ہم سب کارکنان اور عہدیداروں نے جتنا ظلم جبر اور فسطائیت اکٹھے مل کر برداشت کر لیا ہے اور ہمارے بھائیوں نے اپنی جانیں قربان کر دی ہیں یہ سب کسی عہدے کے لالچ میں نہیں کیا
یہ سب ہم سب نے مل کر صرف ایک مقصد کیلئے برداشت کیا ہے،- @MuradSaeedPTI
For the past seven months, Imran Khan has been kept in solitary confinement. He has been denied access to his family, his personal doctors, and even basic human rights including books, which he has not been allowed for the last five months.
Today, the 12th of May, CM Sohail Afridi, along with the entire KP Assembly, members of the Punjab Assembly, members of the National Assembly, and Senators from PTI, will come to Adiala Jail to stand in solidarity with their leader, Imran Khan.
#ImranKhanUnjustlyJailed
حسان نیازی کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کی قید کو آج ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ حسان خان کو 13 اور 14 اگست 2023 کی درمیانی شب ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا سے ملٹری تحویل میں لیا گیا۔ چند دن بعد لاہور ہائی کورٹ میں فوج کی EME برانچ کے کمانڈنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جھوٹ پر مبنی کاغذی کارروائی کی اور مملکت کی اعلیٰ عدالت میں رعونت تکبر سے بھرا ایک خط SHO تھانہ سرور روڈ لاہور کے نام تھا جس میں غیر قانونی کارروائی کا برملا اعتراف تھا۔ میں SHO کو حسان خان کو فوج کے سپرد کرنے کا کہا گیا تھا، جبکہ حسان خان پہلے ہی ایبٹ آباد سے گرفتار ہو کر فوجی تحویل میں جا چکا تھا۔ ازراہِ تفنن اور اطمینانِ قلب کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ ایک طاقتور ادارہ، ایک عام شہری کی طرح جھوٹ، بزدلی اور آئین و قانون سے انحراف کا مرتکب پایا گیا اور اس معاملے میں عام شہری سے بھی زیادہ مستعد نظر آیا۔ حیف! آج اگر ریاست پچیس کروڑ عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ سے قاصر ہے تو اس کی بنیادی وجہ مقتدرہ کی بداعمالیاں، لاقانونیت اور طاقت کے بے جا استعمال کی روایت ہے۔ چنانچہ حسان خان کے خلاف غصے، انتقام اور لاقانونیت کا یہ طرزِ عمل سمجھ میں آتا ہے۔ جس انداز سے طاقتور حلقوں نے آئین، قانون اور عدالتی نظام کو روندتے ہوئے حسان خان کو لاقانونیت کی بھینٹ چڑھایا، مجھے ایسے لوگوں کی بے بسی اور اخلاقی زوال پر ترس ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت محض ایک مہرۂ ناچیز ہے، لیکن جب موجودہ اقتدار کی شیلف لائف مکمل ہو جائے گی تو جن ہاتھوں نے انہیں اقتدار بخشا، انہی ہاتھوں کے ذریعے انہیں جیلوں کا راستہ بھی دکھایا جائے گا کہ پاکستان میں سات دہائیوں سے اقتدار اور جیل کی چھپن چھپائی جاری ہے، مگر ہمارے سیاستدان اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔
مجھے اس موقع پر نہ کوئی ذاتی شکوہ بیان کرنی ہے، نہ سیاسی نعرہ بازی اور نہ نفرت کی کوئی داستان سنانی ہے۔ مجھے صرف ریاست کی حالتِ زار، اس کی کسمپرسی اور اس بدنصیب ملک کی تقدیر پر افسوس کا اظہار کرنی ہے، جہاں بے پناہ طاقت رکھنے والے اداروں کو بھی جھوٹ اور لاقانونیت کے سہارے مقصد براری کرنی ہوتی ہے۔ دہائیوں سے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کا نام دے کر پارلیمان، آئین، قانون اور عدالتی نظام کو مفاداتی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے، تمام آئینی اداروں کو بزورِ طاقت گھر کی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ بدنصیب مملکت سات دہائیوں سے یہ سب بھگت رہی ہے اور سیاسی ابتری میں نام پیدا کر چکی ہے اور ہر دس سال بعد زیرو پوائنٹ سے کچھ پیچھے اپنے سفر کا نئے سرے سے آغاز کرتی ہے۔
آج جہاں میں اپنے بیٹے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں کہ اس نے ایک ہزار دن غیر قانونی اور غیر انسانی قید و بند کو صبر، استقامت، حوصلے، جرأت اور ذہنی مضبوطی کے ساتھ برداشت کیا، جو میرے لیے باعثِ فخر ہے، وہاں مجھے اس بات پر بھی مکمل اطمینان ہے کہ وہ ظلم، غیر قانونی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود نہ ٹوٹا، نہ جھکا اور نہ ہی مایوس ہوا۔ اصل المیہ صرف حسان خان یا فرد واحد کی قید نہیں بلکہ اصل سانحہ آئینی، قانونی اور عدالتی نظام کا انہدام ہے کہ قانون اور عدالتی نظام کو پامال کر کے میرے بیٹے حسان خان کو غیر قانونی فوجی تحویل میں لیا گیا اور فوجی عدالتوں سے دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دلوائی گئی۔ اس عمل میں آئین اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے اور عدالتی نظام کو عملاً بے اختیار بنا دیا گیا۔ 14 اگست، یومِ آزادی کے دن گرفتار کیا گیا، دو سے ڈھائی ماہ تک نہ اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا، نہ خاندان کو رسائی دی گئی اور نہ قانون کے تقاضے پورے کیے گئے، گویا ریاست خود اپنے آئین اور قوانین سے ماورا ہو چکی تھی۔ دسمبر 2024 میں فوجی عدالت نے میرے بیٹے کو دس سال قید کی سزا سنائی، مگر آج 10 مئی 2026 تک نہ فیصلے کی مصدقہ نقل فراہم کی گئی، نہ قانونی جواز بتایا گیا اور نہ شفاف عدالتی کارروائی کے بنیادی اصول پورے کیے گئے۔ یہ صرف انصاف کا قتل نہیں بلکہ آئین، عدلیہ اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے خود قرار دیا تھا کہ ایسے متاثرین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ کے حُکم کے باوجود،دس ماہ سے حسان کی دائرُ درخواست ضمانت سماعت کے لئیے ایک عدد بینچ کی تلاش میں ہے، پانچ بنچوں سننے معذرت کر چکے ہیں عدالتی تاریخ کا پہلا واقع کہ سال ہونے کو ہے یہ فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ درخواست سماعت کے لئیے ہائی کورٹ بینچ کی متلاشی ہےصورتحال واضح کرتی ہے کہ ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی حکمرانی ہے۔ریاستی طاقت نے آئین، قانون اور انصاف کو پامال کر رکھاہے۔ اقتدارکا گھمنڈ اگرچہ یقین دلاتاہے کہ عروج دائمی ہے، مگر زوال ہمیشہ خاموشی سے اتا ہے اور انجام عبرتناک بنتا ہے
نورین خانم !
#imrankhan
PTI Leadership, NOW is the time when Imran Khan Needs You!
The impact of hundreds of elected members (Senators, MNAs and MPAs) of KP and Punjab assemblies at Adiala will be huge.
It WILL create the necessary pressure on this Govt (who is in power by stealing Imran Khan’s mandate) to get Imran Khan treated at Shifa International Hospital in Islamabad.
It is an urgent and necessary pressure for Dogar court to take up Imran Khan and Bushra Bibi’s bail applications and set them FREE.
Police usually arrests Imran Khan’s supporters; not the family or elected members. We appeal to Imran Khan’s supporters (who are not office holders) NOT to come to Adiala today.
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Chairman Imran Khan had already intimated the nation about the London Plan on numerous occasions. With absconder Nawaz Sharif’s return, the plan appears to be unfolding as anticipated.
State protocol, public resources, and use of public money to facilitate a convict can’t sway the public’s opinion who want nothing less than immediate, free, and fair elections.
#PTISMT
آجکل ٹاؤٹوں نے مقبولیت کا بڑا رولاڈالا ہوا ہے۔چلیں پاکستانیوں سے سروے کروا لیتے ہیں۔
آپکو ان دونوں میں سے کون پسند ہے؟
عمران خان کے لیے (1)
عاصم منیر کے لیے (2)
ٹائپ کریں۔
24 گھنٹے بعد رزلٹ جاری کیا جائے گا۔
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/fjxBaqJ87B
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
ہم اپنے والد کا مقدمہ لڑیں گے،2022 کے بعد ہزاروں سیاسی ورکرز کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ قاسم خان
اور ہم بہنوں کی بھی یہی مؤقف ہے ، جب تک سانس ہے تب تک خان صاحب کے لئے لڑتے رہیں گے!
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
”میں بہت خوش ہوں کہ حسان اس تحریک کا حصہ ہیں اور کسی مقصد کیلئے جیل میں ہیں۔ یہ سب لوگ اسی لیے محبت کرتے ہیں کہ ان کی قید کسی خاص مقصد کیلئے ہے۔“
اڈیالہ جیل کے باہر اپنے ناحق قید بھائی سے ملاقات کے موقع پر کارکنان کے ہمراہ اپنے بےگناہ قید بیٹے حسان کی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے ،
#ShameOnJudges