنے جانے سے مزید ثابت ہوتا ہے کہ سیاست، سیاست ہی ہوتی ہے۔ اسے حق اور باطل کی جنگ بنانے والے بھی آیتیں سُنا کر صرف سیاست ہی کرتے ہیں 😏
@MaryamShKhan The arguments used by PTI folks are very similar. This similarity is scary at times. How could such a large crowd have such a myopic view. That's the power of social media bubble.
@BhuttoZulfikar We find so many sources uptill Sikh period that this place was rich with wildlife. Ranjeet Singh often took his foreign guests for recreation there.
@BhuttoZulfikar Since Rivers always flow. If something is to be constructed in its natural path, water has to be diverted. It's a temporary cut that will enable a dry space for dam construction. Will be restored afterwards
P.S. your talk at Lahore Museum was amazing. I was there.