جابجا دل کو لگانے سے کہاں بھولے گا
ہم کو وہ شخص بھلانے سے کہاں بھولے گا
ہاں کئی روز سے وہ یاد نہیں آیا مگر
وہ فقط یاد نہ آنے سے کہاں بھولے گا
#اردو_شعر_و_ادب
وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا
مری آنکھ کس نے اجاڑ دی مرا خواب کس نے چرا لیا
تجھے کیا بتائیں کہ دل نشیں ترے عشق میں تری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پھول سے کبھی چاند چھت پہ بلا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر ترا حال تھا مجھے یاد ہے
کبھی جل گئیں تری روٹیاں کبھی ہاتھ تو نے جلا لیا
مری جنگ کی وہی جیت تھی مری فتح کا وہی جشن تھا
میں گرا تو دوڑ کے یار نے مجھے بازوؤں میں اٹھا لیا
مری چاند چھونے کی حسرتیں مری خوشبو ہونے کی خواہشیں
تو ملا تو دل کو یقیں ہوا مجھے جو طلب تھی وہ پا لیا
مرے دشمنوں کی نظر میں بھی مرا قد بڑا ہی رہا سدا
مری ماں کی پیاری دعاؤں نے مجھے ذلتوں سے بچا لیا
مری ڈائری مری شاعری جو پڑھی تو پڑھتے ہی رو پڑی
مرے پاس آ کے کہا مجھے بڑا روگ تو نے لگا لیا
نہ مثال کوئی نہ مشورہ کہ یہ بات دل کی ہے نیراؔ
جہاں اس کا حکم ہوا مجھے وہیں میں نے سر کو جھکا لیا
شہباز نیّر
#اردو_شعر_و_ادب
فرصت ملے تو دل کے احاطے میں جائیے
ٹوٹے تھے خواب جتنے انھیں خود اٹھائیے
آئی تھی یاد ان کی مگر ہم نے کہہ دیا
گھر پر نہیں ہے کوئی ، ابھی لوٹ جائیے
مہندی کے ساتھ چوڑیاں ان کی طرف سے ہوں
رسمیں حسیں ہیں عید کی ،ان کو بتائیے
عجلت پسند لوگ ہیں ،تلقیں نہ کیجیے
ہاں ہیں سراپا دل تو ہمیں دل بلائیے
تہذیب کا تقاضا تو کہتا ہے چپ رہیں
دل چیخ چیخ کہتا ہے ان کو بتائیے
رکھا ہے کپکپاتا ہوا کس نے دل پہ ہات
رگ رگ میں جم نہ جائے لہو، بس اٹھائیے
کہتے ہیں پاسبانِ عقیدت تو جانے کیا
ہے آرزو کہ اب کے خدا خود بنائیے
مقدور ہو تو شاذیہ اک بار ہی سہی
خود کو غرورِ عشق کی مسند پہ لائیے
شازیہ اکبر
#اردو_شعر_و_ادب
تو کرے جو فیصلہ آج کر، مری بات سن، تو ابھی نہ جا
مرے درد دل کا علاج کر، مری بات سن، تو ابھی نہ جا
ابھی جانے جانے کی ضد نہ کر، یہاں روٹھا روٹھا ہے سارا گھر
کبھی خوش تو میرا مزاج کر، مری بات سن تو ابھی نہ جا
میں مریض ہوں ترے ہجر کا ذرا ہاتھ میں مرا ہاتھ لے
تو غموں کا میرے علاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا
بسی رنگ و نور میں زندگی ہے جوان شب تو فضا حسیں
مرے جان و دل پہ تو راج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا
تو چھلکتے اشکوں کو دیکھ لے ذرا سن لے یہ مرا حال دل
یوں نہ سخت اپنا مزاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا
کیا حسین راہ گزر ہے یہ بڑی لذتوں کا سفر ہے یہ
نہ خیال تختہ و تاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا
یہ دعا ہے ارپتؔ خاص کی ذرا دیکھ لے ذرا سوچ لے
تو ذرا زمانے کی لاج کر مری بات سن تو ابھی نہ جا
#اردو_شعر_و_ادب
https://t.co/aua2Dk4ELp
ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا
کہ قتل کرنا ہو جس کو کہا نہیں جاتا
یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے
وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا
تمہیں تو شہر کے آداب تک نہیں آتے
زیادہ کچھ یہاں پوچھا گچھا نہیں جاتا
بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز
ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا
بھرم سراب تمنا کا کیا کھلا مجھ پر
اب ایک گام بھی مجھ سے چلا نہیں جاتا
عجیب لوگ ہیں دل میں خدا سے منکر ہیں
مگر زبان سے ذکر خدا نہیں جاتا
اڑا کے خاک بہت میں نے دیکھ لی اے زیبؔ
وہاں تلک تو کوئی راستہ نہیں جاتا
زیب غوری
#اردو_شعر_و_ادب
آئینہ آنکھ کی وحشت کی طرف لاؤں گی
ایک مرتد کو تلاوت کی طرف لاؤں گی
پہلے قسمت کو دعاوں کی طرف لانا ہے
پھر ہر اک فیصلہ قسمت کی طرف لاؤں گی
لان میں بیٹھ کے پیتا ہے وہ اکثر چائے
میں اشارے سے اسے چھت کی طرف لاؤں گی
میرے چہرے کو وہ عجلت میں ابھی دیکھتا ہے
دیکھنا اس کو میں فرصت کی طرف لاؤں گی
اس کو معلوم کہاں میری طلسمی طاقت
جلد ہی اس کو محبت کی طرف لاؤں گی
گورے لوگوں کی طرف اس کا جھکاؤ ہے ، اسے
پیار سے سانولی رنگت کی طرف لاؤں گی
یہ نیا دور________ روایات کو کھا جائے گا.
میں تمہیں فون سے پھر خط کی طرف لاؤں گی
کومل جوئیہ
#اردو_شعر_و_ادب
پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے
دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے
اپنا مسلک ہی نہیں زخم دکھاتے پھرنا
جانتا ہوں کہ ترے پاس مسیحائی ہے
سانحہ پھر کوئی بستی میں ہوا ہے شاید
شام روتی ہوئی جنگل کی طرف آئی ہے
صبح دم دل کے دریچوں میں پہ یہ ہلکی دستک
دیکھ تو بادِ صبا کس کی خبر لائی ہے
کچھ تو ہم مائل گریہ تھے بڑی مدت سے
کچھ تری یاد بڑی دیر کے بعد آئی ہے
دور اڑتے ہیں فضاوں میں پرندے عامر
میری کشتی کسی ساحل کے قریب آئی ہے
#اردو_شعر_و_ادب
زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِشام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
رات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھی
جان دینے میں کروں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی
طائرِ دل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی
توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی
میرے ہاتھوں میں ہے موجُود ترے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کہرام ابھی
میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھی
مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف
مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی
یاد کے ابَر سے آنکھیں مری بھیگی ہیں عدیم
اِک دھندلکا سا ہے ،بھیگی تو نہیں شام ابھی
شاعر: عدیم ہاشمی
#اردو_شعر_و_ادب
سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے
چاند روٹھا تو سیہ رات کا مطلب سمجھے
اس پہ اترے تھے محبت کے صحیفے لیکن
ایک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے
کون رہ رہ کے وفاؤں کو نبھانا سیکھے
کون فرسودہ روایات کا مطلب سمجھے
اس سے پہلے تو دعاؤں پہ یقیں تھا کم کم
تو نے چھوڑا تو مناجات کا مطلب سمجھے
جب وہ بھر بھر کے لٹاتا رہا اوروں پہ خلوص
ہم تہی دست عنایات کا مطلب سمجھے
اب کسی اور طرف بات گھمانے والے
میں سمجھتی ہوں تری بات کا مطلب سمجھے
تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے ترا اپنا کوئی
تو بھی اک روز مکافات کا مطلب سمجھے
کومل جوئیہ
#اردو_شعر_و_ادب
ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو
چاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو
یہ تبسم یہ عارض یہ روشن جبیں یہ ادا یہ نگاہیں یہ زلفیں حسیں
آئینے کی نظر لگ نہ جائے کہیں جان جاں اپنا صدقہ اتارا کرو
دل تو کیا چیز ہے جان سے جائیں گے موت آنے سے پہلے ہی مر جائیں گے
یہ ادا دیکھنے والے لٹ جائیں گے یوں نہ ہنس ہنس کے دلبر اشارہ کرو
فکر عقبیٰ کی مستی اتر جائے گی توبہ ٹوٹی تو قسمت سنور جائے گی
تم کو دنیا میں جنت نظر آئے گی شیخ جی مے کدہ کا نظارہ کرو
خوب صورت گھٹاؤں بھری رات میں لطف اٹھایا کرو ایسی برسات میں
جام لے کر چھلکتا ہوا ہاتھ میں میکدے میں بھی اک شب گزارا کرو
کام آئے نہ مشکل میں کوئی یہاں مطلبی دوست ہیں مطلبی یار ہیں
اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا اے فناؔ اس جہاں سے کنارہ کرو
فنا بلند شہری
#اردو_شعر_و_ادب
ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
زندگی گزری مگر درد نہ جانا دل کا
کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا
وہ محبت کی شروعات وہ بے تھاہ خوشی
دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا
ہوئے تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے
اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا
خوب ہیں آپ بہت خوب مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا
بے جھجک آ کے ملو ہنس کے ملاؤ آنکھیں
آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا
نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
حسرتیں خاک ہوئیں مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانا دل کا
لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا
ان کی محفل میں نصیرؔ ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
پیر نصیرالدین نصیرؔ
#اردو_شعر_و_ادب
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر
اس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا
یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں
کیسے جانا ہے کہاں جانا ہے کیوں جانا ہے
ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں
ہائے اس شہر کی رونق کے میں صدقے جاؤں
ایسی بھرپور ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں
پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہے
جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں
اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوں
مان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں
میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔ
ایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
#اردو_شعر_و_ادب