اگر پولیس والا کسی بچی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو وہاں قانون اور آئین کو ناڑے کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے،اگر یہی عام آدمی کرتا ہے تو اس کے نیفے میں پستول چل جاتا ہے،حسن مرتضٰی
ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ:
“اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“
غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔
جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟!
اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔
ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔
تھانہ ٹاؤن شپ کے اندر دو خواتین کی ہلاکت کا واقعہ
تھانے کے اندر دونوں خواتین کی موجودگی کی فوٹیج سامنے آگئی
دونوں ملزماوں کو فوٹیج میں پولیس اہلکاروں سے بات چیت کرتے صحت مند حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
نواز شریف جب وزیرِاعظم تھے، شہباز شریف وزیرِاعلیٰ پنجاب اور خواجہ آصف وزیرِ پانی و بجلی تھے، تب انہوں نے اپنے چہیتے سلمان شہباز کو پاکستانی بینک سے 650 کروڑ روپے کا قرض لے کر پاور پلانٹ لگوا کر دیا، جس کی نہ صرف ادائیگیاں پاکستانی قوم نے کرنی تھیں بلکہ 30 سال کا ایسا معاہدہ بھی کیا گیا کہ بجلی ملے یا نہ ملے، پیسہ تو سلمان شہباز کو جاتا رہے گا۔
اگر کرپشن کا کوئی شیطان ہوتا تو وہ سلمان شہباز ہوتا۔
کاروبار خاندان کا، قرض عوام نے دیا، ادائیگیاں عوام نے کرنی ہیں، اور فائدہ خاندان کا!
آخر میں اس پورے کھیل کا خمیازہ کون بھگتے گا؟
پاکستانی قوم!
Serious health risks!
About 48% of total vanaspati ghee samples collected from markets, 75% of refined palm oil and 44% packaged milk were found substandard and could cause serious heart diseases among the people, according to alarming findings released by the government on Friday. https://t.co/Oj2UAZIzTS
اویس لغاری کے مطابق بجلی کی قیمت سستی کرنے سے تو آئی ایم ایف روک دیتا ہے
مگر یہ جو روز روز ججوں اور الیٹ کلاس کی اربوں کی مراعات حکومت بڑھاتی کیا اس میں آئی ایم ایف کا کمشن ہے کہ یہاں چپ رہتا ہے ؟
بتایا گیا ہے پنجاب میں سب سے زیادہ شوگر ملز ہیں اور ایک ایک مل میں ہزاروں
مزدور کام کرتے ہیں لیکن لبیر لاءز کے تحت رجسٹرڈ صرف سو مزدورں کو بھی نہیں کیا جاتا تاکہ مالکان کو EOBI کاکنٹربیوشن نہ دینا پڑے؟
قائمہ کمیٹی کے چیرمین ایم این اے سید آغا رفیع اللہ کے انکشافات سنیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/HSjHncdnn0 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@SyedAghaPPP
آئی ایم ایف اسپیکر کی تنخواہ 13 لاکھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، پنجاب کابینہ کی تنخواہ 700 % بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، بعد از ریٹائرمنٹ 2 ہزار مفت یونٹ، ہزار لیٹر پیٹرول کی اجازت دیتا ہے، اربوں کے گورنمنٹ ہاؤسز بنانے کی اجازت دیتا ہے
بس جہاں عوام کو ریلیف ملے وہاں IMF غصہ کر جاتا ہے
سنجیدہ بات ہے آپ جواب دیجئے پچھلے چار سال میں شہباز شریف کی حکومت میں ایک موقع ایسا ایسا جہاں کسی تقرری تبادلے تعیناتی پر شہباز شریف سول سپریمسی کے تصور پر ڈٹ گیا ہو ؟ ایک ایک کر کے ہر بڑی پوسٹ ریٹارڈ جرنیلوں کو دی گئی کسی ایک پر شہباز شریف نے انکار کیا ؟
ان چار سالوں میں بجلی گیس پیٹرول سمیت کسی ایک پر ٹیکس لگاتے قیمت بڑھاتے شہباز شریف نے عوام کی نمائندگی کرتے کسی مافیا کو انکار کیا ہے ؟
عام ملازمین کی تنخواہیں نہی بڑھائیں وزیروں ججوں اشرافیہ کی نو سو فیصد مراعات تنخواہ بڑھا دیں
آج سولین سپریمیسی کا بخار چڑھا ہے تو ان سے سوال کریں عوام کو چار سال میں کونسا حق دیا ہے ان کے کونسے حق کے لئے یہ حکومت لڑی ہے ان کو کونسا رلیف دیا ہے ؟
اگرنئے صوبے بنے تووفاق کے جو 10 روپے لاہور کو جاتے تھے پھر 2 فیصل آباد کو 2 گجرانوالہ وغیرہ کو جائینگے لیکن بیوروکریسی تو وہی ہے، ابھی تو 1 آئی جی سنبھالا نہیں جاتا
جب زیادہ صوبے ہونگے تو 35 آئی جی ہونگے اور ہر کمشنر پھر چیف سیکرٹری ہوگا،بیوروکریسی کی ریفارمز کا تو ذکر ہی نہیں ہوا
بیرسٹر سعد رسول نے اہم ترین سوالات اٹھادیے
#publicnews #publicpulse @MAnwarRaza@SaadRasooll
More new provinces will mainly benefit political dynasties: • More family members become Ministers • The rest secure Grade 22 posts, Provincial Secretary & Chief Secretary • Extra court judges • More downtown government offices & official mansions in downtowns of provincial capitals • More cars, more protocol, more status
The only real problem? Roads permanently clogged. Current VIPs multiplied by 15 new provinces × judges + cabinet members + chief secretaries. Prepare for total road closures every time protocol passes.
We’ll need far higher taxes just to feed this growing appetite.
And the bigger truth: this will save the outmoded colonial system from real reform.
More provinces = postponing genuine local government and decentralisation for another 2–3 decades.
Surprisingly, people keep debating the number of provinces… instead of asking why we still refuse to fix the actual structure and genuine city based local government which is the need the hour!
یوسف رضا گیلانی ایک مخلوط حکومت کے ایک کمزور وزیراعظم تھے۔ فوج افتخار چودھری نواز شریف اور عمران مخالف تھے۔
میمو کیس ہوا۔ نواز شریف بھی کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔
ڈیفینس سیکریٹری جو کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرلز میں آرمی چیف کا سب سے لاڈلا ہوتا ہے نے بھی سپریم کورٹ میں بغیر حکومت کی اجازت کے ایک حلف نامہ جمع کروا دیا۔ گیلانی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ میں ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں کروں گا۔ اسی دن ڈیفینس سیکریٹری کو گھر بھیج دیا۔
کل محسن نقوی نے لیپ ٹاپ سکیم ،حکومت کی گورننس پر سوالات اٹھا دئے۔ حکومت کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔
کیا شریف سچ مچ کے شیر بنیں گے یا اسی تنخواہ پر نوکری جاری رکھیں گے؟
حکومت کے پاس تیل کی ایک شپمنٹ اۤتی ہے جسکی قیمت سمجھ لیں کہ ٹیکس لگا کر 280 روپے فی لیٹر ہوتی ہے تو پھر اگلی شِپمنٹ تو دو ہفتے یا مہینے بعد اۤنی ہے تو ہر روز کی کس چیز کی قیمت بدل رہے ہیں؟ تیل تو اۤگیا، ملک میں پڑا ہوا ہے تو 7 دن کی ایوریج کیوں لگا رہے ہیں؟ ہر روز تو تیل نہیں اۤتا۔۔ اس کا جواب کسی نے دیا ہے؟: تیمور سلیم خان جھگڑا
@AmirMateen2@Jhagra
Pakistani student activist Arooj Aurangzeb @AroojAurangzaib became a Gen Z icon in 2019 after a video of her passionately reciting a revolutionary poem during the Students Solidarity March went viral across social media.
Her viral rise was followed by intense pressure. The state took action against Arooj and other student activists. Mainstream media outlets were discouraged from giving coverage to the protest, despite clips of Arooj’s speech spreading rapidly across the internet.
Years later, Pakistani social media users began applauding Indian students protesting over the NEET paper-leak controversy and praising India’s Gen Z for challenging the authorities. Arooj criticised what she saw as blatant hypocrisy, pointing out that many Pakistanis who had mocked, abused and condemned her movement were now celebrating similar student resistance across the border.
She argued that Pakistanis appeared able to recognise the pain and courage of Indian students but had failed to stand with their own students when they demanded unions, representation and accountability.
Arooj later moved to London, where she is pursuing doctoral studies at a university. Her criticism raises a difficult question: why are Pakistanis prepared to celebrate student resistance in India while ignoring, ridiculing or suppressing the same struggle at home?