ایک جنرل کے مشورے پر پارٹی کا اعلان کیا۔ دوسرے جنرل نے ۲۰۱۰ میں لوگوں کو شمولیت بالجبر پرمجبور کرکے ان کی پارٹی بنائی۔ تیسرے جنرل نے ان سے دھرنے کروائے۔ چوتھے جنرل نے ان سے لاک ڈاون کروایا۔ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور جنرل آصف غفور نے انہیں اقتدار دلوایا اور پھر ان کی حکومت چلوائی۔ انہوں نے کبھی کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کسی جنرل کے حکم کے بغیر کیا نہیں کیا۔ اس لئے شاید وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ انہوں نے جنرل کے مشورے پر اسمبلیاں توڑیں لیکن شاید وہ ایک جنرل کے نام کو دوسرے جنرل کے نام سے کنفیوز کرگئے کیونکہ جنرل باجوہ تو نومبر۲۰۲۲ میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے اور صوبائی اسمبلیاں عمران نے پانچ ماہ بعد جنوری ۲۰۲۳ میں توڑیں۔ اس لئے عمران خان تصحیح کرکے جنرل کے لفظ کے ساتھ اصل جنرل کا نام بھی بتادیں جن کے کہنے پر انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ وہ بتانے سے شرماتے یا ��ھبراتے ہیں تو ان کا کوئی سہولت کار صحافی مشورہ دینے والے اصل اورسہولت کار جنرل کا نام بتادیں۔ اتناتو بتادیں کہ جنرل حاظرسروس ہے یا ریٹائرڈ؟۔ اگست ۲۰۲۲ کے بعد تو جنرل باجوہ کی ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ کہیں کوئی موکل تو جنرل باجوہ کے روپ میں مشورہ دینے نہیں آیا تھا؟
@Zain_ul7@FactFocusFF@shumaisarehman Definitely it will be a joke for you guys. But IK been used as tissue paper and will regret what he had done with NS.
@Zain_ul7@FactFocusFF@shumaisarehman What about the NS case? He got dis qualified on not declaring salary which he didn't received from his son. Goes around comes around !