@YarMKNiazi عمران خان چو اور منتر سے ازاذ نہیں ہوگا ۔ عمران خان کو جیل میں ڈالا گیا ،اس کے مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا، پارٹی کا نشان چھینا گیا،سرعام مخصوص نشستیں آپس میں ریوڑیوں کی طرح بانٹیں گئ جو بچھے کچھے تھے اس کو نااہل کیا مجال ہے کہ لیڈر نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جو درودیوار ہل
@MethaSaien@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ جس طرح ٹیچر کاکام پڑھانا ہے ،مالی کا پودوں کا دیکھ بھال کرنا ،پولیس کاکام سیکورٹی دینا۔ اس طرح بجٹ بنانے والا کاکام سال میں ایک بار بجٹ بنانا باقی 11 مہینے سکون سے رہنا بجٹ بنانا ان کاکام جو اس پر سال بھر تنخواہ لیتے ہیں اضافی تنخواہ کس خوشی میں اور وہ بھی ایک نہیں بلکہ 6اضافی
@TahirNaeemMalik یہ تو وہ نسوار والا نکلا ،نسوار تھا یا پان جو اسمبلی میں پھینک رہا تھا اس بوڑھی عورت کو چاہیے کہ جائے نماز پر بیٹھ کر اللہ کو یاد کریں ۔ یہ اسمبلی میں کیا کرے گی۔
"2018 سے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ خود شہباز شریف کر رہے ہیں، تو پھر بسم اللہ! آزاد کمیشن بنائیں، عالمی نمائندے شامل کریں اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ حقیقت سامنے آ جائے گی کہ 'ووٹ کو عزت دو' کے دعوے کہاں گئے۔ بیرسٹر گوہر نے شہباز شریف کو ان کے ہی بیان پر سخت جواب دے دیا۔"
میں نے 9 اپریل کو خیبرپختونخواہ فری پٹرول کےلئے اپلائی کیا تھا دو دن میں تمام ویرفیکشن مکمل ہوگی اور سب کچھ درست تھا مگر آج تک یہ میسج شو ہوتا ہے in printing queque
اب مہربانی کریں جو 200میں نے نادرا ویرفیکشن کےلئے جمع کئے تھے وہ واپس کریں آپ کے 2000 کو سلام۔
@YarMKNiazi
بڑی خبر: پی ٹی آئی نے شہباز شریف کا چیلنج قبول کردیا۔ شہباز شریف کا چیلنج کھلے دل سے قبول کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے شفاف انتخابات کی حامی رہی ہے۔ اگر 2018 کے انتخابات کی غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کروانی ہیں تو ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ تحقیقات صرف 2018 تک محدود نہ ہوں بلکہ 2024 کے انتخابات کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 2014 میں عمران خان نے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، اور جب وہ چار حلقے کھولے گئے تو ہر ایک میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ اس کے باوجود اُس وقت کی حکومت نے وسیع پیمانے پر تحقیقات سے گریز کیا۔
اسی طرح 2018 کے انتخابات کے بعد بھی عمران خان نے بارہا کہا کہ اپوزیشن جس حلقے کی نشاندہی کرے گی، پی ٹی آئی حکومت اسے کھولنے کے لیے تیار ہے، مگر اپوزیشن کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی، پی ٹی آئی
*پاکستان تحریک انصاف کا پٹرولیم مصنوعات میں فوری کمی کا مطالبہ*
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور برینٹ کروڈ چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان کے عوام کو اس کا حقیقی فائدہ منتقل نہیں کیا جا رہا۔
حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے مقابلے میں پاکستان میں دی جانے والی رعایت نہایت معمولی اور ناکافی ہے۔ عوام آج بھی مہنگا ترین پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں تو اس کا مکمل فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ آخر وہ کون سے مفادات ہیں جن کی خاطر عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟ حکومت پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکال رہی ہے جبکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ٹیکسوں اور لیویز کا حصہ انتہائی نمایاں ہے۔
پاکستان تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت نے عوامی ریلیف کو اپنی ترجیح ہی نہیں بنایا۔ وزراء روزانہ پریس کانفرنسوں اور دعوؤں کے ذریعے معیشت کی کامیابی کے قصے سناتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوام کو نہ بجلی میں ریلیف ملا، نہ گیس میں، نہ پٹرول میں اور نہ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں۔
اگر حکومت واقعی عوام دوست ہے تو عالمی منڈی میں آنے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک منتقل کرے، پٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کرے اور مہنگائی کے طوفان سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ صرف اعداد و شمار اور بیانات سے عوام کے چولہے نہیں جل سکتے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل فارمولا عوام کے سامنے لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستانی عوام کو مکمل ریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا۔
عوام اب حکومتی دعووں سے نہیں بلکہ اپنے خالی ہوتے ہوئے جیبوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے فیصلہ کر رہے ہیں، اور یہ فیصلہ موجودہ حکومت کے حق میں نہیں ہے۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
@Gmrz78 جماعت اسلامی والے تو وہ ہیں جو بجلی کےلئے دھرنا دیا جس کے بعد بجلی کی یونٹ 10روپے سے 50 روپے یونٹ پر چلی گئی اور اس کے بعد جماعت اسلامی والے ایسا غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ۔
@MaidahMuhammad 50 بیلن اگر بھی اگر دیں یہ وہ نہیں لیں گے کیونکہ عمران خان کی رہائی میں ان سب کا موت ہے ۔ انہوں نے اتنا ظلم اور بربریت کیا ہےکہ یہ ڈرتے ہیں عمران خان سے
@PakhtunDigital@MeFaheem یہ بلکل درست ہے کیونکہ ہر ڈاکثر ایک دن میں لاکھوں کماتے ہیں لیکن ان کے ساتھ پیر بھی شامل کریں ۔ عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے شریف اور زرداری فیملی ۔
@niazbeen93 اگر 45000 تنخواہ مقرر ہوا تو یہ سارے سیکنڈ شفٹ والا فارغ سمجھے۔ کیونکہ 45000 پر نئے ٹیچرز NTS پر لے سکتے ہیں سارے ایم فل اور پی۔ایچ ڈی بے روزگار بیٹھے ہیں۔
@humnewspakistan 2018 میں PTI کے عاطف خان کے 10000 ووٹ مسترد ہوئے تھے اور الیکشن 21 ووٹوں سے ہارا تھا۔ اس الیکشن میں بھی پی۔ٹی۔ائئ کا بھاری مینڈیٹ کو چھینا گیا تھا اور 2024 میں جو کچھ ہوا وہ ظلم تو نہ فرغون نے کیا اور نہ نمرود نے ۔نواز شریف سے کبوتر اڑا کر سٹرینگ پر شہباز شریف کو کیوں بٹھایا؟