سرحد ہونیورسٹی واقعہ؛ چند حقائق :
لیفٹننٹ کرنل اسفند کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ اس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ ان کا ایک ایشو Head of Department کیساتھ چل رہا تھا۔ HoD کیخلاف کیس ثابت ہوا اور انہیں معطل کر دیا گیا۔ طلبہ HoD کے ساتھ تھے، ان کی بحالی کیلئے احتجاج کر رہے تھے۔ ڈاکٹر آئینہ جب طلبہ کو نظر آئیں تو خاتون کو گالیاں دی گئیں اور نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ بعض اطلاعات کیمطابق ڈاکٹر آئینہ کو طلبہ کیطرف سے دست درازی کا بھی سامنا ہوا۔ ایسے میں ڈاکٹر آئینہ نے فورا اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفند کو کال کی جو فوری وہاں پہنچے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ویڈیو میں موجود ہے۔
لیفٹننٹ کرنل اسفند تحویل میں ہیں اور ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ انہیں کڑے disciplinary action کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ فوجی وردی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی اور سرکاری پستول کا استعمال بھی کیا گیا۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفند ایک باضابطہ شکایت کے طریقے سے اپنی اہلیہ کیساتھ طلبہ کی طرف سے ہوئی زیادتی پر کاروائی کرواتے ۔۔۔۔۔۔ مگر اہلیہ/ گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غیرت اور غصے میں ہوش وحواس سے کام لینے میں غلطی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود فوج میں احتساب کا کڑا نظام ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔
یہ ہیں کمانڈر فاروق، پونچھ کے علاقے کی ایک نہایت نمایاں شخصیت۔ جب بھارتی فوج سرحد پار سے داخل ہوئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 12 سے 14 گھنٹے تک ڈٹ کر مزاحمت کی اور بھارتی افواج کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس کے بعد پاکستانی فوج نے ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں "کمانڈر" کا خطاب دیا اور اعزاز کے طور پر ایک جیکٹ بھی پیش کی۔ کمانڈر فاروق اس جیکٹ کو اپنے لیے ایک تمغۂ اعزاز سمجھتے تھے اور ہمیشہ اسے فخر سے اپنی چھاتی پر سجا کر رکھتے تھے۔ آج، اطلاعات کے مطابق، وہ اپنی ہی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔
@HassanAyub82 How dare you mother fucker you called to him
I don't want to include your family otherwise you can't image what I write. But you are such shameless person.
آج کل یہ مذاکرات/ثالثی کرا رہے ہیں تو دہشتگردی نہیں ہو رہی۔ جب یہ کہیں مصروف ہوتے ہیں، پھر دہشتگردی نہیں ہوتی۔ عظمیٰ خان
#pakistan#UzmaKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
تیل کے چھ ڈبوں میں سے ایک غیر قانونی ڈبے کو ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ باقی قانونی قرار دیے گئے ہیں
نوٹ یہ پٹرول 600 کلومیٹر سے آتے آتے کوئٹہ پہنچتے ہی 6 ڈبوں میں سے ایک غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کو اتار کر ایک کروڑ سے زائد رقم والی گاڑی میں ڈال دی ہیں
لاوارث بلوچستان