میں نے ٹوئٹر اور یوٹیوب پر کامنٹس کا مطالعہ کیا ہے اور ابھی تک کوئی بھی ایسا کامنٹ نظر سے نہیں گزرا جس نے میرے دیئے ہوئے شواہد کو examine کیا ہو اور میری تصحیح کی ہو۔ عمومی رویہ گالیوں اور بددعاؤں پر مشتمل ہے 🙂۔
کیوں؟ ایک تحقیقی کام کا علمی رد کیا جاتا ہے، آپ بھی کوشش کریں، مجھے خوشی ہوگی 🙂۔
اہل کفر ہمیشہ سے اپنے جاسوسوں کو ہمارا ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور ہمارے لوگ انہیں سر پہ بٹھا لیتے ہیں یہ علماء کرام اور اپ جیسے محققین کا احسان ہے کہ جو لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہیں وگرنہ ظفر اللہ خان اور ڈاکٹر اسلام جیسے جاسوسوں کی کہانی کچھ مختلف نہیں۔
میں نے ٹوئٹر اور یوٹیوب پر کامنٹس کا مطالعہ کیا ہے اور ابھی تک کوئی بھی ایسا کامنٹ نظر سے نہیں گزرا جس نے میرے دیئے ہوئے شواہد کو examine کیا ہو اور میری تصحیح کی ہو۔ عمومی رویہ گالیوں اور بددعاؤں پر مشتمل ہے 🙂۔
کیوں؟ ایک تحقیقی کام کا علمی رد کیا جاتا ہے، آپ بھی کوشش کریں، مجھے خوشی ہوگی 🙂۔
@asmashirazi@AbsaKomal عاصمہ شیرازی صاحبہ “ لبیک “ نے الزامات کے ثبوت مانگیں ہیں
کبھی اینکرز کو اپنا conduct بھی دیکھ لینا چاہئے
ہر معاملے میں ایک جماعت پر تنقید درست فعل نہیں ہوتا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)
حضرت رابعہ بصری کے معاملات یاد کیجیۓ اللہ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے بسا اوقات یہ وجد کی کیفیات بھی ہو سکتی ہیں ، بہرحال اعتراض کی صورت میں بھی مسخرے کہنا نہی بنتا ۔
@__Mein_ فتنہ انگیزی کا دور ہے
میڈیا کو اسان ترین سہولت بنا کر اب ہمارے انے والی نسلوں کو برین واش کیا جا رہا ہے بلکہ ہمیں بھی بہت حد تک کر چکے ہیں صحیح اور غلط میں اب فرق معلوم کرنا بے انتہا مشکل ہو گیا ہے
اتنا جھوٹ بولو کہ اس کا سچ پر گمان ہونے لگے بالکل یہی فلسفہ عبدالسلام قادیانی کےمتعلق اپنایا گیا۔ہمارے صحافیوں اور دانشوروں نے میڈیا کے ذریعے اس ’’غدار پاکستان‘‘ کو ہیرو بنا کر پیش کیا جو نہ صرف صحافت کے شعبے کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ پاکستان اور مذہب اسلام کے ساتھ بھی دھوکہ ہے
یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ عام طور پر ڈاکٹر سلام کے سائنسی کارناموں کی ایک لسٹ تو دہرا دی جاتی ہے لیکن تقریباً کوئی بھی ان کے ان peer-reviewed تحقیقی مقالوں پر تفصیلی بات نہیں کرتا جن کی وجہ سے انہیں ان کا نوبل ایوارڈ ملا تھا۔ 🙂
ایسا ایس لیئے ہے کہ ان کے پاس سوائے ایک نقل شدہ پیپراور ایک عام سی تقریر کے علاوہ دکھانے کے لیے بہت کچھ نہیں ہے!
پاکستانی سوشل میڈیا پر پہلی بار، ہم اس بات کو ثبوتوں سمیت پیش کر رہے ہیں کہ ایوارڈ حاصل کرنے میں ان کا کوئی قابل ذکر سائنسی کارنامہ نہیں تھا، بلکہ ایک ذہنی سکیم تھی جو فراڈ سے بھرپور تھی!
ویڈیو آج اپلوڈ کی جائے گی، ان شاءاللہ 🙂۔
@kashifmasood_@ChHashmatDeen Pakistani nation that does not have the right to save its vote will not have the right to dialogue unless we adopt an Islamic method.