@Intl_Mediatior@majorirfanakbar@Rafiqsarbaazi عمران خان صاحب کے یار غار
@ArifAlvi جن کی اتنی اوقات تھی سارا دن کراچی والوں کے پان و نسوار سے متاثرہ دانت نکالتے تھےانہں صدر پاکستان کی کرسی پر بٹھا دیا۔ موصوف ایسےگم ھوئے جیسےگدھےکے سر سےسینگ
کر تو صدر یو کہ بھی کچھ نہی سکےلیکن کم از کم میڈیایا سوشل میڈیاپربیان تودے دیاکرتے
روف کلاسرا صاحب نے بات چھیڑی تو سنتے جائیے۔وزارت اطلاعات کے ایک انتہائی سینئیر ترین عہدے دار نے مجھے خود بتایا کہ ان کے دور حکومت میں خان صاحب کے ایک انتہائی قریب ترین عزیز(نام بتانا مناسب نہیں) نے ہم سے ایک لڑکی کو پی ٹی وی میں کسی پوزیشن پر ایڈجسٹ کرنے کی سفارش کی۔ہمیں چوں کہ خان صاحب کی طبیعت کا اندازہ تھا لہذا ہم نے دو چار دن اسے ٹالا۔جب اس کا اصرار بڑھنے لگا تو انہوں نے ایک شام تنہائی میں خان صاحب سے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کا فلاں عزیز ایک پوسٹ کے لیے ایک لڑکی کی ایڈجسٹمنٹ چاہتا ہے اور پوسٹ بھی عام سی ہے۔ خان صاحب یہ سن کر شدید ناراض ہوئے کہ اس کا پی ٹی وی میں آنا جانا کیوں ہے۔انہوں نے کہا کہ سر اس نے فون پر ریکوسٹ کی ہے اور سی وی بھیجا ہے۔اس پر خان صاحب نے کہا کہ وہ مجھے کبھی پی ٹی وی کے نزدیک بھی نظر نہ آئے اور موضوع بدل لیا۔
پاکستان میں ہوائی سفر کا نظام ویسے ہی گھٹیا اور تباہ کن ہے فلائیٹ لیٹ ہونا، مسافروں کو خوار کرنا ائیر لائنز کی طرف سے عین اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔
ائیر سیال @airsial کو میں کچھ بہتر ائیر لائن سمجھتا تھا، ابھی ائیر پورٹ پہنچا تو پتہ چلا فلائیٹ تین گھنٹے لیٹ ہے اور کسی نے مسافروں کو بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، کاونٹر پہ پہنچا تو وہاں بیٹھی محترمہ ڈھنگ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ فرماتی ہیں ہم نے تو میسج کر دیا تھا آپ کو ملا نہیں تو کوئی نیٹ ورک ایشو ہو گا۔
دنیا بھر میں ایک ایک ائیر پورٹ سے روزانہ سیکڑوں ہزاروں جہاز روز اڑتے ہیں، کبھی پانچ منٹ کی تاخیر نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں ان ائیر لائنز والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سروس نام کی کوئی چیز نہیں۔ہرجانہ ادا کرنے کا کوئی تصور نہیں۔بس خوار ہوتے رہیے کیونکہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔
گھٹیا ائیر لائن
@airsial
اگر واقعی علی امین گنڈاپور سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ سازش کے ذریعے ان کی کابینہ کے ارکان کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لیے ثبوت صحافیوں کو فراہم کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پوری میڈیا کیمپن شروع کروانے والے ہیں تو اس کا سہیل آفریدی کے پاس ایک ہی حل ہونا چاہیے کہ وہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائیں اور اپنی کابینہ کے لوگوں کو کرپشن کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ صرف ایسا کرنے سے ہی سازشیوں کا جواب دیا جا سکتا ہے۔