رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔
(جامع ترمذی، ۲۹۱۰)
Narrated Abu Huraira (RA): Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever says, 'Subhan Allah wa bihamdihi,' one hundred times a day, will be forgiven all his sins even if they were as much as the foam of the sea.
(Sahih al-Bukhari 6405, Book 80, Hadith 100)
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا۔
(ترمذی،۳۸۷۲)
Narrated Mujahid: `Abdullah bin `Umar (RA) said, "Allah's Messenger (ﷺ) took hold of my shoulder and said, 'Be in this world as if you were a stranger or a traveller." The sub-narrator added: Ibn `Umar used to say, "If you survive till the evening, do not expect to be alive in the morning, and if you survive till the morning, do not expect to be alive in the evening, and take from your health for your sickness, and (take) from your life for your death."
(Sahih al-Bukhari 6416, Book 81, Hadith 5)
اُن ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے
جو اپنی نماز میں دِل سے جھکنے والے ہیں۔
اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔
اور جو اپنی شرم گاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔
﴿سورۃ المومنون، ۱-۵﴾
Jabir bin `Abdullah (ra) narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best remembrance is: ‘there is none worthy of worship except Allah (La ilaha illallah)’ and the best supplication is: ‘All praise is due to Allah (Al-hamdulillqh).’”
(Jami` at-Tirmidhi 3383, Vol. 6, Book 45, Hadith 3383)
جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نےایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپؐ کو دیکھنے لگااور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ کون زیادہ خوبصورت ہے) آپؐ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے،اور آپؐ مجھے چاند سےبھی زیادہ حسین نظر آ رہےتھے۔
(ترمذی،۲۸۱۱)
وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگااسے اپنے سامنے موجود پائے گا،اور بُرائی کا جو کام کیاہوگا اس کو بھی (اپنے سامنےدیکھ کر) یہ تمنا کرے گاکہ کاش اس کےاور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا! اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب)سےبچاتاہے،
﴿سورۃ آل عمران، ۳۰﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی،
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔
(صحیح بخاری،۱۱۹۳)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
Narrated Abu Huraira (RA): Allah's Messenger (ﷺ) said, "Beware of suspicion, for suspicion is the worst of false tales. and do not look for the others' faults, and do not do spying on one another, and do not practice Najsh, and do not be jealous of one another and do not hate one another, and do not desert (stop talking to) one another. And O, Allah's worshipers! Be brothers!"
(Sahih al-Bukhari 6066, Book 78, Hadith 96)
It was narrated that ‘Abdullah bin Harith bin Jaz’ Az-Zubaidi (RA) said: “We ate food with the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque, meat that had been roasted. Then we wiped our hands on the pebbles and got up to perform prayer without performing ablution.”
(Sunan Ibn Majah 3311, Vol. 4, Book 29, Hadith 3311)
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تم پر ناگوار گزرے“ ۔
(جامع ترمذی، ۲۳۸۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)