کرک میں ڈی ایس پی ،عمران الدین، ایس ایچ او لتمبر افضل اعوان، امجد اور کاظم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
Inna Lillahi wa Inna Ilayhi Raji’un.
Deeply saddened by the martyrdom of CTD DSP Imranuddin Shaheed in Karak, Khyber Pakhtunkhwa, we mourn his exceptional courage, unwavering integrity, and unbreakable commitment to duty. A fearless officer, he survived repeated assassination attempts, bomb blasts, and gunfire, refusing to let fear dictate his choices.
Despite being wounded, his resolve never faltered. When offered a safer posting, he refused, saying, “The terrorists will think I got scared.” His words capture his refusal to surrender to fear. For him, duty was a commitment upheld with honor, courage, and extraordinary responsibility.
From leading high-risk operations to safeguarding his people, DSP Imranuddin chose to lead from the front, even when the cost was his life. He had every reason to step away from danger, yet he remained steadfast in his mission until his final breath.
Pakistan has lost a brave son, Khyber Pakhtunkhwa has lost a devoted protector, and his fellow officers have lost a comrade whose courage will remain an enduring example of service and sacrifice.
His martyrdom is a profound loss, but his legacy will live on in his courage, duty, and the lives he sought to protect.
May Allah Almighty grant DSP Imranuddin Shaheed the highest ranks in Jannat-ul-Firdous, accept his sacrifice, and grant his family, loved ones, and colleagues the strength and patience to bear this devastating loss.
Ameen.
ایس ایچ او عمران الدین شہید کو خصوصی خراجِ تحسین، جس نے ایک پختون خاتون پر اور مراد سعید پر جھوٹی ایف ائی آر کرنے سے صاف انکار کردیا تھا، کاش عمران الدین کی طرح اس کے آفیسرز بھی غیرت کا مظاہرہ کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
پنجاب والے ٹک ٹاکس اب خیبر پختونخوا میں بھی دستیاب ہیں! ٹک ٹاکر تھیف منسٹر کے بعد ٹک ٹاکر گورنر۔ کوئی ذی ہوش انسان غریب عوام کا پیسہ اتنی بے دردی اور بے شرمی سے اپنی نوٹنکیوں پر کیسے لگا سکتا ہے!
ممبر قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ کی غیر قانونی و غیر آئینی گرفتاری پر بنوں کے علماء نے آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے اجلاس میں اہم فیصلے مقتدرہ کو سنا دئیے۔
صدر مملکت نے 234 اور 232 کی روح پر عمل درآمد نہیں کیا نا ہی خیبرپختونخوا اسمبلی کی کوئی قرارداد موجود ہے ناہی صوبائی حکومت ماورائے آئین اقدامات کر رہی تھی صدر نے ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کر صوبائی خودمختاری پر حملہ کیا ہے اور صوبہ کی عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکا ڈالا ہے ۔
سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ
غیر قانونی گرفتاری سے پہلے پولیس کی وردی کا استعمال کیا گیا، 8 پولیس گاڑی استعمال کئے گئے، سب نے منہ چھپائے رکھے تھے، پولیس کے وردی میں دھاوا کس نے بولا؟
بدترین فسطائیت، لیکن یاد رکھیں کسی صورت عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور بنوں گل کے عوام کے ساتھ بے وفائی نہیں کریں گے۔
17 لاکھ آبادی پر مشتمل انتہائی حساس ضلع بنوں تحریک انصاف کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عالمِ دین اور ساوتھ ریجن کے ایک بہت بڑے درسگاہ المرکز الاسلامی کےمہتمم مولانا نسیم علی شاہ الہاشمی کو ان کے رہائش گاہ سے غیرقانونی طور پر بنوں پولیس نے اٹھا لیا ہے.
بلی تھیلے سے باہر!
شاکر اعوان
@ShakirAwan88
دہشت گردی آئی نہیں دہشت گرد لائے گئے۔ عوامی حکومت کو ناجائز طور پر گرانے اور عوامی نمائندوں کے جبری اغواء کے بعد اصل عزائم سامنے آرہے ہیں۔
باڑہ میں ہونے والا سانحہ Mineral Massacre ہے۔