بیچے جانے والے سکول عوام سے فیسیں بھی مانگے رہے غریب لوگ روت�� رہے کہ ہمارے پاس دو کلو آٹا نہی ہم کہاں سے فیسیں دیں ؟
آٹھ سو ارب کے بجٹ میں آپ سوشل میڈیا ٹیمیں بہت بڑی بنا سکتے مگر حقیقت کی دنیا بہت الگ ہے
سکول بیچنا غلط تھا غلط ہے غلط رہے گا
فرعونیت اپنے عروج پر ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زمین پر رکھی سبزی جو کسی کا رزق ہے بلکہ اللہ کی نعمت ہے اس پر بوٹ رکھے اکڑا کھڑا ہے
پیرا فورس کی حرکتیں ملاحظہ فرمائیں میں نے آپ تک یہ بات پہنچائی ہے اب آپ اسے ہر جگہ پہنچائیں ان کو آئینہ دکھائیں
اسے زیادہ سے زیادہ ہر طرف شئیر کیججے تاکہ لوگ آگاہ ہوں جو بھی والدین یہ خبر پڑھ رہے کبھی کسی حال میں بچوں کو انجکشن مت لگوائیں اگر بہت ضروری ہو تو اپنے سامنے نہی سرنج استعمال کروائیں استعمال شدہ سرنج موت ہے
اگر اس لڑکی نے بروقت موبائل کا کیمرہ آن نہ کیا ہوتا تو شاید آج ایک بڑا سانحہ پیش آ چکا ہوتا۔
گزشتہ شام پولیس کے چند اہلکاروں نے ایک گھر پر ریڈ کیا۔ مبینہ طور پر سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے گھر میں موجود خاتون پر کلہاڑی سے حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اللہ پاک نے اسے اپنی حفظ و امان میں رکھا۔
جیسے ہی خاتون کی بیٹی نے ویڈیو ریکارڈنگ شروع کی، اہلکار گھبرا گئے اور کلہاڑی سمیت وہاں سے فرار ہو گئے۔ کچھ اہلکار موٹر سائیکل پر اپنے ساتھی کو چھوڑ کر بھاگ نکلے جبکہ دوسرا کئی میٹر تک پیدل بھاگتا رہا۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر کیمرہ آن نہ ہوتا تو اس خاندان کے ساتھ کیا ہوتا؟ ہم متعلقہ حکام اور ڈی پی او صاحب سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزام ثابت ہو تو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یقیناً ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بھی خدمت کے مواقع کے منتظر ہیں — انہیں آگے آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
جب کمینے عروج پاتے ہیں۔۔
اندازہ کریں والدین نے اس نوجوان کی کس قسم کی تربیت کی ہے۔ یہ ٹک ٹاک ویڈیو یقینا اس کی ماں باپ بھائی یا بہن یا باقی رشتہ داروں نے دیکھی ہوگی۔ کسی کو زرا برابر شرمندگی محسوس ہوئی ہوگی کہ واقعی یہ ہماری نسل ہے؟
اندھا دھند پیسہ، درجنون لگژری گاڑیاں یا دولت آ جانا کافی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی زندگی میں کچھ اہم ہوتا ہے۔۔ جیسے تہذیب تمیز عزت احترام اور ظرف جس کی اس نوجوان کو شدت سے ضرورت تھی لیکن وہ سب چیزیں اتنی مہنگی تھیں کہ اس کے والدین اس کے لیے نہیں خرید سکے جس سے عمر بھر وہ عزت کماتا۔
بچے جو کچھ گھر میں دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ بچوں کے ابتدائی رول ماڈل والدین ہی ہوتے ہیں۔ باہر کا اثر بعد میں پڑتا ہے۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں اس کے گھر میں والدین اس کے گھریلو ملازمین ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ہوں گے۔ یہ وہی کچھ کررہا ہے جو اس نے بچپن سے اپنے گھر ماں باپ کو کرتے دیکھا ہے۔