follow me, I would follow you back. doesn't matter from which party you belong
مجھے فالو کرے، میں آپ کو فالو بیک کروں گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا تعلق کس پارٹی سے ہے۔
Pakistan's PM Shehbaz Sharif credited Army Chief Asim Munir with playing an “extraordinary role” in efforts to end the Iran-US conflict https://t.co/JxpZZFegfy
حکمران اتنے کم ظرف کیوں ہیں۔۔۔۔
ملک میں ہر چھوٹے بڑے سیاسی رہنما، ہر رکنِ پارلیمنٹ اور ہر حکومتی نمائندے کی تقریر کو قومی میڈیا پر براہِ راست نشر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن جب بات قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خطاب کی آتی ہے تو گویا پوری مشینری متحرک ہو جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مولانا کے مؤقف اور آواز کو قومی میڈیا سے بلیک آؤٹ رکھا جائے۔
شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ میڈیا کی اس خاموشی سے مولانا فضل الرحمٰن کی آواز دب جائے گی، مگر یہی ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو بلیک آؤٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی عوامی قیادت کو اسکرینوں سے غائب کر کے لوگوں کے دلوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
الحمدللہ! جمعیت علماء اسلام کے ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیلوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر قومی میڈیا دروازے بند کرے تو سوشل میڈیا کے راستے کھل جاتے ہیں۔ کارکنان قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر قائدِ جمعیت کا پیغام پہنچانے میں ایسی محنت کرتے ہیں کہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کی اجارہ داری بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔
گزشتہ روز بھی پارلیمان میں مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ پاکستان بھر میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یہی خطاب موضوعِ بحث رہا، اور ہر طرف اس کے چرچے سنائی دیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی اعتماد کسی سرکاری سرپرست�� کا محتاج نہیں ہوتا۔
حکومتی حلقے ترقی اور کامیابی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جائے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ خوشامد اور تابعداری کی سیاست بن جاتی ہے۔ آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
زبان بندی کی یہ روایت نئی نہیں۔ تاریخ میں حق کی آواز کو دبانے کی کوششیں ہمیشہ ناکام ہوئی ہیں۔ بقولِ شاعر:
"زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں ہم نے"
لہٰذا بلیک آؤٹ کی پالیسیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جمعیت کے کارکنان اور ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل آج بھی میدان میں موجود ہیں، اور ان شاء اللہ حق کی آواز ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے عوام تک پہنچتی رہے گی۔
#سمیع_سواتیحکمران اتنے کم ظرف کیوں ہیں۔۔۔۔
ملک میں ہر چھوٹے بڑے سیاسی رہنما، ہر رکنِ پارلیمنٹ اور ہر حکومتی نمائندے کی تقریر کو قومی میڈیا پر براہِ راست نشر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن جب بات قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خطاب کی آتی ہے تو گویا پوری مشینری متحرک ہو جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مولانا کے مؤقف اور آواز کو قومی میڈیا سے بلیک آؤٹ رکھا جائے۔
شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ میڈیا کی اس خاموشی سے مولانا فضل الرحمٰن کی آواز دب جائے گی، مگر یہی ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو بلیک آؤٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ��وامی قیادت کو اسکرینوں سے غائب کر کے لوگوں کے دلوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
الحمدللہ! جمعیت علماء اسلام کے ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیلوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر قومی میڈیا دروازے بند کرے تو سوشل میڈیا کے راستے کھل جاتے ہیں۔ کارکنان قریہ قریہ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر قائدِ جمعیت کا پیغام پہنچانے میں ایسی محنت کرتے ہیں کہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کی اجارہ داری بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔
گزشتہ روز بھی پارلیمان میں مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ پاکستان بھر میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یہی خطاب موضوعِ بحث رہا، اور ہر طرف اس کے چ��چے سنائی دیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی اعتماد کسی سرکاری سرپرستی کا محتاج نہیں ہوتا۔
حکومتی حلقے ترقی اور کامیابی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جائے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ خوشامد اور تابعداری کی سیاست بن جاتی ہے۔ آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
زبان بندی کی یہ روایت نئی نہیں۔ تاریخ میں حق کی آواز کو دبانے کی کوششیں ہمیشہ ناکام ہوئی ہیں۔ بقولِ شاعر:
"زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں ہم نے"
لہٰذا بلیک آؤٹ کی پالیسیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جمعیت کے کارکنان اور ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل آج بھی میدان میں موجود ہیں، اور ان شاء اللہ حق کی آواز ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے عوام تک پہنچتی رہے گی۔
#سمیع_سواتی
#MaulanaInParliament
#MaulanaInParliament
'Iron brothers'
From secret nuclear cooperation to key diplomatic deals, Pakistan and China mark 75 years of ties. So what’s next? https://t.co/M5HSanPdL1
الجبرا کا بانی محمد بن موسیٰ الخوارزمی مدرسے سے پڑھا تھا ۔ جدید طب کے بانی بو علی سینا مدرسے سے پڑھا تھا اور حافظ قرآن تھے ۔جدید کیمیا کے بانی جابر حیان مدرسے سے پڑھا تھا
پاکستا�� کے مدارس دنیا کے ٹاپ مدارس میں شامل ہیں
پوری دنیا میں سب سے زیادہ حفاظ اور علماء پاکستان میں ہیں ۔
یعنی مدارس تو اپنے کام میں دنیا میں ٹاپ پر ہیں ۔
یہ بتائیں آپ کی کتنی یونیورسٹیز اور اسکلز سینٹرز دنیا میں کسی کھاتے میں آتے ہیں ؟ ۔ ہماری کوئی ایک یونیورسٹی بھی کسی قطار میں آتی ہے ؟ ۔
Pakistan's army chief Field Marshal Asim Munir was welcomed by Iranian Interior Minister Eskandar Momeni upon his arrival in the Iranian capital on May 22, 2026.
🔴 BREAKING: The chief of Pakistan’s Inter-Services Intelligence (ISI), Lieutenant General Muhammad Asim Malik is also headed to Tehran for US-Iran peace talks, according to Al Arabiya sources.
اسلام آباد:وزیر اعلیٰ سہیل کے پی سہیل آفریدی کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
وزیراعلی کی مولانا فضل الرحمان ملاقات
وزیراعلی نے شیخ ادریس کی شہادت پر مولانا فضل الرحمان سے تعزیت کی ۔
شیخ ادریس کی بلندی درجات کے لئے دعاء اور فاتحہ ��وانی
ملاقات میں کے پی میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
ملاقات میں صوبائی حقوق کے حوالے سے تفصیلی بات چیت
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے اعزاز میں عشائیہ
ملاقات وزیر اطلاعات کے پی شفیع جان بھی موجود
ملاقات میں انجینئر ضیاء الرحمان ،مولانا اسجد محمود شریک
#JUI_Against_Inflation
جو لوگ کہتے تھے کہ جمعیت علمائے اسلام مہنگائی کے خلاف کیوں نہیں نکلتی،
ان کی ا��لاع کے لیے عرض ہے کہ آج جمعیت علمائے اسلام نے ملک بھر میں مہنگائی، بد امنی اور عوامی مسائل کے خلاف سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
#JUI_Against_Inflation
جو لوگ کہتے تھے کہ جمعیت علمائے اسلام مہنگائی کے خلاف کیوں نہیں نکلتی،
ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آج جمعیت علمائے اسلام نے ملک بھر میں مہنگائی، بد امنی اور عوامی مسائل کے خلاف سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
#JUI_Against_Inflation
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ اور قائد سندھ علامہ راشد محمود سومرو صاحب کے حکم پر آج پریس کلب حیدرآباد کے سامنے منھگائی بیروزگاری بدحالی مصنوعی پیٹرول کی قیمتیں اغوا برائے تاوان کے خلاف
قائد حیدرآباد حضرت مولانا تاج ��حمد ناھیوں کے قیادت میں زبردست مظاہرہ ہوا
احتجاجی مظاہرے کو قائد حیدرآباد مولانا تاج محمد ناھیوں صاحب صوبائی ناظم حاجی عبد المالک ٹالپر صاحب حافظ خالد حسن دھامراہ حافظ محمد اعظم جھانگیری مولانا سعید احمد ٹالپر مولانا شمس الھادی مولانا قاری کامران احمد مولانا علم الدین سومرو نے خطاب فرمایا
شرکاء نےخطاب کرتے ہو ئے کہا کہ منگائی عام لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور لوگ خد کشیاں کر رہیں ہے
سندھ میں قانون کی کوئی چیز نہیں ہے
مظاھرین نے حکومت کے خلاف سخت نعربازی کی
اور فلک شگاف نعروں سے حیدرآباد گونج اٹھا
#JUI_Against_Inflation
جو بھی بات ہوتی ہے کہتا ہے مولانا صاحب کدھر ہیں تو میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج مولانا صاحب نکلا ہے لیکن آج آپ کو بھی چاہئے تھا کہ آپ بھی نکلتے لیکن ��فسوس آپ اڈیالہ سے فارغ نہیں ہوتے
امیر محترم حضرت مولانا امانت شاہ حقانی صاحب کا مردان احتجاج میں خطاب💯
#JUI_Against_Inflation
قائد جمعیت حضرت مولا��ا فضل الرحمٰن صاحب کے حکم پر جمیعت علمائے اسلام ضلع میرپورخاص میں مولانا عبدالعزیز ہاشم صاحب کے زیر صدارت اسٹیشن چوک سے لیکر میرپورخاص پریس کلب تک مہنگائی اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا-
ریلی میں جےیوآئی صوبائی رہنما حاجی رفیق احمد سومرو صاحب جےیوآئی سینیئر نائب امیر مولانا محمد ابراہیم مہر صاحب ودیگر رہنماؤں نے خطاب کیا
ریلی میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنان نے کافی تعداد میں شرکت کی
ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیوآئی ضلع میرپورخاص
#JUI_Against_Inflation