تم نے لاسٹ ٹائم کہا تھا کہ ایران نیوکلر ویپن نہیں بنا رہا تم نے ایسا کہا تھا یا نہیں کہاتھا ،مجھے ہاں یا نہ میں جواب دو ،میرا وقت ضائع نہ کرو۔
تم لوگ اگر کہتے ہو کہ کوئی خطرہ ایران سے نہیں ہے تو پھر ٹرمپ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ہمیں خطرہ ہے اور وہ جو مرضی کرتا پھرے ۔اس کا مطلب ہے ٹرمپ کو اپ لوگوں کے کام کی کوئی پرواہ نہیں ،تو پھر تم لوگ اپنی کام چھوڑ دو ۔
@mkatju Sir we respect you we just like to suggest that out of curiosity intellectual honesty,u consider exploring- researching the Quran at least once in your life.Even from a neutral point of view
it can offer insights into history philosophy human thought that are worth understanding
The attack on Shahzad Akbar(@ShazadAkbar) in the UK is deeply alarming!
This is the second time he has been targeted after fleeing Pakistan for safety.
It is important to note that this incident comes in the context of recent public remarks made about him in a press conference by DGISPR, which were widely perceived as hostile.
Britain has traditionally been a safe haven for politically victimized people. That principle must not be compromised.
I hope UK authorities conduct a thorough investigation and ensure his protection.
@Keir_Starmer@UKHomeOffice@metpoliceuk@10DowningStreet
@shivgulam @itsrealarsh First fix your Rafale jets before trolling Pakistan. 😉
PAF already turned your “super jets” into smoke — remember the 6–0 score in real war, not cricket.
You play matches, we win battles. 🇵🇰✈️
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2