نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
(سنن ابن ماجہ ، ۹۰۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
(سنن ابن ماجہ ، ۹۰۷)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا،
ماں باپ کی نافرمانی کرنا،
کسی کی جان لینا
اور جھوٹی گواہی دینا۔
(صحیح بخاری،۲۶۵۳)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
(سنن ابن ماجہ ، ۹۰۷)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
“میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد، احمد اور ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔“
(صحیح بخاری،۳۵۳۲)
(مسلمانو ! ) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔
﴿سورۃالاحزاب،۴۰﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)
آپ ﷺنے فرمایا:
کوئی شخص نماز کی وجہ سےجب تک کہیں ٹھہرارہے گا اس کایہ سارا وقت نماز میں شمار ہو گااور ملائکہ اس کےلیے یہ دعا کرتےرہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرمااور اس پر اپنی رحمت نازل کر(اس وقت تک)جب تک وہ نماز سےفارغ ہوکر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائےیابات نہ کرے
(بخاری،۳۲۲۹)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اےلوگو! اللہ کی حضور توبہ کیا کرو کیونکہ میں خود اللہ کے حضور ایک دن میں سو بار توبہ کرتا ہوں ۔
(صحیح مسلم،کتاب استغفار،۶۸۵۹)
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا
جب تم میں سے کوئی غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے، اور جب وہ طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے۔ (صحیح بخاری)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( درود ) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے“۔
(جامع ترمذی،۳۳۸۰)
آپ ﷺنے فرمایا:
جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔
(صحیح مسلم،۱۷۳)
کہو کہ : میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس ��یز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
﴿سورۃ الفلق﴾
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ۔
(سنن ابن ماجہ،۱۹۷۷)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں، وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔
(صحیح بخاری، ٢٣٢٠)
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)