I think I have a great sense of humour. That's because I smile and giggle (under the helmet) at these little funny jokes and situations that I tell myself while riding along the Lahore canal road.
پنجاب میں غربت 41 فیصد سے بڑھی اور پورے پاکستان میں 32 فیصد۰ علی خضر
مطلب باقی صوبوں میں 20-22 فیصد اور پنجاب میں 42 فیصد۰ ایک اور ایوارڈ تو وزیر اعلیٰ پنجاب کا بنتا ہے
Pakistan’s de facto ruler plans to redraw the country’s political map. What sounds like a dry administrative change is anything but. Register for free to learn why https://t.co/kJmI5IEyh0
چین کے ساتھ فری ٹریڈ اگریمنٹ نے پاکستان کو چین کا ڈمپنگ گرائونڈ بنا کر پاکستان کی مینوفیکچرنگ کیپسٹی کو زیرو کردیا۔ جب تک سول سروس میں سپیشلائزیشن نہیں ہوگی ایسے ہی فیصلے ہوں گے اور پاکستان تباہ ہوتا رہے گا۔
جب شیخ مجیب الرحمان کو بغاوت کے جعلی مقدمے میں میانوالی جیل میں قید کر دیا گیا، اس وقت بہت سے موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی صحافیوں نے انکا مذاق اڑایا۔
نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی (بعد میں نوازشریف کے سرپرست بنے) نے لکھا کہ "شیخ مجیب جیل میں ایک دیوانہ ہے جو طاقت میں دوبارہ آنے کے خواب دیکھتا ہے جبکہ اسکی قید نے نہ صرف اسکی اپنی سیاسی حیثیت کو کمزور کیا ہے بلکہ اسکے حامیوں میں بھی مایوسی پھیلی ہے۔"
مزید لکھا: "مجیب کی قیادت میں جو تحریک چلی، اس میں ان کے بیانات کے ساتھ ساتھ ان کی قید کی صورتحال نے ایک مذاق کی صورت اختیار کر لی ہےجیسے کہ وہ اپنی اپنی ہی سیاسی صفوں میں ایک مذاق بن چا ہو۔"
اسی دوران میانوالی جیل میں ایک خندق کھودی گئی جسے شیخ مجیب نے اپنی قبر کہا تو ضیا شاہد (پاکستان میں زرد صحافت کے باقاعدہ بانی) نے لکھا: "شیخ مجیب جیل میں بھی خود کو ایک ہیرو کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔"
شیخ مجیب الرحمان کی میانوالی جیل میں قید کا مذاق اڑانے والے زیادہ تر پنجابی صحافی وہ تھے جو اُس وقت کی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ تھے اور شیخ مجیب الرحمان کو ایک باغی اور ناکام رہنما کے طور پر پیش کرتے تھے اور ان کی قید کو قومی کامیابی قرار دیا کرتے تھے.
ہر دور کے فرعون کو ایسے کردار ہمیشہ میسر آتے رہے ہیں۔ آج بھی میسر ہیں۔
(از منقول)