آواز ِ دروں —•—
بہت سی مثبت تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کے ریاستی نظام سے ابتک برطانوی استعماری نظام کی بدبُو کے بھبکے اٹھتے ھیں
1973 کے متفقہ آئین نے بہت سے سوالات کا جواب دیا اور بیشتر ریاستی معاملات کی پیچیدگیوں کو ایڈریس کیا، ریاست اور عوام کے ایک دوسرے کے بارے میں فرائض اور حقوق کا راستہ متعین کیا ،
لیکن آئین بنانے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت سمیت عدلیہ اور مارشل لگانے والوں نے آئین کو بے وقعت بنانے ، اسکی من چاھی تشریح کرنے اور اس سے سنگین روگردانی کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی
بارھا پاکستان کو سر زمین بے آئین بنایا گیا اور متعدد بار شخصی یا گروھی مفادات کیلئے آئین میں تحریف کی گىئ
اس کار ِخیر میں سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا لیکن نظریۂِ ضرورت والی عدلیہ اور مارشل لأ کو تمام مسائل کا حل سمجھنے والی اسٹیبلشمنٹ پہلے نمبر پر رھیں
تمام تر قربانیوں ،کوششوں اور جدوجہد کے باوجود پاکستان میں آئین کی حکمرانی قائم نہیں کی جاسکی ،
پاکستان کی بظاھر جمہوری سیاسی جماعتوں کی جمہوریت بیزاری ، عمومی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں اور ووٹ لینے کیلئے شارٹ ٹرم ناپائیدار منصوبے بھی ایک زندہ حقیقت ھیں جس سے اغماض ممکن نہیں
کافی عرصہ سے پاکستان کے ریاستی نظام کو بوسیدہ یا ناکام قرار دیتے ھوۓ قوم کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے چھوٹے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور لوکل باڈیز سسٹم کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ( آب ِ حیات ) قرار دیا جا رھا ھے
اسمیں کوئ شک نہیں کہ تمام تر کاوشوں کے باوجود رائج الوقت سیاسی و ریاستی نظام پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے میں نہ صرف ناکام رھا ھے بلکہ آۓ روز پیچیدگیوں میں اضافہ کر رھا ھے
چھوٹے صوبوں کا قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے اقدامات مناسب اور پروگیسو تجاویز ھیں ۔۔
لیکن ھمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں ھے ، ھمارے سب سے بڑے مسئلے
آئین اور قانون کی حکمرانی سے مسلسل رو گردانی ،
مطلق العنان حکمرانی ، معاشی ناھمواری ، سماجی انصاف کی عدم فراھمی ، سیاسی حقوق کی عدم دستیابی ، ھر سُو پھیلتی کرپشن اور بڑھتی ھوئ دھشت گردی ھیں ۔۔
آپ کوئ بھی نظام لے آئیں جب تک فیصلہ ساز اشرافیہ اپنے آپکو آئینی حدود تک محدود نہیں کریگی ، عوامی اضطراب کا لاوا پکتا اور کسی نہ کسی شکل میں بہتا رھے گا
چار صوبوں کو چند مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا عوامی مسائل کو دھلیز پر حل کرنے ، سیاسی اجارہ داریوں میں کمی لانے اور گُڈ گورننس کی جانب پیش قدمی کی بنیاد بن سکتا ھے ۔۔
اس مقصد کیلئے غیر متنازعہ و بااختیار پارلیمنٹ کا وجود ، سیاسی ھم آھنگی و استحکام ، وسیع تر اتفاق راۓ اور اجتماعی دانش کی ضرورت ھے ، فی الوقت ان اقدامات کے امکانات دور تک نظر نہیں آ رھے !!
اس ماحول کو پیدا کیے بغیر نئے صوبوں کے قیام کیلئے کسی بھی قسم کی قانون سازی بحرانوں سے نبرد آزما وفاق کیلئے نىئ دراڑیں اور پیچیدہ مشکلات پیدا کر سکتی ھے
افلاس ، نا انصافی اور بنیادی حقوق سے محروم پسے ھوۓ عوامی طبقات کے اضطراب کا آتش فشاں پھٹنے کے قریب ھے ، ایسا ھوا تو اسکا آتش گیر لاوا سامنے آنیوالی ھر شے جلا دیگا ۔۔
PML-N has decided to take the "reset" plan head-on. Nawaz Sharif's redlines on the matter are already out in public reflected through Rana Sana and K Asif statements and the press release after his meeting with PM Shehbaz in the presence of Mariam Nawaz and Ishaq Dar. Mohsin Naqvi's narrative might have escaped a full-on counter-punch but after DGISPR's endorsement of the "reset" idea, PML-N seems to sense that it's a speak-now-or-regret-forever moment for them.
50 سالہ دیرینہ رفاقت اور ہر مشکل موڑ پر غیر متزلزل وفاداری , قائد میاں نواز شریف اور خواجہ محمد آصف کا تعلق صرف سیاسی شراکت داری نہیں بلکہ نظریے، اعتماد اور پختہ وابستگی کی وہ مثال ہے جو حالات کے ہر گرم و سرد کا کامرانی سے مقابلہ کرتی آئی ہے
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
تصویر کا چُتھا رُخ
ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ھے، اس نظام سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہیں وزیر داخلہ محسن نقوی
ناظرین اس بیان کے بعد وفاقی حکومت کو فورا “ ایشکن “ لیتے ہوئے وزیرداخلہ سے وضاحت طلب کرنی چاہیے اور کم از کم انکی وزارتی قلم واپس لینا چاہئے اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو کم از کم تھوڑی ایتھکس دکھانی چاہیے کیونکہ وہ خود سسٹم کی تباہی تسلیم کرچکے ہیں لیکن اب تک چار چفیرے خاموشی چھائی ہوئی ہے
ڈسکلیمر تصویر کا دوسرا رُخ ابھی باقی ہے
On 30 July 2026, security forces conducted an intelligence based operation in Khuzdar District of Balochistan, on reported presence of terrorists belonging to Indian proxy, Fitna al Hindustan destroying two explosive laden vehicles along with four terrorists.
During the operation, movement of two explosives-laden vehicles configured as Vehicle-Borne Improvised Explosive Devices (VBIEDs) along with terrorists were proactively intercepted. After swift and prompt action by security forces, both vehicles were successfully destroyed alongwith neutralizing four Indian-sponsored terrorists operating them.
Sanitization operations are being conducted to eliminate any other Indian sponsored terrorist found in the area. Relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
کامران الیاس کو بے دردی سے قتل کیا صدیق جان
کامران الیاس اپنے گھر کا واحد کفیل تھا بشارتی راجہ
کامران الیاس کے خون سے انقلاب ائے گا زیشان موری
کامران الیاس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ثمینہ سٹرابری
کامران الیاس کے ظلم کا بدلہ لیں گے عمران ریاض
لاش کامران الیاس کا بیان سن لیجئے
🇵🇰 NEW: Pakistan wants to be a global robotics powerhouse. At the Indus RAS Expo 2026, it showed off its next-tech solutions for warfare, agriculture, and industry.
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر گجرات، جھنگ، سیالکوٹ اور تاج پورہ لاہور میں 200 کیوسک سے زائد کیپسیٹی کے نئے پمپنگ آؤٹ واٹر ڈسپوزل سٹیشنز فعال کر دیے گئے ہیں۔ ماضی میں جن علاقوں میں بارش کا پانی ہفتوں اور مہینوں کھڑا رہتا تھا، اب ان جدید ڈسپوزل سٹیشنز کی بدولت محض چند گھنٹوں میں نکاسی کا کام مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اس نمایاں بہتری پر شہریوں نے مطمئن ہونے کا اظہار کیا ہے۔
Protective and preemptive works along Nullah Dek in Tehsil Kamoke are progressing steadily to strengthen vulnerable sections, enhance flood resilience, and ensure effective protection for surrounding communities and infrastructure against any potential flooding.
صرف چار دن کے قلیل وقت میں ڈیزل 51 روپے جبکہ پٹرول 16 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا اور ان حالات میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی بجلی بلوں سے تنگ ہوچکی ہے اس اضافہ سے مہنگائی کا ایک اور طوفان عوام کو اپنی لپیٹ میں لے گا
میاں صاحب اللہ دا واسطہ جے غریب دیہاڑی دار عوام دے حالات بارے سوچو
🙏
Rain is being monitored through Safe Cities across Punjab, assisting WASA and district administrations in timely response and coordination. Punjab leads by example.
Gujranwala and Wazirabad have witnessed record-breaking rainfall since yesterday, surpassing all previous records. Yet, despite nearly half of Gujranwala being dug up for Metro construction and the installation of a massive sewage and drainage network, the city’s major roads were cleared within hours.
The Deputy Commissioner and his teams have been on the ground for the past 48 hours, personally overseeing operations. Without the establishment of WASA across Punjab and the availability of dedicated machinery and equipment in every district, rainfall of this magnitude would likely have left roads inundated for days.
Effective planning, institutional capacity, and continuous field supervision make a tangible difference during extreme weather events.
لگاتار دوسرے دن پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ وفاقی حکومت کا عام عوام سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی آئندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ کی توقع ہے اور شاید لون لیگ کا حال بھی ق لیگ جیسا ہونا ہے
یہ معاشی ٹیم کی نالائقی نہیں بلکہ مجرمانہ اقدام ہے