"یہ جو دہشتگردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے"
چند سال پہلےمریم نواز کی تقریر کے دوران یہ نعرہ گونجتا تھا
اب یہ دوسروں پر غداری، دہشتگردی کے فتوے بانٹتی ہیں
ویسے اس حکومت نےتو مجھ پر بھی دہشتگردی کا مقدمہ بنا رکھا ہے ایک ایسے شہر میں، جہاں میں موجود ہی نہ تھی
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دیگئی تھی ، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دیگئی ہے ، لیکن فلم وہی ، اسکرپٹ وہی ، ہدایت کار وہی ، بس کردار اپڈیٹ ہوگئے، نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔۔
یہ آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے ذریعہ بنی جعلی ویڈیوز کا دور ہے لیکن نواز شریف کی طرف سے شفیع نقی جامی صاحب کو BBC کے لئے دئیے گئے انٹرویو کی یہ ویڈیو اصلی ہے جس میں نوازشریف صاحب سے پوچھا جا رہا ہے کہ ANP اور PPP پر حملے ہوتے ہیں PML-N اور PTI پر حملے کیوں نہیں ہوتے جواب میں نواز شریف صاحب کہتے ہیں زرداری حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیوں نہیں کئے؟
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
Pakistan under dictatorship of Asim Munir:
23% extreme poverty
168th on Human Development
25–26 million children out of school
#1 on the Terrorism Index
While India and Bangladesh moved forward, Pakistan under military dominance went backwards.
These are not accidents. These are the results of a system that prioritizes power over people.
#ReleaseImranKhan
🚨فضل الرحمان کے اربوں روپے کے اثاثے اورذرائع آمدن پر سوالات اٹھنے لگے، مالی شفافیت پر حقائق سامنے لانے کا مطالبہ، قوم کو بتائیں کہ ان کے اور ان کے بیٹوں کے اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں؟ کیا یہ تمام جائیدادیں جائز آمدن سے حاصل کی گئی ہیں؟
Behind closed doors, high-stakes political deals and multi-billion-dollar mineral agreements are being signed at the expense of ordinary citizens.
While foreign powers and domestic elites barter over rare resources across 12 strategic districts, the true human cost is borne by innocent communities whose homes and lives are caught in the crossfire.
History shows a repeating cycle where elite pacts translate to public devastation. The world needs to look closer at what is happening on the ground: resource exploitation masked as development, backed by surveillance and force, paid for in blood.
#ReleaseImranKhan
تم نے آئین کو توڑ دیا، عدلیہ پر قبضہ کر لیا، میڈیا کو دبا دیا، تاکہ تمہارا جرم چھپ سکے،
تم نے ہمارے بچوں پر گولی چلائی اور انہیں شہید کر دیا، کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے،
تم نے ہمارے ملک کا سودا کیا، پاکستانی عوام اور فلسطین کے ساتھ غداری کی، کہ دنیا تمہاری عزت کرے گی،
تم چاہے کوئی بھی حربہ استعمال کر کے دیکھ لو، تم ناکام تھے، تم ناکام ہو، تم ناکام رہوگے، تم ناکام ہو!!
#گولی_کیوں_چلائی
#ReleaseImranKhan