سرکار دو عالم ﷺ کے دس چچا تھے صرف دو ہی نے اسلام قبول فرمایا ۔۔۔
سیدنا حمزہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہو گئے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے
سرکار دو عالم ﷺ کی پانچ پھوپھیوں میں سے صرف حضرت سیدہ صفیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا مسلمان ہوئیں
درجنوں چچا زاد بھائیوں میں سے فتح مکہ سے پہلے ایک دو کے نام لئے جا سکتے ہیں
حسنین کریمین کی عمر سرکار دو عالم ﷺ کے وصال کے وقت چار یا پانچ سال تھی
ان اعداد و شمار کے بعد غلبہ دین اور اسلامی نظام حکومت کے قیام میں کون سرکار دو عالم ﷺ کے دست و بازو تھے ؟
وہ کون تھے جنہوں نے کافروں کی سختیاں آور ظلم و ستم برداشت کئے اور دنیا کی ہر طاغوتی طاقتوں سے ٹکرائے ؟
وہ کون لوگ تھے جنہوں نے جنگیں لڑیں، اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں سب کچھ قربان کیا اور راستے کی تمام رکاوٹوں کو توڑ کر دین اسلام کو بلفعل دنیا میں غالب کیا ؟
سوچیں اور غور کریں ۔۔۔۔۔ !
@TimeOut69155858 اسی طرح صحیح بخاری کی روایت کے مطابق جب ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ ڈٹ گئے تو سات انصاری صحابہ نے یکے بعد دیگرے اپنی جانیں قربان کر دیں، یہاں تک کہ سب شہید ہو گئے۔ ان کی یہ بے مثال وفاداری اور ایثار تاریخ اسلام کا روشن باب ہے
@TimeOut69155858 دلیل سے خالی لوگ ہر بات میں اہلِ بیتؓ کا بغض تلاش کرتے ہیں حقیقت اس کے برعکس
بھائی نے بہت اچھی بات کی کہ جن لوگوں نے اسلام کے لیے عظیم قربانیاں دیں ان کا بھی حق ادا ہوصرف ایک طبقے کی قربانیوں کا ذکر کرنا اور دوسرے جلیل القدر صحابہ کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا انصاف نہیں
کتنی بڑی بوالعجبی ہے کہ جو لوگ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے محبت کا دم بھرتے ہیں، وہی ان کے فرزند 'محمد بن عمار' کے قاتل کذاب مختار ثقفی کو اپنا پیشوا اور محبوب مانتے ہیں
اس تحریر کا آغاز ہی ایک صریح نظریاتی دجل اور تاریخی جھوٹ پر مبنی ہے، جس کے ذریعے پورے اسلامی دور کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے
اس شخص نے بڑی مکاری سے "سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم" کا نام الگ سے ذکر کر کے خلافتِ راشدہ کے باقی تین خلفاء سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو یکسر نظر انداز کر دیا
اور اس کے بعد کے چھ سو سالہ اسلامی دورِ خلافت بنو امیہ، بنو عباس وغیرہ کو "باطل کا غلبہ" اور "اسلام کا عملی طور پر موجود نہ ہونا" قرار دے دیا
اس نے لکھا کہ "نبی کریم ﷺ اور سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے مل کر دینِ اسلام کو بطور سسٹم نافذ کیا اور اسلام پورے 30 سال پریکٹس میں رہا
تاریخ گواہ ہے کہ ان 30 سالوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورِ خلافت صرف پونے پانچ سال تھا۔
باقی پچیس سال سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کی خلافت کے تھے۔ اگر (معاذ اللہ) اسلام صرف علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دور میں نافذ تھا، تو یہ 30 سال کی مدت کیسے پوری ہوئی؟
اور اگر ان تینوں خلفاء کا دور بھی اس 30 سالہ 'اسلامی سسٹم' میں شامل ہے، تو پھر الگ سے صرف ایک کا نام لینا اور باقی تین کو چھپانا بدترین دجل ہے
اس نے دعویٰ کیا کہ "پھر باطل غالب آ گیا اور اگلے چھ سو سال اسلام کسی جگہ عملی صورت میں موجود نہیں تھا یہ کہہ کر اس نے اسلام کے سنہری ترین دور پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
یہ وہی چھ سو سال ہیں جن میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحری بیڑے تیار کروائے، قیصرِ روم کو ناکوں چنے چبوائے اور اسلام کی سرحدوں کو براعظموں تک وسیع کیا
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ کی اور اپنے بے مثال عدل و انصاف سے زمین کو امن و سکون سے بھر دیا
یہ وہی دور ہے جس میں فقہ کے چاروں ائمہ (بوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل اور محدثین پیدا ہوئے جنہوں نے دینِ اسلام کی حفاظت کی
یہ وہی دور ہے جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو آزاد کروایا اور محمد بن قاسم و محمود غزنوی نے برِصغیر تک توحید کا پرچم لہرایا
کیا یہ سب (معاذ اللہ) باطل پر تھے؟ اگر ان چھ سو سالوں میں اسلام موجود نہیں تھا، تو کیا دنیا میں اسلام ان ائمہ اور مجاہدین کے بغیر آسمان سے ٹپکا تھا؟
اس نے لکھا کہ عثمانیوں نے تین کروڑ مربع میل پر جو نظام نافذ کیا وہ 'عین اسلامی اصولوں کے مطابق تھا
عثمانی سلاطین پکے سنی حنفی خلفاء تھے، جو سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بنو امیہ و بنو عباس کے تسلسل کو جائز اور شرعی خلافت مانتے تھے، اور رافضیت کے شدید مخالف تھے
اگر پچھلے چھ سو سال کا سنی خلافتوں کا تسلسل معاذ اللہ 'باطل' تھا، تو اسی تسلسل سے نکلنے والی سلطنتِ عثمانیہ اس کے نزدیک 'عین اسلامی' کیسے ہو گئی؟
اس تحریر کے اخری حصےمیں موصوف اپنے مخصوص سیاسی و مذہبی ایجنڈے کو کھل کر سامنے رکھ دیا ہے۔ وہ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد کے دور کو "آلِ یہود کا غلبہ" کہہ کر سیدھا ایران کے خمینی انقلاب کو "دینِ اسلام کا دوبارہ زندہ ہونا" اور "سسٹم کا نفاذ" قرار دے دیا
اس نے لکھا کہ 'ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور دین اسلام پھر سے زندہ ہو گیا'
ایران کا موجودہ نظام 'ولایتِ فقیہ' کے سیاسی نظریے پر قائم ہے، جس کے تحت خمینی اور ان کے مراجع نے حکومت سنبھالی
روافض کے بنیادی عقیدے کے مطابق، شرعی اور حقیقی اسلامی حکومتِ الٰہیہ قائم کرنے کا حق صرف اور صرف ان کے بارہویں امام کو ہے۔
خمینی کا 'ولایتِ فقیہ' کا سیاسی نظریہ کوئی الٰہی نظام نہیں، بلکہ ایک سیاسی اجتہاد تھا جس سے خود ایران کے اپنے کئی بڑے بڑے شیعہ مراجع جیسے آیت اللہ شریعت مدار اور آیت اللہ خوئی نے شدید اختلاف کیا تھا
تحریر کے آخر میں جذباتی کارڈ کھیلتے ہوئے کہا گیا کہ "مسلمان یہ دیکھے کہ اہل بیت اور قرآن کے ماننے والے کدھر ہیں، ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے
جو شخص صبح و شام صحابہ کرام پر تبرا کرتا ہو، ان کی گستاخی کرتا ہو اور تاریخِ اسلام کے سنہری دور کو 'باطل کا دور' کہتا ہو، اس کا قرآن اور اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام کی توہین کرنے والا کتنا ہی بڑا 'انقلابی لبادہ' اوڑھ لے، وہ قرآن اور اہل بیت کا ماننے والا نہیں بلکہ ان کے نام کو اپنے سیاسی و فرقہ وارانہ عزائم کے لیے استعمال کرنے والا ایک کھلا دھوکے باز ہے۔
عاقبت ان کی سنورتی ہے جو قرآن، صحابہ اور اہل بیتِ اطہار کے اصولوں پر یکساں عمل کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کی اجتماعیت کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی نہیں جو صحابہ پر تبرا کر کے امت میں تفریق کی دکان چمکاتے ہیں!
Imam Ibn al-Qayyim (رحمه الله) ya ce:
“Faɗawa cikin soyayya cuta ce, kuma maganinta ita ce mutum ya auri wadda yake so.”
-Al-Tibb al-Nabawi, shafi na 250
It’s darkest before dawn. So if you feel like giving up, hang on for a little longer. The Almighty knows how much your heart aches. He will grant relief at the perfect time. Trust Him.
واشنگٹن میں آج اسرائیل کے حق مظاہرہ ہوا جس میں گلسطیبوں کو ختم کرنے تک جنگ جاری رکھنے پر تقریریں ہوئیں ۔اس پاکستانی نژاد انیلا علی نے بھی تقریر کی۔ یہ اس پاکستانی وفد کی سربراہ تھی جو شہباز شریف حکومت کے دوران ستمبر 2022میںُ اسرائیل گیا تھا ، اینکر احمد قریشی بھی شامل تھا