صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ، پاکستانی مغوی کی جذباتی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل : “'ابو ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں، عائشہ (اہلیہ) اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کرلیے گا، خدا حافظ'۔”
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
Pakistan's illegitimate military regime, through deliberate secrecy and neglect, and a systematic violation of Imran Khan's fundamental rights, as well as a blatant and criminal disregard for the country's commitments under international law, has created a medical crisis putting Imran Khan's eyesight at serious risk.
He must immediately be transferred to Shifa International Hospital for independent and transparent medical evaluation and treatment.
#SaveImranKhansEyesight
دانستہ غفلت اور سراسر غیر انسانی سلوک کے باعث عمران خان کی بینائی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ہنگامی مطالبات: شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں فوری منتقلی، ذاتی معالجین اور اہل خانہ تک رسائی، اور علاج بابت رازداری کا خاتمہ کیا جائے۔
#SaveImranKhansEyesight
مسیحا کھلاڑی بن گئے، یہ ڈاکٹر ہیں یا جلاد؟ بتایا جارہا ہے یہ لاہور کا لیڈی ولنگٹن ہسپتال ہے جس میں مریض کی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے جبکہ ڈاکٹر ز کے درمیان ہار، جیت کا مقابلہ جاری ہے۔۔۔!!!
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
دیکھیں آئی ایس پی آر صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو۔ عمران احمد خان نیازی
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2