ایک غریب شخص کے جنازہ سے پہلے امام صاحب نے شرکاء سے کہا
"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ سوگواران میں ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔جس کا عدت کے ایام میں کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ اللہ کی رضا کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق جو جتنی رقم دے سکتا ہے وہ وہاں ڈال دے۔"
ایک لاکھ روپے سے زائد رقم اکٹھی ہوئی تعزیت صرف دعا کرنے کا نہیں مشکل گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔
( منقول )
یونین کونسل میں پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا اندراج موبائل فون پر کرانے کی سہولت
پنجاب کے تمام اضلاع، صوبہ سندھ کے 6 اضلاع (کراچی شرقی، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ، جامشورو، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہٰیار) اور صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں دستیاب ہے۔
@SSEHBAI1 Sochni ke liye Zehn ka Hona Zarooori he na ke Pait Ka Bhai Jaan Tou Faqat Pait Ke Pujarai aur Lafzooon men Zakhira Faqat Khushamdi Alfaaz ka Rakhti hn Sochni Samjhni Se Warraich Sb Ka Dooor Door taak Koi Taluq nhn... @SSEHBAI1
غیرقانونی اور ناجائز طریقے سے تعمیر کردہ مسجد ہو یا مدرسہ، اخلاقی، شرعی اور قانونی لحاظ سے ناجائز کہلائی جائے گی اور اسے گرانے کا عمل جائز قرار پائے گا۔
تاہم یہ کام اگر وہ حکومت کرے جو خود ناجائز اور جعلی ووٹوں سے حکومت میں آئی ہو تو پھر اس پر اعتراضات اٹھیں گے اور بجا طور پر اٹھیں گے۔
ہمیں ہر وہ عمارت، ادارہ اور عہدہ گرانا ہوگا جس کی بنیاد ناجائز اور غیر قانونی ہو!!!
بچوں کو کولڈ ڈرنکس، سلانٹی، برگر، پیزا اور بازاری چیزیں کھلانے سے معدہ پر کیا اثرات ہوتے ہیں، اس ویڈیو میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے،،
بہتر یہی ہے کہ گھر کی بنی ہوئی ہوم میڈ چیزیں ہوں 👍
مجھے بہت خوشی ہے کے اللہ تعالیٰ کے کرم اور دوستوں کی مدد سے والد صاحب کے افسانوں کا مجموعہ "چھالے اور کروٹیں" پرنٹ ہو کر بک اسٹورز میں آ گیا ہے- یہ کتاب ہر بڑے اسٹور پر بک کارنر ، جہلم , کےتعاون سے دستیاب ہوگی -
اگر خرید سکیں تو ضرور لیں ، کئی دوستوں کو، انکی خواہش کے مطابق ، انکے پاکستان میں پتے پر میں بھیج بھی سکتا ہوں- محترم ادیبوں، پروفیسرز اور اردو ادب کے اداروں کو بھی بھیجوں گا - سب سے گزارش ہوگی کے پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں اور جب ہو سکے اس پر تبصرہ اور ریویو کریں -
جن دوستوں کو کتاب پاکستان میں چاہئیے مجھے اپنا ایڈریس اور فون نمبر ای میل کر دیں، انشا الله جلد بھیج دی جاےگی : ملک سے باہر کچھ ہفتوں بعد دستیاب ہوگی - نیازمند
[email protected]
یہ ھے وہ بابا کھڑک سنگھ جس کے کھڑکنے سے کھڑکتی ھیں کھڑکیاں اور کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکھتے ھیں کھڑک سنگھ ۔
تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔
بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔
جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، " تیرے شہر میں سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔
( اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے )
تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں"
مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔
وائسرائے نے پوچھا: نام
بولے "کھڑک سنگھ"
تعلیم ؟
بولے : کیوں سرکار ؟
مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟
وائسرائے ہنستے ہوئے بولے:
سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے، آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔
1/6