نائن الیون کیس؛ مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کے اعترافی بیانات مسترد،خالد شیخ محمد کےاعترافی بیانات کو امریکی ملٹری جج نےناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی اہلکاروں کے سامنے اعترافات رضاکارانہ نہیں، سی آئی اے کے تشدد کے بعد حاصل کیے گئے اعترافی بیانات قابل قبول نہیں۔فوجی عدالت نےامریکی استغاثہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کے امکان پر غور کرنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دے دی ہے،عدالت کےفیصلے کے بعد استغاثہ کی جانب سے کیس میں پیش کیے جانے والے اہم شواہد کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
وفاق کے زیرانتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ فوری شروع کرنے کا حکم,وزیرصحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پروزارت صحت نے مراسلہ جاری کردیا، جس میں تمام اسپتالوں کا جامع فائرسیفٹی آڈٹ مجاز اور ماہر فائر سیفٹی کمپنی کے ذریعے کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلےکےمطابق اسپتالوں میں فائر الارم،فائرفائٹنگ آلات،ایمرجنسی ایگزٹ اورانخلا کےراستوں کاتفصیلی جائزہ لیاجائےگا،جبکہ بجلی سمیت دیگرممکنہ فائر ہیزرڈز، ایمرجنسی رسپانس اورعملےکی تیاری بھی جانچی جائے گی۔ آڈٹ کےدوران سامنے آنے والی فوری خطرے کا باعث بننے والی خامیوں کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے گا،
سیاسی جماعتوں کیلئے آج آخری دن! پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشوارے جمع کرا دیے،جمع کرائے گئے مالی گوشواروں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے آڈٹ شدہ مالی گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے۔پی ٹی آئی کی جانب سے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس رپورٹ کے ساتھ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا بیانِ حلفی بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے سالانہ آمدن اور اخراجات کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی ہے۔سیاسی جماعتوں کو فنڈز کے ذرائع، اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
پمز اسپتال میں آج ہائی لیول انسپیکشن ٹیم کے دورے کا امکان،پمز کے کلینیکل اور نان کلینیکل شعبوں کے سربراہان کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ،پمز انتظامیہ کو تمام شعبہ سربراہان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔شعبہ سربراہان کو ماتحت عملے کی بروقت حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی جانب سے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔انسپیکشن کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور معلومات دستیاب رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے
یوٹیوب پر اے آئی ڈاکٹرز کےبڑھتے ہوئے گمراہ کن دعوے: بزرگ افراد ان کا آسان شکار کیوں بنتے ہیں؟
لوئز فرنانڈو ٹولیڈو،بی بی سی نیوز برازیل
82 سالہ سیلی فریرا یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ رہی تھیں جب سکرین پر ایک ڈاکٹر نمودار ہوئے اور انھوں نے مشورہ دیا کہ پھل کھانے سے بینائی کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فریرا کو یہ مشورہ قابلِ یقین لگا، لیکن حقیقت میں نہ یہ کوئی حقیقی طبی چینل تھا اور نہ ہی اس ڈاکٹر کا کوئی حقیقی وجود تھا۔ ان کا چہرہ اور آواز مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔اگرچہ یوٹیوب نے ویڈیو کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا تھا، لیکن اسے تقریباً تین لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا اور اس پر سینکڑوں تبصرے بھی کیے گئے تھے۔ فریرا نے بی بی سی کو بتایا کہ لیبل موجود ہونے کے باوجود وہ سمجھتی رہیں کہ وہ ایک حقیقی ڈاکٹر کی بات سن رہی ہیں۔یہ اس نوعیت کا کوئی پہلا یا واحد واقعہ نہیں ہے۔ ایک تحقیقات میں پرتگالی زبان کے کم از کم 29 ایسے یوٹیوب چینلز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹرز کی ویڈیوز موجود ہیں اور ان ویڈیوز کو مجموعی طور پر کم از کم سات کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔بی بی سی نیوز برازیل نے کم از کم 50 ایسے یوٹیوب ٹیوٹوریل چینلز بھی تلاش کیے ہیں جہاں اے آئی ڈاکٹرز کے ذریعے ویڈیوز بنانے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ یہ مواد پرتگالی، انگریزی، ہندی، ہسپانوی، فرانسیسی، اطالوی، پولش، جرمن اور ترک سمیت مختلف زبانوں میں دستیاب ہے۔ان ویڈیوز بنانے والے افراد بزرگ صارفین کو منافع بخش ناظرین سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں بزرگوں کے پاس ویڈیوز دیکھنے کے لیے زیادہ وقت اور مصنوعات خریدنے کے لیے قابلِ خرچ آمدن موجود ہوتی ہے۔ایک حقیقی ڈاکٹر، جن کی تصویر ان جعلی ویڈیوز میں استعمال کی گئی، نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ڈاکٹرز کی جانب سے دی جانے والی طبی معلومات کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ بزرگ افراد کے لیے ’جان لیوا نقصان‘ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کے قواعد اے آئی سے تیار کردہ مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ایسی طبی غلط معلومات کی اجازت نہیں جو حقیقی دنیا میں سنگین نقصان کا باعث بن سکتی ہوں۔ان ویڈیوز کا طریقہ کار سادہ ہے، سفید کوٹ پہنے ایک پُراعتماد چہرہ، پرسکون مصنوعی آواز میں خبردار کرتا ہے کہ کوئی عام خوراک، دوا یا روزمرہ عادت بزرگ افراد کی صحت کو خاموشی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کے بعد ویڈیو میں بظاہر نظر انداز کیے گئے کسی علاج یا حل کی تجویز دی جاتی ہے۔کچھ صورتوں میں یہ ڈاکٹر مکمل طور پر فرضی ہوتے ہیں، جبکہ بعض ویڈیوز میں حقیقی ڈاکٹرز کے چہرے، آواز یا شناخت کو ان کی اجازت کے بغیر اے آئی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ناظرین کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ طبی مشورہ کسی مستند ڈاکٹر کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹرز استعمال کرنے والے پرتگالی زبان کے 29 یوٹیوب چینلز کی نشاندہی برازیل کی غیر منافع بخش صحافتی تنظیم ’کنٹرول زی‘ کی ایک رپورٹ میں کی گئی۔بی بی سی نیوز برازیل نے ان چینلز کا جائزہ لینے کے ساتھ مزید ایسے چینلز اور ان میں پائے جانے والے رجحانات، بشمول ملتے جلتے عنوانات، تلاش کیے۔تحقیق کے دوران ان یوٹیوب چینلز کی ویڈیوز پر کیے گئے تقریباً 27 ہزار تبصروں کا جائزہ لیا گیا اور ایسے صارفین کے تبصرے تلاش کیے گئے جنھوں نے بتایا تھا کہ ان ویڈیوز میں دیے گئے مشوروں کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آئی۔درجنوں تبصروں میں خود کو بزرگ ظاہر کرنے والے صارفین نے بتایا کہ انھوں نے اے آئی ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے گھریلو علاج شروع کیے یا پہلے سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال بند کر دیا۔ایک صارف، جس نے اپنی عمر 85 سال بتائی، نے دعویٰ کیا کہ اس نے معدے میں تیزاب کی پیداوار کم کرنے والی دوا ’اومیپرازول‘ کے بجائے شکر قندی کھانا شروع کر دی۔ ایک اور 77 سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ تین سال سے ڈاکٹر کے پاس نہیں گئی اور الزائمر کے بارے میں مشورہ دینے پر اے آئی ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا۔بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے دریافت کیے گئے یوٹیوب ٹیوٹوریلز میں تربیت دینے والے افراد مشورہ دیتے ہیں کہ ویڈیوز کے عنوانات اور سکرپٹس میں خوف اور عجلت کا احساس پیدا کیا جائے تاکہ ناظرین کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ انھیں صحت سے متعلق کسی فوری خطرے کا سامنا ہے۔ان ویڈیوز کے تخلیق کار یوٹیوب پر ویوز سے آمدنی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چینلز پر تشہیر کیے جانے والے ای بکس اور دیگر مصنوعات فروخت کرکے بھی پیسے کماتے ہیں۔ برازیل میں مقیم ایک ٹیوٹر جیف کومبرا نے بتایا کہ ایسے ویڈیوز بنانے والے افراد ماہانہ 30 ہزار ریئس تک کما سکتے ہیں۔ایک اور ویڈیو میں انھوں نے خوف پیدا کرنے والے اندازِ بیان کا طریقہ سمجھاتے ہوئے مثال دی کہ ناظرین سے کہا جائے کہ ’سونے سے پہلے اس چیز سے محتاط رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ نیند میں ہی مر جائیں۔‘بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد ان کی ایک ویڈیو تک عوامی رسائی روک دی گئی۔کومبرا نے ایک بیان میں کہا کہ ’جن اے آئی چینلز کو ویڈیوز میں دکھایا گیا تھا، وہ ان کے اپنے چینلز نہیں بلکہ صرف مثالیں تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اے آئی کی مدد سے معلوماتی مواد تیار کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں، ایسا مواد نہیں جو طبی ماہرین کی جگہ لینے کے لیے بنایا جائے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کا مقصد یوٹیوب کے قواعد یا دیگر ضوابط کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں تھا۔‘
’ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں‘
ہم نے یوٹیوب کے کم از کم پانچ ایسے چینلز کی نشاندہی کی ہے جہاں برازیل کے ایک معروف ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر ان کی تصویر استعمال کرتے ہوئے صحت سے متعلق خوف پیدا کرنے والے دعوے اور ایسے قدرتی علاج تجویز کیے جا رہے تھے جنھیں بظاہر تجویز کردہ ادویات کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔ہیلیو برازیلیرو کا یوٹیوب چینل کئی برس سے موجود ہے اور اس کے تقریباً تین لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ انھوں نے اب ان ویڈیوز کے بارے میں یوٹیوب کو شکایت کی ہے اور ساؤ پاؤلو میں پولیس رپورٹ بھی درج کرائی ہے۔اپنی تصویر کے غلط استعمال کے علاوہ ڈاکٹر برازیلیرو کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ان کی تصویر کے ساتھ طبی مشورے دیکھنے کے بعد بزرگ ناظرین اپنی تجویز کردہ ادویات لینا بند کر سکتے ہیں۔انھوں نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ ’جو لوگ یہ مواد بناتے ہیں ان میں ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس طرح پیسہ کمانے کی کوشش بزرگ افراد کے لیے جان لیوا نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔‘ساؤ پاؤلو کے البرٹ آئن سٹائن سرائیلائٹ ہسپتال میں امراضِ معدہ کے ماہر ڈاکٹر جائم زالادیک گِل کے مطابق سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مریض غیر مؤثر چیزوں کا استعمال شروع کر دیں، جس سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے یا اس کی تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ مریض کا مناسب طبی معائنہ اور تشخیص کی بہتر سہولت فراہم کی جائے، نہ کہ صرف ایک ایسی ویڈیو سامنے آ جائے جس میں دعویٰ کیا جائے کہ فلاں چیز آپ کے تمام مسائل حل کر دے گی۔‘برازیل کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کو جھوٹا ڈاکٹر ظاہر کرنے والے اے آئی مواد کے تخلیق کاروں کو فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ ’ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کے قواعد اے آئی سے تیار کردہ مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ایسی طبی غلط معلومات کی اجازت نہیں جو حقیقی دنیا میں سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہوں۔‘کمپنی کے مطابق ویڈیوز پر لگائے جانے والے لیبل ناظرین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کوئی مواد تبدیل کیا گیا ہے یا اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔بی بی سی نیوز برازیل کی جانب سے ’کنٹرول زی‘ کی جانب سے کی گئی نشاندہی کے بارے میں یوٹیوب سے رابطہ کیے جانے کے بعد کمپنی نے تحقیقات میں شامل بعض بڑے چینلز کو ہٹا دیا۔ ان چینلز کی ویڈیوز کو مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ 10 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔دوسری جانب 82 سالہ سیلی فریرا کا کہنا ہے کہ ’وہ آن لائن دیکھی جانے والی معلومات کو بہتر طور پر سمجھنے اور حقیقی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا سیکھنا چاہتی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی عمر کے لحاظ سے میں خود کو کمپیوٹر کے استعمال میں کافی بہتر سمجھتی ہوں، لیکن پھر بھی مجھے نہیں معلوم کہ اے آئی سے تیار کردہ چیز اور حقیقی چیز میں فرق کیسے کیا جائے۔‘
نعیم قاسم کا لبنان اسرائیل معاہدے سے ایک بار پھر انکار، ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘
لبنان کی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘انھوں نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ’ہم فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات اس وقت شروع ہوئے تھے جب دو مارچ کو حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے کے بعد جنگ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حملوں اور لبنان میں زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جون کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے تھے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کا مرحلہ وار انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ اس عمل کا آغاز ’ٹیسٹ زونز‘ سے ہونا ہے۔نعیم قاسم نے اس معاہدے کو ’ناجائز، غیر قانونی، توہین آمیز اور لبنان کی خودمختاری کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ ’حزب اللہ ٹیسٹ زونز اور کسی بھی تصدیقی طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔‘انھوں نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد کی حمایت بھی کی اور کہا کہ ’ہم سر بلند رکھیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے
نیپال کو سیلاب سے نمٹنے کیلئے تکنیکی مدد درکار، تعمیرِ نو کیلئے اربوں ڈالر کا تخمینہ
نیپال میں کم از کم 626 افراد اور چین کے تبت میں 7 افراد ہلاک ہوگئے
نیپال نے ہفتے کو خراب موسم کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں معطل کردیں اور کہا ہے کہ تبت سے متصل علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لیے اسے بیرونی تکنیکی معاونت درکار ہے۔وزیرخزانہ نے رائٹرز کو بتایا کہ 3 کروڑ آبادی پر مشتمل غریب ہمالیائی ملک کو بدھ کو آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر کی بھی ضرورت ہوگی۔گلیشیئر کے منہدم ہونے کے نتیجے میں چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل سیلابی ریلہ بدھ کو پہاڑی دریائی نظام میں انتہائی تیزی سے بہہ نکلا جس کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم 626 افراد اور چین کے تبت میں 7 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ راستے میں آنے والی عمارتیں، پل اور بجلی گھر بھی اس کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔تقریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں جن میں تقریباً 2,426 نیپال اور کم از کم 558 تبت کے گیرونگ کاؤنٹی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی بھی شامل ہیں جن میں بڑی تعداد بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو یاتریوں کی ہے۔
نیپال کو خصوصی نوعیت کی امدادی مدد درکار بری طرح متاثرہ ضلع رسووا کے اعلیٰ سرکاری افسر نریندر پریار نے رائٹرز کو بتایا کہ بارش اور دھند کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت توجہ زمینی ذرائع آمدورفت کا انتظام کرنے پر مرکوز ہے تاکہ بچائے گئے یاتریوں کو دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا جاسکے۔حکام نے جمعہ کو بھی مختصر وقت کے لیے امدادی کارروائیاں معطل کردی تھیں، جب نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب کے نتیجے میں بننے والی ایک جھیل کا پانی نیپال کے دریائے لہندے کھولا اور دریائے تریشولی میں بہہ نکلا۔یہ جھیل سیلاب سے متاثرہ علاقے کے بالائی حصے میں واقع ان دو جھیلوں میں سے ایک ہے جن کی نیپال نگرانی کر رہا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ جب تک دونوں جھیلوں کا پانی مکمل طور پر خارج نہیں ہوجاتا، سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا۔
اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے سانحہ پمز کی رپورٹ وزیراعظم کو جمع کروائی، رپورٹ رات گئے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے آفس میں جمع کروائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ توقیر شاہ نے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوا دی ہے اور اس کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کردیا ہے۔انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوانے کی تصدیق کردی ہے، اور رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا ہے۔، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں جبکہ فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔
ڈی آئی خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 6 پولیس اہلکار زخمی, ٹانک روڈ پر ہتھالہ کے قریب دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پولیس کی ایک گاڑی الٹ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کفایت اللّٰہ اور ایس ایچ او ہتھالہ نفری کے ہمراہ چھاپے کے لیے جا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔پولیس کی جوابی کارروائی پر دہشت گرد فرار ہو گئے جبکہ زخمی پولیس اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکا کا عراق کےکردستان ریجن کی فوجی امداد ختم کرنےکا منصوبہ،برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور کردستان کے درمیان سکیورٹی معاہدہ ستمبر میں ختم ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہ ختم ہونے سے متعلق امریکی محکمہ دفاع نے کرد حکام کو آگاہ کر دیا کہ سکیورٹی معاہدے کی تجدید کا امکان نہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کرد فورسز کو رواں سال 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالرامریکی امداد ملی تھی۔
اردوان اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ، ترک صدر نے کھری کھری سنادی،ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ترکیہ سے نہیں ڈرتا، ہم کئی سلطنتوں کے آنے جانے کے باوجود باقی ہیں۔اس پر ترک صدر نے جواب دیا کہ کون سی سلطنتوں کی بات کر رہے ہو؟ تمہارا ملک تو عمر میں میرے بھائی سے بھی چھوٹا ہے۔
ایران نے ہرمز کھلنے سے متعلق امریکی دعویٰ مسترد کردیا ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی دعوے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے خاتمے تک آبنائے ہرمز پر پابندیاں رہیں گی۔
زیلنسکی کا روس پر روزانہ ہزار ڈرون حملوں کا حکم،یوکرینی صدر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ہمارا واضح ہدف ہے اور ہم اسے ہر صورت پورا کریں گے۔ روس کے حملوں کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو موثر بنانا ہے۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ بنیادی ہدف شاہد ڈرونز کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط اور روس پر حملوں کی شدت میں اضافہ کرنا ہے۔
جنگ چھٹے ماہ میں داخل، ایران کا دشمنوں کو ’سرپرائزز‘ دینے کا عندیہ،ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی ان سرپرائزز کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، تاہم دفاعی صنعتوں میں جاری کام، ایرانی علم و صلاحیت اور ایرانی نوجوان ان شاء اللّٰہ اچھے سرپرائزز سامنے لائیں گے۔سب کو بالخصوص دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ مقررہ وقت پر ایران کے ان سرپرائزز سے آگاہ ہو جائیں گے۔
ایران کا امریکی پابندیوں کیخلاف ڈٹ جانے کا اعلان، سفارتکاری اور دفاع کو ناگزیر قرار دے دیاایران نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ ملکی مفادات، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سفارت کاری اور دفاع ایک دوسرے کے لیے معاون، مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ سفارت کاری اور دفاع دونوں محاذوں پر بیک وقت کام جاری رکھیں گے۔ ایران ملکی معیشت کے استحکام کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے بھی اپنی پالیسی جاری رکھے گا۔
میرے 30 ہزار ووٹ تھے، پی ٹی آئی امیدوار کے 31 ہزار ووٹ تھے، مجھے فارم 47 نکال کر دے دیا، میں نے انکار کردیا۔ میں نواز شریف تھوڑی بن سکتا تھا کہ 70 ہزار جعلی ووٹ سے فارم 47 لے کر بیٹھ جاتا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
مصطفی کمال ایک پولنگ اسٹیشن بھی نہیں جیتے لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم کو کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے نشستوں پر کامیاب کروادیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
وزیرداخلہ محسن نقوی کا گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس پر چھاپہ۔
پاسپورٹ آفس وقت سے پہلے بند ہونے پر وزیرداخلہ نے پورا عملہ معطل کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا