Zorain Nizamani’s ‘It Is Over’: Pakistan’s old guard has lost Gen Z. Forced patriotism fails amid inequality & corruption. Youth see through the facade, reject censorship, and are leaving or resisting quietly. Boomers’ era is done—narrative worn out. Brave truth!
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
“Asim Munir has an insatiable hunger for power, which is why he has imposed the worst form of dictatorship. Instead of demanding that I apologize, Asim Munir should apologize to me. The events of May 9th (2023) were orchestrated by the same person who stole the CCTV footage. At present, May 9th has become Asim Munir’s insurance policy.
It is not a hybrid system that is in place in our country, but the dictatorship of Asim Munir. That is precisely why (President) Trump invited him instead of Shehbaz Sharif.
In their extreme fascism and oppression, they continue to target non-political members of my family. My two nephews, Shahrez and Shershah Khan, have been abducted despite having no involvement in politics. My nephew Shahrez Khan, who is an excellent athlete, was forcibly taken away. I am being held in complete solitary confinement. Over a period of three months, I have been allowed only three meetings. Even meetings with my lawyers and family are blocked for months at a time. All of this is being done to pressure me.
For the past eight months, my wife, Bushra Bibi, has also been held in solitary confinement. Such treatment of women is unprecedented in the history of Pakistan, not even under Yahya Khan.
Faisal Vawda, who acts as a mouthpiece of the establishment, issued statements that Bushra Bibi would seek separation from me. She was pressured to do so, but she stood firmly by my side. Previously, when Asim Munir was removed from the post of DG ISI, he attempted to contact Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, but she refused. That is why she is being subjected to such cruel treatment today. She is kept in solitary confinement under deplorable conditions, where she has suffered electric shocks and physical wounds. She is provided polluted water to use. Every form of cruelty is being inflicted upon her.
Asim Munir is behind all this. He has neither morality nor an understanding of Islam. My message to him is this: no matter which member of my family you imprison to increase pressure on me, I will neither bow down nor accept this tyranny. I will continue my struggle for Haqeeqi Azadi (genuine freedom), no matter what.
Asim Munir is doing to Pakistan what Mohsin Naqvi has done to cricket.
The judiciary has been destroyed, the media silenced, and the police forced into actions that have criminalized the institution itself. Even during Yahya Khan’s era, such circumstances did not exist. The police are being used against the members of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), which has led to a rise in crime across the country. Unemployment is at its peak. The economy cannot be fixed by the SIFC, but through public confidence and the rule of law.
Criminals have been imposed upon us, despite the fact that ISI had itself shared with me evidence of their corruption and money laundering. All cases against anyone who left PTI were immediately forgiven.
Whenever dictatorship takes hold, it does so by colluding with judges. At present, due to shameless judges, the rule of law in Pakistan has completely collapsed. After the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has become entirely subservient. These judges without a conscience do not take action against human rights violations. If our judges acted upon their conscience, provided justice to the people of Pakistan, and feared accountability before Allah on the Day of Judgment, then such tyranny would never have been possible. These conscienceless judges are equally complicit in this injustice and oppression."
Important Conversation of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
(August 26, 2025)
1/2
The establishment is now asking people to tell Imran Khan: “Forget apology, just say I regret what happened on May 9.” But he hasn’t said it. This is how desperate they have become but Khan is not backing down an inch, despite all oppression. What a man.
ایمان کا آخری درجہ
رہنے دو مجھے اپنے تنفس پے کہ یہی بنیاد ہے میرے تخیُّل کی - جو ہر لمحے یہ یقین دلانے میں مصروف ہے کہ میں زندہ ہوں، زندہ ہوں اس بے یقینی میں کہ جو سانس میں لے رہا ہوں یہ کسی کی عنایت ہے یا پھر کسی فطری عمل کا نتیجہ - اگر تو فطری ہے تو ٹھیک کے ساتھ کھڑا ہونا بھی فطری ہے اور اگر مجھے ٹھیک کو ٹھیک کہنے کی اجازت لینی ہے تو پھر تم مجھے سانس بھی اپنی دین سمجھ کر دے رہے ہو - ظاہر ہے اب جسے تم اپنی عطا سمجھ کر دے رہے ہو تو جتلا بھی رہے ہو کہ بھائی ڈرنا نہیں اگر تم میری طرح سوچو گے تو تم جی بھر کے سانس لے سکتے ہو کوئی نہیں روکے گا مگر اگر تم نے اسے فطرت سے منسوب کیا تو سمجھ لو ہم تمہاری سانسوں کو روک لیں گے - اسے اتنا محدود کر دیں گے کہ تم بے حال ہو جاؤ گے -
یہ تو جیسے خدائی کا دعویٰ ہی ہو گیا - ارے بھائی جس کی خدا نے خود اجازات د ے رکھی ہو اس پے تم کون ہوتے ہو پہرہ لگانے والے - یہ بحرحال درست ہے کہ تمہیں خدا کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ بھی درست کہ اس نشست پے بھی اسی خدا نے براجمان کروایا ہے پر تم یہ بھول گئے کہ یہاں تم خدا کے نائب ہو خدا نہیں کہ بنیازی میں جو چاہو کرتے پھرو - تمہیں یہ کس نے اختیار دیا کہ مخلوق کے اس فطری حق کو سلب کر دو کہ وہ ٹھیک کے ہونے کی تائید بھی آزادی سے نا کرسکیں ۔چاہے پھر وہ ہاتھ سے کریں، زبان سے یا پھر دل سے - اسی کی بنیاد پے تو خدا نے اجر دینا ہے - تم تو سراسر خدا کے کاموں میں مداخلت کرنے لگے ہو - کیا سمجھتے ہو تم خدا ہو گئے ہو جس سے پوچھ نہیں ہو سکتی کیومکہ ابتک تو یہ خدا سے ہی منسوب تھا- پر تم تو بہت کمزور ہو اٹھنے بیٹھنے سے عاجز تمہارا جسم ہی تمہاری کمزورئ ہے - وہی جس پے اذیت کر کے اوروں سے اگلواتے ہو - پھر کیسے بھول گئے کہ اسی کا تم نے بھی امتحان دینا ہے اور وہ بھی اس ہستی کے سامنے جس نے تمہیں مظلوم کے حوالے کر دینا ہے وہاں - کہاں جاؤ گے کس کے پاس - وہاں نا تو پیسہ چلے گا نا دھونس نا تمہارا مسند اور نا سلطنت وہاں توحق ہوگا صرف حق -
کیا تم سمجھ بیٹھے ہو کے مخلوق پر زور آزمائی کروا کر انہیں صرف دل کی حد تک محدود کردو گے کہتےہو اپنی وہ رائے اپنے دل تک رکھو جو میں سننا نہیں چاہتا - واہ میرے بھائی جن اسباب پے تم تکیہ کیے بیٹھے ہو وہ کبھی بھی تم سے چھن سکتے ہیں - پھر کہاں جائے گی وہ رائے- سیدھے دل سے نکل کر عوام اُناس کے دلوں میں - پھر وہ اسے زبان پے لاتے ہیں ہاتھ سے روکتے ہیں یا پھر دل سے - وہ ان کا اپنا انتخاب ہوگا جس کا حق وہ اس دن سے رکھتے ہیں جب سے ہوش سنبھالا ہے
خرم میاں
آواز اٹھائیں 🚨
حیدر سعید کو رات کے اس وقت گھر سے اُٹھایا گیا ہے، حیدر سعید کی والدہ نے سوشل میڈیا سے درخواست کی ہے کہ میرے بیٹے کے لئے سب آواز اٹھائیں۔
حیدر سعید کی رہائی کے لئے سب بھرپور آواز اٹھائیں کیونکہ وہ عمران خان کا سچا سپاہی ہے