قرآن ہمیں چار بہت باریک اور معنی خیز رفتاریں سکھاتا ہے:
1- رزق اور دنیا کے لیے فرمایا:
“فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا”
یعنی سکون اور اطمینان کے ساتھ چلو، کیونکہ رزق اللہ نے پہلے ہی مقرر کر دیا ہے۔
2- نماز کے لیے فرمایا:
“فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ”
یہاں “سعی” کا مطلب ہے توجہ، شوق اور محنت کے ساتھ جانا۔
3- جنت کے لیے فرمایا:
“وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ”
یہاں رفتار اور تیز ہو جاتی ہے، یعنی نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔
4- اللہ کی طرف رجوع کے لیے فرمایا:
“فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ”
یعنی پوری تیزی کے ساتھ، بغیر پیچھے دیکھے اللہ کی طرف بھاگو۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان ترتیبوں کو الٹ دیا ہے۔
ہم رزق کے پیچھے ایسے بھاگتے ہیں جیسے وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں،
اور اللہ کی طرف جانے میں سستی کرتے ہیں حالانکہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
جو شخص اللہ کی طرف دوڑتا ہے، دنیا خود اس کے پیچھے آتی ہے۔