lمیں سوچ رہی تھی کہ احسن اقبال پر تنقید سے پہلے دانیال عزیز صاحب اپنی کارکردگی کا حساب دیں!
شکرگڑھ کے عوام کو بتائیں کہ طویل سیاسی تاریخ اور اقتدار تک رسائی کے باوجود آپ نے ان کے لیے کیا کیا؟ دوسری طرف احسن اقبال کی شناخت نارووال میں تعلیمی اداروں، ترقیاتی منصوبوں، سی پیک اور
یہ بچے اپنے مستقبل کے لئے مدد کے انتظار میں بیٹے تھے ۔ مجھے خوشی ہے کہ میں فاٹا اور بلوچستان کے 212 طلبہ اور ان کے 212 خاندانوں کے کام آ سکا۔ آج یہ سب اپنی کلاسوں میں پڑھ رہے ہیں۔
حضرت علی ساوُتھ وزیرستان کا ایک ہونہار طالب علم ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بارش اور طوفان میں 102 دن اپنے مسلہ کے حل کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، اور ادارے اسے ایک دوسرے کی طرف بھیجتے رہے۔ ان کے والد کا خواب ہے کہ بیٹا ڈاکٹر بنے۔ خوشی ہے کہ میں ان کے مسئلہ کے حل لئے کچھ کر سکا اور مجھے خوشی ہے کہ اب ان کی پڑھائی شروع ہو چکی ہے۔
Making the most of my transit in Istanbul with a memorable visit to Istanbul University!
From engaging discussions with the Rector and Vice Rector to meeting vibrant students, the deep sense of history and tradition here is truly remarkable. Our shared commitment to knowledge and education runs deep, and I’m excited for what’s ahead as we work toward new MoUs and research partnerships.
آج Quantum Valley Pakistan کا آغاز کر کے ایک دیرینہ خواب سچ کر دکھایا ہے۔
اب ہم صرف تکنیک اور مستقبل باہر سے نہیں منگوائیں گے—بلکہ اسے اپنے وطن میں خود تراشیں گے۔ Plug and Play اور Cambridge Innovation Center (CIC) جیسے عالمگیر اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، ہم پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے رہے ہیں جہاں ان کے ڈیپ ٹیک (Deep-Tech) خیالات دنیا کے لیے بہترین اور قیمتی حل بنیں گے۔
پاکستان کے باصلاحیت نوجوانو: آپ کا ہنر دنیا کے سامنے چمکنے کے لیے تیار ہے، اور کامیابی کے دروازے اب کھل چکے ہیں!
#QuantumValleyPakistan #UraanPakistan #PlugandPlay #CIC #ePakistan #MadeInPakistan #DeepTech #PakistanTech
المیہ ہے کہ اپنے علاقے کے لیے کام کرنے والے بھی تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ احسن اقبال اور احمد اقبال کی خدمات کی قدر نارووال کے عوام جانتے ہیں۔ احمد، حوصلہ بلند رکھیں! نارووال اور ظفروال آپ کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں۔
ارومچی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تھیمیٹک فورم برائے ڈیجیٹل گورننس اینڈ کیپیسٹی بلڈنگ کے افتتاحی سیشن میں مرکزی خطیب کے طور پر مَیں نے دنیا کے سامنے گورننس کی ازسرِنو تشکیل کا یہ ٹھوس فلسفہ رکھا کہ کاغذ پر چلنے والی روایتی بیوروکریسی کو محض کمپیوٹر اسکرین پر منتقل کر دینے سے انقلاب نہیں آتا، بلکہ اصل پیش رفت یہ ہے کہ شہری کو سرکاری دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں اور ریاست خود کو شہری کی ضروریات کے مطابق منظم کرے۔
ہمیں غیر مربوط ڈیٹا بیسز سے نکل کر ایک منظم پبلک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طرف آنا ہوگا تاکہ روایتی انتظامیہ کے بجائے ڈیٹا پر مبنی بروقت فیصلے ممکن ہو سکیں۔ پاکستان میں ہم مصنوعی ذہانت کو محض آگاہی کے دائرے سے نکال کر ٹھوس معاشی اثرات میں ڈھال رہے ہیں، جہاں ہمارا ہدف 2030ء تک 10 لاکھ افراد کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور اے آئی اسکلز سے لیس کرنا ہے۔
اس اہم بین الاقوامی فورم پر خطے کی اجتماعی طاقت کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان نے ایس سی او ڈیجیٹل گورننس اینڈ اے آئی کیپیسٹی بلڈنگ نیٹ ورک کا 5 نکاتی فریم ورک پیش کیا، جس میں وزراء اور سینئر افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس اکیڈمی کا قیام، پبلک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تبادلہ، مشترکہ فیلوشپس، اور لاجسٹکس و تجارت کے لیے محفوظ ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہے۔
#DigitalGovernance #CapacityBuilding #SCO2026 #IntelligentGovernment #HumanCapital
کیا وزیر اعلی KPK لاہور کے نجی دورے پر ہونے والے سرکاری اخراجات ادا کر رہے ہیں یعنی سرکاری گاڑیوں کا کرایہ، تیل، اور پولیس کی گارت جو جناب ساتھ لے کر آئے ہیں۔
والد صاحب کی حالیہ پوسٹ پر بعض تبصروں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میں پنجاب حکومت سے ناراض ہوں۔ میں دو ٹوک انداز میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات صد فیصد بے بنیاد اور جھوٹ ہے۔ میں نے اپنے والد سے اپنے لیے کسی کام کی سفارش کرنے کو نہیں کہا، نہ ہی مجھے کسی عہدے کی خواہش یا کوئی ناراضی ہے۔
ظفروال کے عوام کی نمائندگی میرے لیے بہت بڑا اعزاز اور ذمہ داری ہے۔ میری توجہ اپنے حلقے کے مسائل، مؤثر قانون سازی اور بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ہے۔ کمیٹی میں ہم بلدیاتی اداروں، مقامی تعلیمی و صحت کے اداروں اور اضلاع کی برسوں سے زیرالتوا آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لے کر عوامی وسائل کے احتساب کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میرے لیے یہ کام اہم بھی ہے اور باعثِ اطمینان بھی۔
میرے نزدیک اس پروپیگنڈے کے پیچھے وہی سیاسی مخالفین ہیں جو عرصے سے اپنے میڈیا روابط کے ذریعے ہمارے اور جماعت کی قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ اہلِ علاقہ ان کی سیاست سے خوب واقف ہیں؛ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کی سیاست کا محور عہدے اور اقتدار رہے ہیں، مگر مواقع ملنے کے باوجود اپنے حلقوں کی ترقی اور عوامی خدمت میں کوئی قابلِ ذکر کارکردگی پیش نہیں کر سکے۔
نارووال میں حالیہ آزاد کشمیر انتخابات، LA-37, Jammu 4، میں بھی یہ مسترد شدہ لوگ و تحریک انصاف، تحریک لبیک اور دیگر مخالف قوتیں ایک امیدوار کی حمایت میں اکٹھی ہوئیں، مگر عوام نے انہیں مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو واضح کامیابی دی۔ انتخابی شکست کے بعد قیاس آرائیوں اور الزام تراشی سے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
احسن اقبال صاحب اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا تعلق دہائیوں کی سیاسی رفاقت اور مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کا ہے۔ اسے میرے لیے کسی عہدے کے حصول سے جوڑنا بے بنیاد اور انتہائی افسوسناک ہے اور یہ بات میں محترمہ مریم اورنگزیب کو بھی بتا چکا ہوں کہ وہ حلقے میں اس قسم کا propaganda کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) میری جماعت ہے اور میاں نواز شریف صاحب کی قیادت سے ہماری جذباتی وابستگی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف صاحبہ نے ظفروال کی ترقی کے لیے خصوصی شفقت کی ہے، جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کے ساتھ پنجاب اور اپنے حلقے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔
میں اس بے بنیاد الزام تراشی کی مذمت کرتا ہوں۔ میڈیا کے دوستوں سے گزارش ہے کہ میری طرف کوئی مؤقف یا خواہش منسوب کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں۔
@KlasraRauf یاری تو ہے آپکی دانیال سے آپکے پروگرام کے علاؤہ انکو کبھی کسی ٹی وی چینل پر نہیں دیکھا دانیال کے حواس پر احسن اقبال صاحب سوار ہیں اسے سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے احسن اقبال یاد آتے ہیں
میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ڈیجیٹل اکانومی فورم 2026ء میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے دو روزہ دورے پر چین کے شہر ارومچی پہنچ چکا ہوں۔
پاک چین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو جدید ٹیکنالوجی، علاقائی روابط اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور خطے میں پاکستان کے معاشی مفادات کو موثر انداز میں پیش کرنا اس دورے کی بنیادی ترجیح ہے۔ جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر، ای-کامرس اور خطے کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھول کر پاکستان کو پائیدار ڈیجیٹل ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے،۔
#SCODigitalEconomy #DiplomaticVisit #DigitalTransformation #PakChinaFriendship
کلاسرا صاحب آپ کی گفتگو سن کر مجھے دلی افسوس ہوا، کیونکہ میں نے ہمیشہ آپ کا احترام کیا ہے۔ میرا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں، لیکن سیاسی تجزیے اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر حقائق کو مسخ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
جہاں تک احمد اقبال کا تعلق ہے، اس نے امریکہ کی صفِ اول کی یونیورسٹی آف پنسیلوینیا سے تعلیم حاصل کرنے اور کامیاب پروفیشنل کیرئیر کے بعد اپنی سیاست کا آغاز کسی محفوظ قومی یا صوبائی نشست سے نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں سے کیا۔ دانیال عزیز گروپ کی مخالفت کے باوجود وہ بلامقابلہ چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوا۔ اپنی پہلی صوبائی مدت میں اس نے حکومت کا حصہ بننے کے بجائے ایک پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے کام کرنے کو ترجیح دی، اور میں نے اس فیصلے کی تائید کی۔ آج وہ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے نہایت محنت، دیانت اور قابلیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔
جہاں تک آپ کے دوست دانیال عزیز صاحب کا تعلق ہے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا مگر آپ نے ذکر چھیڑا ہے تو حقائق بھی ریکارڈ پر رہنے چاہییں۔ 2013ء میں میاں نواز شریف صاحب ان کا نام بطور امیدوار سننے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔ پورے پارلیمانی بورڈ کے سامنے میں نے ان کی شخصی ضمانت دی اور انہیں پارٹی ٹکٹ دلوانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود اسی انتخاب میں مرحوم انور عزیز صاحب اور ان کے صاحبزادے نے میری مخالفت کی۔ 2018ء میں دانیال عزیز صاحب کی اہلیہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار تھیں، لیکن والد اور بیٹا پی ٹی آئی کے امیدوار کے ساتھ مل کر میرے خلاف سرگرم رہے۔
یہ تلخ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ 1988ء میں چوہدری انور عزیز مرحوم نے مسلم لیگ (ن) کے چند ارکانِ قومی اسمبلی کو ساتھ ملا کر خواتین کی مخصوص نشست کے انتخاب میں میری والدہ کے خلاف ووٹ بیچا اور انہیں شکست دلوائی۔ اس سب کے باوجود میں نے کبھی سیاست کو ذاتی انتقام نہیں بنایا۔
نارووال کے باشعور عوام نے وقت کے ساتھ ان روایتی سیاست دانوں کو مسترد کیا ہے جو سمجھتے تھے کہ محض قصے، لطیفے اور جگتیں سنا کر ہمیشہ انتخابات جیتے جا سکتے ہیں۔ آج عوام کارکردگی، خدمت اور کردار کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔
کلاسرا صاحب! آپ کی ان لوگوں سے قربت یا دوستی اپنی جگہ، مگر اس کی بنیاد پر حقائق کو نہ بدلیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، لیکن انصاف کے ساتھ۔
مجھے جنرل مشرف کی آمریت اور اس کا بدترین جبر نہ توڑ سکا تو آج کی سیاسی قیاس آرائیاں کیا توڑیں گی؟ مسلم لیگ (ن) میری جماعت ہے۔ میں نے اور ایک نسل نے قائد میاں نواز شریف کی قیادت میں اس جماعت کے لیے اپنی عمریں صرف کیں، مشکلات برداشت کیں اور قربانیاں دی ہیں۔
پارٹی کے اندر اصلاح اور بہتری کی آواز اٹھانا نہ بغاوت ہے، نہ بے وفائی اور نہ کوئی ذاتی ایجنڈا۔ میرا ذاتی تجربہ گواہ ہے کہ میاں نواز شریف صاحب نے ہمیشہ نیک نیتی پر مبنی تعمیری رائے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کے ساتھ میرا سیاسی تعلق اعتماد، وفاداری اور اصولی مکالمے پر قائم ہے۔
میرے سیاسی فیصلے ٹی وی ٹاک شوز کی سنسنی، قیاس آرائیوں یا کسی کی خواہش سے نہیں، اپنے ضمیر، اصولوں اور جماعت کے وسیع تر مفاد سے متعین ہوتے ہیں۔
مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر تین برادر ملکوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر دنیا کو امن و استحکام اور اتحاد کا پیغام دیا ہے۔ سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان، صدرِ ترکیہ رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط سے واضح کردیا کہ اب کسی ایک کا خطرہ سب کا خطرہ ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی محنت اور ٹیم ورک نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ امتِ مسلمہ کو یہ عظیم خوشخبری مبارک ہو 🇵🇰🇸🇦🇹🇷
#MakkahDefenceAgreement