کچھ غلیظ کردار صحافی کل سے بھارت میں ہونے والے لاٹھی چارج کی ویڈیوز دیکھا دیکھا کر کہہ رہے ہیں کہ اسے کہتے ہیں ظلم !!
اوئے بے شرموں ظلم اسے کہتے ہیں کہ جب 26 نومبر کو نہتے شہریوں پر جدید ہتھیاروں کے منہ کھولے گئے تھے، انڈیا سے کوئی ایک ایسا منظر ہے تو دیکھا دو
اگر ایران جنگ نا ہوتی؟ تو کیا ہوتا؟
اگر ایران جنگ نا ہوتی تو چین کم از کم اگلے 30-50 سال تک امریکہ کے گرنے کا صبر سے انتظار کرتا۔
روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں مستقبل قریب میں امریکہ اور یورپ کے دباؤ میں آ جاتا۔
اور جنکا خواب گریٹر اسرائیل تھا، وہ خواب پورا ہو جاتا۔
اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہوتے اور ابراہام اکارڈ میں بندھ چکے ہوتے۔
پاکستان کا امریکی غلامی سے نکلنے کا کوئی چانس نا بنتا، جو کہ اب بن چکا ہے، باقی فائدہ اُٹھایا جاتا ہے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔
دُنیا امریکہ سے خوفزدہ رہتی جو خوف اب دور ہو چکا ہے۔
دُنیا امریکہ کی غلام رہتی جو اب آزاد ہو رہی ہے۔
گریٹر اسرائیل کے بعد امریکہ کا کنٹرول تیل، گیس، تجارتی راستوں اور خلیج میں کئی گُنا بڑھ جاتا۔
ترکیہ کو وہ اہمیت نا ملتی جو اب امریکہ اور یورپ سے مل رہی ہے۔
امریکی اڈوں کے ختم ہونے کا سلسلہ کبھی نا شروع ہوتا، جو اب ہو چکا ہے۔
اسی لیے میں نے ٹرمپ کو امریکی گوربا چورف کا خطاب دیا تھا کہ امریکہ کا زوال جو شاید آدھی صدی تک نا ہوتا، وہ اب شروع ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کو امریکی تاریخ میں ایک لعنت کے طور پر یاد رکھا جاۓ گا۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں
جس پہ فلک جاوید کا جواب
1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں
فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں
کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
ایران کے اسرائیل کی طرف جانے والے مئزائل روکنے والے عرب ممالک
جو ایرانی مئزائل پہنچنے سے پہہلے ہی اپنی فضا میں اسے تباہ کردیتے ہیں۔
اسی لیے ایران نے اب ان کے دفاعی نظام پر حملے کیے ہیں۔
الجزیرہ
یہ India کے مناظر نہیں بلکہ یہ 26 نومبر اسلام آباد کے مناظر ہیں، لیکن افسوس پھر ظالموں نے اس نہتی عوام پر ظلم کیا اور D chowk کو قتل گاہ بنا دیا،
لیکن افسوس پاکستان کے ٹاوٹ صحافی اس قتل عام کا دفاع کرتے رہے اور آج انڈیا میں چلنے والی لاٹھی پر یہ خون کے آنسو بہا رہے ہیں
آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ بھارتی فورسز جنتر منتر میں طلباء پر حملہ آور ہو گئی ہیں اور ان کو سیدھی گولیاں مار رہی ہے
لیکن آپ غلط سوچ رہے ہیں، یہ پاکستانی فورسز ہیں اور یہ دارالحکومت اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کو مار رہی ہیں اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانگی ہوگی کہ بھارت میں ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی گئی
ڈاکڑ جلیل پاکستان Gen-Z کا قصور نہیں ہے! پاکستانی جرنیل ھندوستان اور اسرائیل کے سیاستدانوں سے زیادہ ظالم اور انسان دشمن ہیں! دہلی کی سڑکوں پہ وہ کچھ نہیں ہو سکتا جو بدنصیب پاکستان میں ممکن ہے!
ان لوگوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ عوام اب اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔ ان سے مزید اچھے کی توقع مت رکھیں۔
واہ رے منافقت
ایران نے آج تک امریکہ پر حملہ نہٰں کیا اور 47 سال سے ان پر ایٹم بم بنانے کے الزامات لگتے رہے اور تین دفعہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ بھی مسلط کی گئی۔
سعودیہ پر 9 گیارہ میں ٹوین ٹاور گرانے والے سعودی پائلٹس اور اسامہ سعودی شہری کے ملوث امریکی الزامات ہونے کے باوجود، ایٹمی ڈیل کی جا رہی ہے۔
افسوسناک🚨یہ کوئی AI ویڈیو نہیں بلکہ گاڑی پر اسرائیلی بمباری سے زندہ جل جانے والے دوفلسطینی افراد کی میتیں ہیں جو گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کوئلے میں تبدیل ہو گیے ماضی میں کفر اور یہودیوں کے مظالم سُنے تھے دُنیا آج اسرائیل کی شکل میں خود دیکھ رہی ہے۔
@AnaKasparian@jacksonhinkle
سپین یورپ کا ایران ہے۔
ورلڈ کپ جیت کی خوشیاں مناتے ہوئے ہسپانوی شائقین کو ہسپانوی اور فلسطینی پرچم ایک ساتھ لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔
سپین یورپ کا ایران ہے جس نے ورلڈ کپ کی فتح میں بھی فلسطین کو یاد رکھا۔
کاش سپین جتنا سٹینڈ اسلامی ممالک نے بھی لیا ہوتا۔