انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اُس پر ایک نگراں مقرّر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لئے) تیار! اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان!) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔
سورۃ ق
اور ان لوگوں سے دُنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اُس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اُسے ہوائیں اُڑالے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔
سورۃ الکھف
اور ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں لارکھیں گے جو سراپا انصاف ہوں گی، چنانچہ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا، تو ہم اُسے سامنے لے آئیں گے۔ اور حساب لینے کے لئے ہم کافی ہیں۔
سورۃ الانبیاء
یا رَبّ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجئے، اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمائیے جو نماز قائم کریں۔) اے ہمارے پروردگار! اور میری دُعا قبول فرما لیجئے۔
سورۃ ابراھیم
زمانے کی قسم، انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اِیمان لائیں، اور نیک عمل کریں، اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔
سورۃ العصر
اور (اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو ( آپ ان سے کہہ دیجیے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔
سورۃ البقرۃ
وہ اللہ وہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے، وجود میں لانے والا ہے، صورت بنانے والا ہے، اُسی کے سب سے اچھے نام ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں، وہ اُس کی تسبیح کرتی ہیں، اور وہی ہے جو اِقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
سورۃ الحشر
آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اُسی کی ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ وہی اوّل بھی ہے، اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے، اور چھپا ہوا بھی، اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔
سورۃ الحدید