Today I m tendering my resignation from the seat of National Assembly on the decision taken in the parliamentary meeting chaired and decided by @ImranKhanPTI
@NaumanIShaikh Thank you so much for your kind words, prayers, and condolences during this difficult time. Your support, compassion, and thoughtfulness have brought comfort to me and my family. We truly appreciate your kindness. May God bless you all.
Hari Om Shanti
With profound grief, we inform our family and friends of the sudden passing of our beloved father, Seth Megh Mal Ukrani.
His last rites will be held on Saturday, 27 June, at 10:00 AM in Karachi.
We request your prayers for the departed soul. Om Shanti.
شہباز شریف کو اقتدار میں آئے تقریباً پانچ سال ہو چکے ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں بہتری نظر نہیں آتی۔ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے سیاسی مفادات پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔
مزید وقت حکومت کر کہ ملک کا نقصان نا کرے۔
حکومت کو زوال تب آتا ہےجب حکومتی شجر سایہ نہ دے سکے۔ انگریزی الفاظ میںThe Utility of the Government is now over حکومتی چراغ مزید روشنی فراہم نہ کرسکیں ، آگے بڑھنے کا ویژن نہ ہو،یاد رکھیں ٹھہراؤ موت ہوتا ہے اور تحرک زندگی ۔
https://t.co/jCFvOd3PqH
آپ نے یے ٹوئیٹ کر کہ حقیقت بیان کی ہے، افسوس اس بات کا ہے کے یے سب کچھ ۷۵ سال سے ہو رہا ہے پہلے لوگون مین خوف ہوتا تھا اب رشوت لیگلائیز ہو گئی ہے۔ اب تو حکومت مین بیٹھے لوگ بھی اپنا کام پیسے دے کر کرواتے ہئین مفت مین کچھ بھی نہئین ہوتا۔
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
حکومت ملک مین عامُ آدمی کو روزگار دینے مین ناکام مگر جو لوگ روزگار کی خاطر سمندر پار جا رہے ان کو بھی جانے مین رکاوٹ ۔ اب تو جو عمرے مین جا رہے امین بھی رکاوٹ ۔ اگر وزیر نا ہوتا تو یے بچہ عمرے سے محروم ہو جاتا۔
میرے ساتھ وزیرِ پیٹرولیم موجود ہیں۔ میں اُن کو اور اُن کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، کیونکہ جس طرح انہوں نے دو مہینے محنت کی کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت نہ ہو ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب
پنجاب حکومت کی نجی کمپنی کے معرفت گندم کی خریداری کا پروجیکٹ ناکام۔ کسان سستی گندم کیون دے وہ بھی نجی کمپنیوں کو۔ حکومت اگر گندم خریدنی ہے تو خود سامے آئے اور 4000 روپیہ فی من خریدے۔چند دنون مین گندم 4500 روپیہ فی من مین بھی دستیاب نہین ہوگی۔
جہاں کھانے ہر بات ہو رہی ہےسمجھ سے باہر ہے پاکستان میں Coffee cafe’s اتنے کیسے کھلتے جا رہے ہیں،سری لنکا میں Tea Bars ہیں کیا اعلیٰ چائے ملتی ہے درجنوں چائے کے ذائقے ایک چھت کے نیچے ،ہم چائے پینے والے لوگ کافی پر کہاں اور کب فریفتہ ہوئے؟ ۂماری تو صبح ہی نہیں ہوتی جب تک چائے نہ ہو
ڈان کے مطابق پنجاب کے کسانوں کو حکومت مجبور کر رہی ہے کہ وہ 3700 کی بجائے 3500 میں گندم فروخت کریں، انتہائ عجیب بات ہے کہ کسان کو اس کی فصل کم ریٹ پر فروخت پر مجبور کیا جائے، پنجاب کے عوام پر مریم نواز کی TikTok حکومت ایک عذاب کی صورت مسلط ہے، کسانوں کو کم قیمتیں دے کر تباہ کر رہے ہیں، دکانداروں کو زبردستی دکانیں بند کر کے ذلیل کر رہے ہیں ریسٹورنٹ مالکان کو زبردستی ریسٹورنٹ بند کرا رہے ہیں کوئ ایک طبقہ ان کے شر سے محفوظ نہیں۔۔
گندم 2400 روپیہ فی من تھی تو کسان سے سستی لے کر عوام کو 4000 روپیہ فی من بھیچی گئی اور آج چینی 130 روپیہ فی کلو ہے تو اس کو مہنگی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وجہ صرف یے ہے کہ گندم کسان کی تھی اور چینی امیر یعنی مافیا کی۔ اس ملک مین امیر کا نقصان حکومت اپنا نقصان سمجھتی ہے۔
دنیا بدل چکی ہے ،نوجوان نسل ٹیک کی دنیا مین راج کر رہی ہے اور ہمارے ملک مین ایک مرتبہ ریٹائر ہونے کے بعد مین افسران کو دوبارہ حکومت مین نوکری چاہئے ، ۱۸ سال مین ایک شخص نہئین ملا جو سی ڈی اے چلا سکے،اس مین کوہی شک نہئین کامران لاشاری اچھا ہوگا مگر اس کو آرامُ کرنے دے۔
کامران لاشاری کو اسلام آباد میں لگانا اس شہر کی خوش قسمتی ہو گا، جس طرح کامران لاشاری نے پرانے لاہور کو زندہ کیا اور اسلام آباد کو مشرف صاحب کے دور میں چار چاند لگائے ہماری بدقسمتی ہے کہ تحریک انصاف اپنے دور میں انھیں اسلام آباد میں چیرمین نہیں لگا سکی، انھیں اسلام آباد کی خوبصورتی اور دلکشی کا انچارج بنانا انتہائ مثبت ہو گا!!
اگر آپ چائنہ کو دیکھین تو کیا آٹو انڈسٹری نے ترقی کی ہے اور پاکستان مین پجھلے ۳۰ سال سے تین بڑی کمپنیز نے عوام کو لوٹا اور کوئی نہئین ٹیکنالوجی نہین دی اب سال مین ۲۰ ارب منافع کمانے کے بعد یے کمپنی ایک ارب سرمایہ کریگی۔ میرے خیال مین اب وقت چلا گیا اب EV کا دور ہے۔
عدلیہ مین شفافیت کی کوئی بات بچی ہے جو باقی ریکوزیشن بلانے پر اعتراض کیا جاہے۔ اگر عوام کو انصاف دلانے ہے تو پوری ۲۷ ترمیم کو ختم کرنا ہوگا اور وہ ججز لگائے جائے جو جن کو انصاف دینے کی ہمت ہو۔
ریکوزیشن کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانا عدلیہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی بنیاد 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے رکھی گئی تھی۔ گزشتہ 16 سالوں میں آئین میں 9 مزید ترامیم ہوئیں، لیکن کبھی بھی ریکوزیشن کی بنیاد پر کمیشن کا اجلاس بلانے کی روایت نہیں رہی۔
اگرچہ بعد میں آئین میں یہ شق شامل کی گئی کہ کمیشن کے ایک تہائی ارکان کی درخواست پر اجلاس بلایا جا سکتا ہے، تاہم ججز کے تبادلے جیسے نہایت حساس اور اہم معاملے پر اس شق کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔
بہتر یہی ہوگا کہ ایسے اہم معاملات میں اجلاس آئین و قانون کے مطابق، باقاعدہ طریقہ کار کے تحت اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن یعنی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی منظوری سے بلایا جائے، نہ کہ محض ریکوزیشن کی بنیاد پر۔
خاص طور پر ججز کے تبادلے جیسے اہم فیصلوں کے لیے ریکوزیشن کے ذریعے اجلاس بلانا عدالتی نظام کے استحکام اور ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیئرمین جوڈیشل کمیشن ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ اس عمل کو متوازن شفاف اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق رکھا جا سکے۔
@QayyumReports@HasnaatMalik@saqibbashir156@mustafa_nawazk@fawadchaudhry@AsadAToor@maryamnawazkhan
Imagine a world with one currency for all! No more exchange rates, no more fees—just seamless global trade and travel. Let’s work towards a unified economy where everyone is on the same page.
#oneworldonecurrency#worlddollar
We (@slashapp) raised a $100M Series C at $1.4 billion valuation to build the world's most powerful business banking platform.¹
The round was led by @RibbitCapital, and co-led by @khoslaventures & @GoodwaterCap.
And we're releasing Twin: the world’s first AI private banker.
پاکستان مین ڈیزل لوکل آئل ریفائنری بناتی ہے اور تیل کی پرائس عالمی منڈی مین بڑنے کے بعد حکومت نے ڈیزل کی قیمت 520 روپیہ فی لٹر کی جس سے ریفائنری 150 روپیہ فی لٹر کو فائدہ ہونے لگا جو عوام کے ساتھ زیادتی تھی، آج حکومت نے 135 روپیہ فی لٹر کم کر ریفائنری کا ناجائز منافع کو ختمُ کیا