کل جو اسمبلی میں بولے وہ غریب لوگ ہیں ان کو چٹھی آگئی، کم سے کم میرے باتوں سے انہیں تنخواہیں مل رہی ہے
چمن تقریر کے ایک ایک لفظ کو اون کرتا ہوں، دن دیہاڑے پشتون اور بلوچ علاقوں میں سڑکوں پر گاڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔
پشتون افغان اور ترک دو ایسی قوتیں تھیں جنہوں نے اپنی آزادی کبھی کسی کے حوالے نہیں ہونے دی!
جب ہم تاریخ دہراتے ہیں، تو کسی کو برا نہیں لگنا چاہیے۔ پتا نہیں افغان نام یا افغانستان کیوں لوگوں کو کھٹکتا ہے؟
افغانستان پر، الیگزینڈر برنس، موہن لال، چینی اور بدھ مت کے زائرین وغیرہ نے کتابیں لکھی ہے۔ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ پشتون متعصب یا فرقہ پرست ہیں، یا لوگوں سے نفرت کرنے والے ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ یہاں boarding and lodging بالکل مفت ہے۔
جب فاٹا کو ضم کیا گیا، تو اس دن وہ اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا۔ اعلان کر دیا گیا کہ فاٹا کو ضم کر دیا گیا ہے۔ اب جو حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہ نہ آپ سے سنبھل رہے ہیں اور نہ ہی ہم سے۔
آئین کے 3 آرٹیکل فاٹا پر لاگو تھے، ہم نے زبردستی 200 آرٹیکل ان کے گلے میں ڈال دیے۔
جو کشمیری نعرے لگاتے تھے کشمیر بنے گا پاکستان، آج لاکھوں کی تعداد میں سراپا احتجاج ہیں۔ وہ ہمارے دوست، ساتھی، محسن؟آج ہم نے ان کے ساتھ کیا کر دیا؟ یقیناً کچھ تو ہے جس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو خون کا ذائقہ لگ گیا ہے، اپنے لوگوں پر گولیاں چلانا کسی صورت درست نہیں
آج پاکستان کے جیل خانے اپنے بچوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے سروں میں سیدھی گولیاں مارتے ہیں؟
9 مئی کے بعد جو کچھ ہوا، اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ معزز گھروں کے خواتین کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ یہ ایک مافیا کا رویہ ہے۔
میرے ایک بیان کو بنیاد بنا کر درجنوں لوگوں سے پتا نہیں کیا کیا کہلوایا گیا۔
بلوچستان کے ساتھ آج بھی وہی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو ایوب خان کے دور میں نواب نوروز خان کے ساتھ رکھا گیا۔
نوروز خان کو قرآن کے نام پر باہر لایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر پھر انہیں بیٹوں و نواسوں سمیت پھانسی دی گئی۔
عطاء اللہ مینگل کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کے بچے اسد کو اٹھا لیا گیا، جسے پھر کسی نے نہیں دیکھا ۔ یہ طریقہ پاکستان چلانے کا نہیں ہے۔
ہم سب پارلیمان میں بیٹھ کر 1400 سال کی باتیں تو دہراتے ہیں لیکن ملک کے اصل اور بنیادی مسائل پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ آئین اور قانون کی برابری کی بات تو کی جاتی ہے، مگر عملی طور پر ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ملک کا سٹرکچر اور اداروں کی عزت پامال کرنے والوں پر کوئی بات نہیں کرتا
امریکہ یا بیرونی دنیا سے ملاقاتوں پر سوال اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے اندرونی فیصلوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں اس ملک کے نظام کو بچانے کے لیے سب کو مل کر سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے، ورنہ یہ ملک ایک خطرناک نہج پر پہنچ جائے گا۔
اس ملک کا وقار اب ایک کوڑی کا بھی نہیں رہا۔ دنیا کے فلاسفرز اور انسان کیا کہیں گے؟ میں عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی بقا کے لیے اس پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ پارلیمنٹ ہی سب سے سپریم ادارہ ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر ہمیشہ کی طرح بجٹ کے اہم اجلاس میں بھی سینسر کردی گئی۔
اسمبلی میں کی گئی پہلی تقریر کے بعد اب تک ان کی تمام تقریر کو سینسر کیا گیا ہے۔
جس پارٹی کا سلوگن تھا " ووٹ کو عزت دو" آج وہ ووٹ کو ذلت دے رہے ہیں، جو پارٹی کہتی تھی کہ ہم نے آئین بنایا ہے وہ آج آئین کے پرخچے اڑا رہی ہیں۔
عمران خان بیمار ہے، اس کے ملاقات پر پابندی ہے، ہم بائیکاٹ کرتے ہیں۔
UNAMA documented 13 civilian deaths and 10 injuries, mainly children and women, from airstrikes carried out in Khost, Kunar, and Paktika provinces in eastern #Afghanistan on the night of 9-10 June.
کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت محمود خان اچکزئی نے جس دلیرانہ انداز میں کی ہے یہی کشمیر کا مقدمہ ہے۔ صرف محکوم اقوام ہی محکوم اقوام کی ترجمانی کرسکتے ہیں۔ کوئی عالمی طاقت یا ان کے علاقائی کٹھ پتلی کبھی بھی محکوموں اور مظلوموں کی ترجمانی نہیں کر سکتے۔
ہم کشمیروں کے حق خود ارادیت کے مخالف نہیں۔ دنیا میں کہیں بھی آزادی کی تحریک ہو، ہم اسکو سپورٹ کرنے والے لوگ ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان بھی گڑبڑ کر رہا ہے اور ہندوستان بھی۔
کشمیر، کشمیریوں کا ہے۔ وہ ہی اس کا فیصلہ کرئیں گے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا چمن میں پشتونخوامیپ کے مرکزی جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہے