تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
میرے پاکستانیوں! یہ وہ شخص ہے جس نے آپ تک اصل حقائق پہنچائے۔ جب مین اسٹریم جرنیلی میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ تھا، تب حسنین رفیق نے لانگ مارچ ہو، جلسہ ہو، دھرنا ہو یا احتجاج، ہر موقع پر بھرپور کوریج دی اور حقائق عوام تک پہنچائے۔
آج وہ خود مشکل ترین گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں اغوا کیا گیا اور بدترین تشدد جبکہ ان کے حوالے سے تشویش ناک اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
آج وقت ہے کہ ہم اپنے اس بھائی کے لیے آواز اٹھائیں، جس نے مشکل وقت میں ہماری آواز بن کر حقائق عوام تک پہنچائے۔
ان کے لیے آواز اٹھائیں، ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کریں اور اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ خاموشی نہیں، آواز بلند کریں!
نیشنل جیوگرافک کی ویڈیوز میں دیکھا ہے کہ گیدڑ ، زیبرے ، لگڑ بھگڑ اور بھیڑیے بھی اپنے ساتھیوں کو بچانے کے شیروں اور مگرمچھوں پر حملہ کردیتے ہیں۔
کیسے بے حس ہیں وہ اراکین اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما جو جنید اکبر ، مولانا نسیم ، اقبال آفریدی جیسے اپنے کولیگز اور ساتھیوں کے اغواء پر بالکل خاموش ہیں اور اغواءکاروں کے نظام کو سہارا دے کر بیٹھے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا ایک بندہ اٹھایا تھا
بدلہ میں انہوں نے تباہی اور بربادی پھیر دی بندہ چھوڑنا پڑا ،اور اختر مینگل کے سینیٹرز اٹھائے انہوں نے بلوچستان میں سڑکیں بند کر دی
لیکن PTi کے وزیر اعلی کو اٹھا لیا جاتا ہے صوبائی صدر غائب مگر پارٹی خاموش بیٹھی ہے،، صدیق جان
راؤف کلاسرہ، جاوید چوہدری، انصار عباسی جیسے بیشرم صبح شام جھوٹ بولتے پر کبھی گرفتار یا اغواہ نہیں ہوئے
گرفتاریاں اغواہ عمران ریاض جیسے حسنین جیسے آغا سرور جیسوں کی ہوتی ہیں کیونکہ سچ دکھانے کے لیے ہمت و جرأت دکھاتے ہیں
#ReleaseAghaSheikhSarwar#ReleaseHusnainRafique
🇵🇰 EXCLUSIVE: IMRAN KHAN'S SONS SAY THE PAKISTANI GOVERNMENT IS TRYING TO KILL THEIR FATHER!
I spoke again with Qasim and Sulaiman Khan, and this conversation was the most heartbreaking.
Not only is their father, the former Prime Minister of Pakistan, still in solitary confinement, but his three courageous sisters, Aleema, Uzma and Noreen, have now also been arrested
And when @PTIofficial supporters hit the streets, many were arrested, beaten, and even killed!
Imran Khan’s sons say they haven't spoken to their father in over 6 months, nobody has seen him for 2 months, and they're increasingly worried about his deteriorating health.
I asked them the hardest question of all: Do they still believe they’ll ever see their father again?
Qasim admitted, he has very little hope, but they will never stop fighting
I told them both I wouldn't give up hope.
And I meant it.
@Kasim_Khan_1999
مبارک ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ
عاصمہ شیرازی صاحبہ کا KP میں ایمرجنسی کا دفاع نئی بات نہیں۔ انکو نارشل لا ایمرجنسی وہی بری لگتی ہے جو ان کے سیاسی منہ بولے والد نواز شریف کے خلاف ہو۔ تب یہ جمہوری ہوتی ہیں۔ اسی طرح خود یہ کتا کتی کتے کی دم جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں اور آج مطیع اللہ جان کو صحافتی آداب کے لیکچر دے رہی تھیں۔
ایک بات یاد رکھیں ۔ عاصمہ صاحبہ۔ آپ نے عورت کارڈ کو انتہائی بے دردی سے استعمال کیا۔ اتنا استعمال کیا کہ اب بے اثر ہو گیا۔ میں نے آپکی شیطانیت کو بھگتا ہوا ہے۔ آپ نے جس انداز سے میرے خلاف عورت کارڈ استعمال کیا۔ اور اس زمانے میں ہمارے اندر کے چھپے کچھ جعلی لبرل بھی آپکو سپورٹ کرتے رہے۔
پھر آپ نے کمال مہارت سے اپنے آپکو لبرل اور جمہوری پیش کیا۔ جب کے آپ ایک مفاد پرست انسان ہیں۔ جس کا ان اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اب آپکا پردہ چاک ہو چکا۔ اب نہ تو کوئی آپکو صحافی مانتا ہے۔ نہ ہی عورت کارڈ چلتا ہے۔ بلکہ اب تو آپکی شناخت ایک جرنیلی ٹاؤٹ کی ہے۔
آپکو نئی پہچان مبارک۔
ارشد شریف کی شہادت کے بعد روف کلاسرا نے لکھا ایک شخص جوانی میں چلا گیا۔ بھگتے گا کون؟ اسکی بوڑھی ماں ، اسکے چھوٹے چھوٹے بچے۔ درست لکھا۔ ہماری ہمدردی ، ہمارے خراج تحسین یا ہمارے الفاظ اسکے کس کام؟ اسکے بچوں کے کس کام؟
جنید جہانگیر کے بوڑھے والدین سلمان رضا کی اہلیہ ان کے دن رات کیا ہی ہوں گے۔
میں ابوبکر کو دیکھتا ہوں، دو بھائی شہید ، ایک اغواء اور خود پاسپورٹ منسوخ۔ اسکے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی؟ اسکی ماں ، اسکے والد کے شب و روز کیسے کٹتے ہوں گے؟ ابوبکر کو نہیں پتہ ، صائم جٹ فرانس کو نہیں پتہ کہ موقع ملتے ہی انہیں مار دیا جائے گا۔ شاید یہ زندگی بھر پاکستان نہ جا پائیں۔ یہ ابھی نوجوان ہیں ، گرم خون ہیں۔ اللہ نہ کرے یہ دس بیس سال بعد رضائیوں میں منہ دے دے کر نہ روئیں۔ انکی حد سے گزری ہوئی بہادری کا ان کو کیا فائدہ؟ یہاں تو کچھ نہیں بدلہ ، کچھ نہیں بدلے گا۔ سب ایسے ہی چلے گا۔ طاقتور بہت زیادہ طاقتور اور بے بس بہت زیادہ مجبور۔
لیکن پھر دماغ ابل جاتا ہے ، کسی مظلوم کو دیکھ کر ، کسی لٹے ہوئے کو دیکھ کر ، کسی کی نوچی ہوئی لاش دیکھ کر ، ہمارے دروازے پر بندھے ہوئے چوکیدار نما کتوں کو ہمی پر بھونکتے دیکھ کر ، باہر کی دنیا میں امن سکون اور خوشحالی دیکھ کر کہ ہم کب تک یونہی کڑھتے رہیں گے بستروں سے لگ لگ مرتے رہیں گے۔ کب تک بیماروں لاچاروں مریضوں والی موت کی خواہش دل میں پالے ہوئے بچتے رہیں گے۔ ہم کیوں نہ دلاوروں کی طرح مارے جائیں۔
دماغ کچوکے بھی لگاتا ہے ، ایک بے نامی اکاونٹ کے پیچھے سے ، ایک محفوظ جگہ سے محض کی بورڈ سے تیر چلانا اور باتیں بہادری اور دلاوری کی؟ چھی چھی چھی۔ یوکرین کی روس سے جنگ شروع ہوئی تو پورے یورپ سے نوجوان یوکرین کا ساتھ دینے پہنچ گئے۔ اس وقت انکی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں سے تین ہزار برطانوی شہری ہیں۔ انکو حور یا جنت کا وعدہ نہیں ، ان پر یہ جنگ فرض بھی نہیں لیکن لڑتے ہیں اور مرتے ہیں مردانگی کے لیے ، دلاوری کے لیے اور جسٹ کاز کے لیے۔
پتہ نہیں خود پر وقت آنے پر اسکی تاب آئے گی یا نہیں آئے گی۔ لیکن موت وہی ہے جسٹ کاز والی۔ موت وہی ہے جو بندوق کی نوک پر آتی ہے۔ موت وہی ہے جو لڑتے ہوئے آتی ہے۔ ورنہ ہسپتالوں میں روزانہ لاکھوں بوڑھے مرتے ہیں۔ زندگی بھی وہی ہے جس میں کوئی جسٹ کاز ہے ، جس میں طاقت ور کا خوف بھی ہو لڑنے کا عزم بھی اور جیتنے کی امید بھی۔ ورنہ ہسپتالوں میں لاکھوں وینٹی لینٹرز پر بھی زندہ ہیں۔
میں یہاں ناں دوستیاں بنانے آیا ہوں نا کسی عہدے کا خواہشمند ہوں اور نا ہی سیاست میرا اوڑھنا بچھونا ہے، میں جہاں بیٹھا ہوں بڑا مستحکم بیٹھا ہوں
مجھے عمران خان نے عہدہ دیا ہے اور جب تک عمران خان منظر عام پر نہیں آ جاتے جو مجھے صیح لگے گا میں کروں گا،
سلمان اکرم راجہ @salmanAraja
23rd October 2026
Martyred 4 years ago, No justice but still is the most relevant journalist in Pakistan. Shaheed Arshad Sharif is a symbol of courage and resistance.
بڑا سے بڑا مجرم بھی ہو تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے یہاں صوبے کا وزیراعلی پچھلے دس دن سے اغواء ہے اور ہماری عدلیہ کیس کو لٹکا رہے ہیں!!