آج میں اسلام آباد ضمانت کےلئے جا رہا ہوں عین ممکن ہے مجھے گرفتار کر لیا جائے گا لیکن اب مجھے سمجھ آیا کہ میں 30 سالوں سے آذادی کی جنگ کیوں لڑ رہا ہوں
#BehindYouSkipper#مائنس_عمران_ناممکن_ترین
گذشتہ کچھ عرصے سے مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات اور خبریں نا صرف مجھ سے وابستہ لوگوں کے لیے پریشان کن ہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی تشویش ناک ہیں کہ ان خوفناک افواہوں کا اشارہ ہمارے قومی سلامتی کے معتبر اداروں کی جانب ہے۔ اس حوالے سے نہایت احترام کے ساتھ @OfficialDGISPR سے اپنے اور اپنی قوم کے خدشات دور کرنے کے لیے چند سوالات کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ امید ہے کہ ان کو ایک محب وطن پاکستانی کی جانب سے ایک مخلصانہ کوشش سمجھا جائیگا کہ جس سے ناصرف مجھ سے وابستہ لوگوں کی تشفی ہوگی اور ہماری نظروں میں آپ کا احترام بڑھے گا بلکہ ہمارے اداروں پر بے جا الزامات لگانے والوں کے منہ بھی بند ہونگے۔
پہلا سوال: اپریل میں ادارے سے قریب سمجھے جانے والے چند صحافیوں کی جانب سے ایسی ترویج کی گئی کہ پی ٹی آئ کے ایک رہنما کو دورانِ حراست زہر دیا جاسکتا ہے یا گولی مار دی جائیگی اور اس کا الزام اداروں پر لگایا جائیگا۔ انہی حلقوں کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ یہ رہنما راقم یعنی مراد سعید ہوسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا انکشاف تھا اور ہمارے ادارے بلاشبہ ایسے معاملات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہونگے، کیا اداروں نے ان صحافیوں کے الزامات کی تحقیقات کیں اور ان سے ان کے سورسز معلوم کیے؟ کیا اس حوالے سے کوئی اہم حقائق عوام کے ساتھ شئیر کیے جاسکتے ہیں؟
۲- یہ بیانیہ اس وقت جاری کیا گیا جب میں خطوط کے ذریعے صدر پاکستان اور دیگر اداروں کو خود کو لاحق خطرات سے آگاہ کرچکا تھا اور اپنی معلومات کی بنیاد پر ایک ویڈیو میں میں نے ایک افسر کا نام لیا تھا کہ جو مجھے قتل کرنے کی سازش کا مرکزی کردار ہے۔ کیا ان صحافیوں کی جانب سے کیے گئے انکشافات میرے خطوط میں درج میرے خدشات کی تصدیق نہیں کرتے؟ اور کیا ان صحافیوں کی ریاستی اداروں سے قربت اس تاثر کو فروغ نہیں دیتی کہ ریاست مجھے تحفظ مہیا کرنے کہ بجائے مجھے قتل کرنے کی سازش کے حوالے سے ایک متبادل بیانیے کو فروغ دے رہی ہے؟ کیا اس تاثر کو ذائل کرنے کے کیے ہمارے معتمد اداروں کی جانب سے کوئ شفاف تحقیقات کی جارہی ہیں یا کیے جانے کا امکان ہے؟
۳- کبل سی ٹی ڈی تھانے پر حملہ کہ بعد عوام کو امن کے لیے موبلائز کرنے کی پاداش میں مجھ پر غداری کے دفعات کے تحت متعدد پرچے درج کیے گئے۔ کیا ادارے کے علم میں یہ بات ہے یا چند افسر اپنے طور پر ایسے اقدامات کرکے ہمارے معتمد اداروں اور عوامی نمائندوں کے مابین خلیج قائم کرنا چاہتے ہیں؟
۴-کیا مجھے “زندہ یا مردہ” پکڑنے کا حکم ایک افسر کے ذاتی عناد کی بنیاد پر تھا (کیونکہ اسی افسر کی عمران خان پر قاتلانہ حملہ اور ارشد شریف کے قتل میں نامزدگی کی درخواست میڈیا کی زینت بن چکی ہے) یا ادارہ اس حکم کو endorse کرتا ہے؟ اگر یہ حکم ذاتی تھا، اور جس کا قوی امکان ہے، تو کیا ادارہ اس بات سے واقف ہے کہ مالاکنڈ لیویز کو یہ ٹاسک دے کر ناصرف تمام فورسز کے تعاون کی یقین دہانی کرائ گئی تھی بلکہ انہیں ہمارے سلامتی اداروں کےدفاتر میں سے ایک دفتر بلا کر باقاعدہ بریفنگ دی گئی تھی؟ کیا کوئی افسر اس بات کا مجاز ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں ایسی کاروائی عمل میں لائے؟
۵- آج کل ادارے کے چند افسران کے قریب اور ان کی خاص سمجھی جانے والی ایک شخصیت متعدد ٹی وی چینلز پر یہ بات دہرا چکے ہیں کہ میری جان اور مال کی ذمہ داری عمران خان پر ہوگی۔ کیا مجھ سمیت کسی بھی شہری کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ریاست نہیں ہے؟ کیا وہ معلومات جن کی بنیاد پر یہ بیانیہ پھیلایا جارہا ہے، اس شخصیت کو ادارے کے ان افسران کی جانب سے مہیا کی گئی ہے؟ کیا سوات کے عوام کے نمائندے کی حیثیت سے میری سماجی حیثیت اور مجھے پہنچنے والے کسی نقصان کے نتیجے میں عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان معلومات کی بنیاد پر کوئ ایسے اقدامات لیے گئے ہیں یا لیے جائنگے کہ جن سے حتی المقدور میری حفاظت یقینی بنائ جاسکے؟
1/2
ڈاکٹر یاسمین راشد کی جیل میں طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ کل رات ان کی طبیعت بہت خراب رہی ہے، ان کے لیے آواز اٹھائیں- خدیجہ شاہ
#KhadijaShah#DrYasminRashid
https://t.co/yGYlNsyuaF