🥘لنگرخانہ،دارالضیافت پر
کسی کی تھکن کا مداوا یہی ہے
کسی کی دعا کا تقاضا یہی ہے
نہ جائے یہاں سے کوئی بھوکا پیاسا
ملے چین و راحت اسے اپنےگھر کا
یہاں آنے والے یہ کہتے ہیں اکثر
محبت کا پایا ہے ہم نے سمندر
دعاؤں سے معمور رہتی ہیں راہیں
خلوص و وفا سے مہکتی ہیں چاہیں
یہاں آ کے ہر دل کو آرام آئے
مسافر کو جیسے کوئی شام آئے
یہ خدمت خدا کی رضا کا وسیلہ
یہی نیک لوگوں کا روشن قبیلہ
https://t.co/zCRK3kxOqW
5 Reasons You Have to Attend #JalsaCanada! 🕌🇨🇦
1. You’re part of a prophecy!
2. The Prayers of the Promised Messiah (as) for attendees!
3. The Spiritual Rejuvination!
4. The Unity at Jalsa Canada!
5. The Vibes!
📍July 10-12, 2026
The International Centre
Serving humanity in times of hardship.
Reflecting on the Jama'at's responsibility to care for those in need, Beloved Huzoor (aba) said:
“Even today, there are some countries in the world where similar conditions exist. There is great hardship; famine prevails, grain is unavailable, or inflation is such that people cannot afford to buy food. People are dying from poverty and hunger. By the grace of Allah, wherever the Jama’at becomes aware of such conditions, it sends funds to assist people and fulfils their essential needs. Members also contribute their share in this effort. May Allah the Almighty grant them even greater ability to continue striving to help the poor and those afflicted by famine.”
📷 Stream the full Friday Sermon now on the MTAi App, via https://t.co/llmBJUvn4X, or via https://t.co/q8CMK2ehxU.
(Friday Sermon, 3rd July 2026)
#FridaySermon #MTAi
“Do you regard our money as being separate from your own?”
Reflecting on the extraordinary generosity of the Promised Messiah (as), Beloved Huzoor (aba) narrated:
“Hazrat Sheikh Yaqub Ali Sahib Irfani (ra) relates that on one occasion, Hazrat Hakim-ul-Ummat Maulana Nuruddin Sahib (ra) borrowed a sum of money from the Promised Messiah (as). When he later sent the money back in repayment, the Promised Messiah (as) expressed his disapproval, returned it, and remarked, ‘Do you regard our money as being separate from your own?’
Hazrat Sheikh Yaqub Ali Sahib Irfani (ra) further writes that after the Promised Messiah (as) announced that he had been commissioned by God Almighty, and people also came to know that Allah the Almighty had given him the glad tidings, ‘Kings shall seek blessings from your garments,’ people would commonly request articles of his clothing. He would never refuse anyone. At times, the situation became such that only the clothes he was wearing remained on his person, as all his other garments had been given away.”
📷 Stream the full Friday Sermon now on the MTAi App, via https://t.co/llmBJUuPfp, or via https://t.co/q8CMK2dJIm.
(Friday Sermon, 3rd July 2026)
حضرت مولوی غلام حیدر صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سے یہ الفاظ مَیں نے سنے:
خداتعالیٰ محمداسماعیل بخاری پرہزاروں رحمتیں بھیجے کہ جس نے بخاری کی کتاب میں میرایعنی آنے والےمسیح کاحلیہ اورعیسیٰ بن مریم کاحلیہ جُداجُدا بیان فرمایا۔اگر وہ یہ دونوں الگ الگ بیان نہ کرتےتو محدّثین مجھےکب مانتے
https://t.co/kZQsJpMcuY
A call to repentance.
Reflecting on the words of the Promised Messiah (as), Beloved Huzoor (aba) narrated:
“Hazrat Mian Rahmatullah Sahib relates, ‘The Promised Messiah (as) would say, “Famine and the plague are happening all at once, yet still people do not repent. They die of hunger.” Three years after this, a severe plague spread across the country. During the days of famine, the Promised Messiah (as) would say that it is mentioned in the Ahadith that a famine would occur in the time of the Promised Messiah. The saying of the Holy Prophet (sa) and the promise of Allah the Almighty were fulfilled.’”
📷 Stream the full Friday Sermon now on the MTAi App, via https://t.co/llmBJUvn4X, or via https://t.co/q8CMK2ehxU.
(Friday Sermon, 3rd July 2026)
#FridaySermon #MTAi
فرشتہ اور شیطان کی حقیقت
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں
انسان کے دل کے ساتھ دو کششیں ہروقت نوبت بہ نوبت لگی رہتی ہیں ۔ایک کشش خیرکی اورایک کشش شرکی ۔پس جو خیر کی کشش ہے شریعت اسلام اُس کو فرشتہ کی طرف منسوب کرتی ہے ۔اور جو شرکی کشش ہے اس کو شریعت اسلام شیطان کی طرف منسوب کرتی ہے
(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۱۷۹)
https://t.co/WWw864ldAR
⚡️تازہ ترین
۴۸واں جلسہ سالانہ کینیڈا 🇨🇦 :ڈیوٹیوں کا باقاعدہ آغاز
جماعت احمدیہ کینیڈا کاجلسہ سالانہ ۱۰ تا ۱۲؍جولائی ۲۰۲۶ء کو منعقدہوگا،ان شاء اللہ
مورخہ ۵؍جولائی مسجد بیت الاسلام و ایوانِ طاہر میں ایک تقریب منعقدہوئی جس میں ڈیوٹیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا
تقریب میں بشمول لجنہ ممبرات ۲۰۰۰ سے زائد کارکنان نے شرکت کی توفیق پائی
رپورٹ 👇
https://t.co/xKLVmhhVBV
4 DAYS TO GO! 🇨🇦🕌
The wait is almost over! ⏳
Jalsa Salana is a time to pause, reflect, and rejuvenate our faith. The spiritual energy is already building as thousands of guests prepare to attend!
📍July 10–12, 2026
The International Centre #JalsaCanada
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(مال) خرچ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو تمہاری ذمہ داریاں ہیں،تمہاری اولاد ہے،تمہارے بیوی بچے ہیں، تمہارے غریب رشتہ دار ہیں یا جن کے ذمے کی پرورش تمہارے ذمے کی گئی ہے وہ تمہارے پہلے حقدار ہیںتمہارے مال سے مدد حاصل کرنے کے۔
https://t.co/0ZSitomFWv
آجکل بڑی عمر کےلوگوں کی نوجوانوں کو نصیحت،نقص نکالنا سمجھا جاتاہے۔ہم نوجوانوں اور بچوں کےلیےمسجداورجماعت کےماحول میں خوشگواری کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟
حضورانور نےفرمایا کہ بات یہ ہے کہ تھوڑی سی نفسیات بھی پڑھنی چاہیے۔ایسے نصیحت کیوں کرتےہیں کہ جس سےلگے کہ نقص ڈال رہاہے۔
جس طرح مَیں نے ابھی ان کو بتایا کہ بچپن سے اگر بچوں کی اُٹھان ایسی ہو کہ ان کو پتا ہو کہ دین کیا ہے اور انہوں نے دین سیکھنا ہے، خود ان میں تجسس پیدا ہو تو وہ خود سوال کریں گے۔ پھر ان کے جواب دو۔ اور پھر اگر وہ غلطیاں کرتے ہیں، تو غلطی ہر کوئی انسان کرتا ہے ۔ بڑے بھی کرتے ہیں ، چھوٹے بھی کرتے ہیں۔تو ان کو پھر احسن طریقے سے سمجھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی فرمان ہے کہ اگر تم نے نصیحت کرنی ہے تو پھر اچھے طریقے سے نصیحت کرو۔ کل بھی مَیں نے مثالیں دی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے والے کو دیا ، لیکن پھر آخر میں نصیحت بھی فرما دی۔ یہ نہیں کہاکہ تم کیا روز مانگنے آ جاتے ہو، جھاڑ جھوڑ دیا۔ نہیں! بلکہ بڑے خوبصورت انداز میں کہاکہ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر تم دینے والے ہاتھ بن جاؤ۔تو یہ بھی ایک انداز ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچوں کی تربیت میں ان کی نفسیات، عمر اور حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے حکمت سے نصیحت کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہی نفسیات ہے جو آجکل کے پڑھے لکھے ماں باپ کو بھی سمجھنی چاہیے اور جو پڑھے لکھے ماں باپ نہیں ہیں، ان کو آپ کا نظام جو ہے، ان کو سمجھانا چاہیے کہ کس طرح نصیحت کرنی ہے۔ اب ایک مثال میرے سامنے آئی کہ بڑاrigidباپ ہے، وہ کہتا ہے کہ گھر میں باجماعت نماز پڑھنی ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ باجماعت نماز پڑھنی ہے۔ لیکن لڑکی باغی ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ بابا روز پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اب باپ کو لڑکیاں جب جوان ہو جاتی ہیں تو ان کےبعض حالات کا نہیں پتا ہوتا۔ ان کی مائیں بہتر جانتی ہیں۔ اس لیے اگر ان کو نمازوں کےلیے کہنا ہےتو ماؤں کے ذریعے سے کہلوانا چاہیے۔اور پھر عورتوں کے لیے توویسے ہی باجماعت نماز ضروری نہیں ہے کہ زبردستی بلانا کہ نہیں نہیں آؤ ، ابھی آؤ اور میرے سامنے شامل ہو۔ تو وہ دین سے بھی ہٹ گئی اور وہ خدا سے بھی ہٹ گئی۔ اب آہستہ آہستہ اس کو سمجھایا تو خدا کے تو قریب آگئی ہے پر جماعت کو بُرا سمجھتی ہے۔
بعدازاں حضورِ انور نے والدین کو بچوں کی نفسیات سے آگاہ کرنے اور ان کی مؤثر تربیت کے لیے عملی تربیت کا اہتمام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تو سمجھانے کے بھی طریقے ہوتے ہیں۔ اس لیے جو بڑے نصیحت کرتے ہیں ان کو بھی سمجھنا چاہیے کہ زمانہ وہ نہیں ہے کہ ہم ڈنڈے کے زور پر سمجھا دیں۔ اس لیے بچوں کی نفسیات دیکھنی پڑتی ہے ، ماحول دیکھنا پڑتا ہے، طریقہ دیکھنا پڑتا ہے۔ مختلف طریقے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیں ۔آپ انصار اللہ کی تنظیم میں والدین کی تربیت کے لیےبھی ایک کورس کریں ،سیمینار ہو، اس کو بتایا جائے۔ کسی Psychiatrist کو بلائیں کہ کس طرح بچوں کو سمجھانا ہے اورکس طرح ان سےdeal کرنا ہے۔ جو تجربہ کار لوگ ہیں ، جن کے بچے اچھی تربیت میں ہیں یا باتوں کو سمجھتے ہیں ، ان کے لیکچر دلوائے جائیں تاکہ ماں باپ کی ٹریننگ ہو۔پھر آگے بچوں کی ٹریننگ ہو گی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے والدین کی عملی اصلاح اور ذاتی نمونے کو بچوں کی تربیت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے تو اپنی اصلاح کریں پھراگلوں کی اصلاح ہو گی اور پھر اپنا نمونہ سب سے بڑی بات ہے۔ بہت سارے لوگ اور بچے مجھے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ماں باپ کو گھر میں نمازیں پڑھتے دیکھا تو اس لیے ہمیں بھی نمازیں پڑھنے کی عادت پڑگئی۔ ہم نے ان کوقرآنِ کریم پڑھتے دیکھاتو اس لیے ہمارا بھی دل چاہا کہ ہم بھی قرآنِ کریم پڑھیں۔ لیکن اگر زبردستی کریں تو وہ باغی ہو جاتے ہیں۔ یہ زبردستی والا زمانہ نہیں ہے۔
https://t.co/azjlmqj9KF
Last night, Sahibzada Mirza Maghfoor Ahmad, national president of Ahmadiyya Muslimc Community USA, held a session with @mkausa at their youth hub. #JalsaUSA