فوج نے جناح ہاؤس خرید کر اپنا کھانے پینے کا میس بنا دیا تھا اورقائد اعظم کو واپس نہیں کیا کچھ پیسے پکڑا دیے. انہوں نے عدالت میں کیس بھی کیا مگر انھیں گھر واپس نہیں دیا گیا - اب انکے نام پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں صرف عمران خان کی دشمنی میں - ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق فوج نے ایک دن انکو گھر میں رہنے نہیں دیا - تو اب کس بات کا ڈھونگ مچایا ہوا ہے- یہ دوغلی دھوکے بازی اب نہیں چلے گی - عدالت جایں کیس کریں سارا کچہ چٹا کھل جاےگا اور پھر شکل پر کالک لگے گی
چنانچہ اب لندن پلان تو کھل کر سامنے آچکا ہے۔ میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں یہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن بیٹھے ہیں! منصوبہ اب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو زندان میں ڈال کر مجھے اذیّت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لیکر مجھےآئندہ دس برس کیلئےقیدکر دیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی بچی کھُچی قیادت اور کارکنان کو بھی پوری طرح جکڑ لیں گے۔ اور آخر میں پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی جماعت پر پابندی لگا دیں گے۔(جیسے انہوں نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ پر لگائی)-
یہ یقینی بنانے کیلئے کہ عوام کی جانب سے کوئی ردّعمل نہ آئے، انہوں نے دو کام کئے ہیں؛
اوّل: محض تحریک انصاف کے کارکنان ہی کو خوفزدہ نہیں کیا جارہا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی خوف بٹھایا جارہا ہے۔
دوم: میڈیا پر پوری طرح قابو پایا جا چکا ہے اور بزورِ جبر اس کی آواز دبائی جاچکی ہے۔
کل پھر یہ انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں گے اور سوشل میڈیا، جو پہلے ہی جزوی طور پر چل رہا ہے, کو پوری طرح بند کردیں گے۔
اس دوران،جبکہ میں آپ سے مخاطب ہوں،گھروں کی حرمت پامال کی جارہی ہے اور پولیس نہایت بے شرمی سے گھر کی چار دیواری میں موجود خواتین سے بدتمیزی وبدسلوکی میں مصروف ہے۔ آج سے پہلے اس ملک میں چادر و چاردیواری کا تقدس کبھی یوں پامال نہ ہوا جیسا کہ یہ مجرم کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے دلوں میں اتنا خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ جب یہ مجھے گرفتار کرنے آئیں تو لوگ باہر نہ نکلیں۔
سپریم کورٹ کے باہر فضل الرحمٰن والے تماشے کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے تاکہ وہ آئینِ پاکستان کےمطابق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے باز رہیں۔
پاکستان پہلے ہی 1997 میں نون لیگی غنڈوں کو نہایت ڈھٹائی سے سپریم کورٹ پر عملاً حملہ آور ہوتے دیکھ چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک نہایت محترم چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا گیا۔
عوامِ پاکستان کو میرا پیغام ہے کہ؛
میں اپنے خون کے آخری قطرے تک حقیقی آزادی کیلئے لڑوں گا کیونکہ مجرموں کے اس گروہ کی غلامی سے موت میرے لئے مقدّم ہے۔ میں اپنے لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کلمہ لَاِ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی صورت میں یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ ہم ربّ ذوالجلال کے علاوہ ہرگز کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
اگر آج ہم خوف کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوگئے تو ذلت اور شکست و ریخت ہماری آئندہ نسلوں کا مقدّر ٹھہرے گی۔
وہ ملک جہاں ناانصافی اور جنگل کے قانون کا دَور دَورہ ہو وہ زیادہ دیر تک صفحۂ ہستی پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے!
دوستم! چھوڑو عدالتیں، کچہریاں،ضمانتیں۔لگاؤ شاہراہِ دستور پر ایک مقتل۔ کھڑا کرو سب کو لائن میں مراد ہو، مشوانی ہو، شاہد ہو، حسان ہو اور مارو سب کو گولی۔ اس قوم میں غیرت ہوگی تو تمہیں تمہارا انجام دکھا دیگی۔ بے غیرت ہوگی تو اپنا انجام دیکھ کر چپ ہو لیگی۔ختم کرو یہ تماشہ
ابھی ہسپتال سے آیا ہوں عمران خان صاحب کی دائیں ٹانگ میں زیادہ گولیاں لگی ہیں۔ چار زخم موجود ہیں جبکہ دیگر کچھ چوٹیں بھی لگی ہیں۔ اس سب کے باوجود عمران خان کا حوصلہ قابل دید ہے۔ ایسے آدمی کا مقابلہ ممکن نہیں۔
The attack on @ImranKhanPTI and his supporters is completely unacceptable, and I strongly condemn this violence. It has no place in politics, in any democracy, or in our society. I’m wishing a speedy recovery to Imran and all who were injured today.
Shocked and saddened by news that Pakistan’s former Prime Minister Imran Khan was injured following a shooting incident. I wish him well and a speedy recovery. Violence in all forms is totally wrong and unacceptable, no matter what our differences may be. #imrankhaninjured
چیئرمین عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کر کے امپورٹڈ حکمرانوں اور سہولت کاروں نے سرخ لائن کراس کر دی ہے ان لوگوں کا مقصد اپنی ڈوبتی حکمرانی کو طول دینے کے لیے پاکستان کو شدید بحران سے دو چار کرنا ہے انشاء اللہ ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔
#عمران_خان_ہماری_ریڈ_لاین_ہے