عمران خان کو دس اپریل کو نکالا گیا تب سے لیکر آج تک عمران خان کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے اسٹیبلشمنٹ نے جو بھی اقدامات کئے عمران خان کی مقبولیت مزید بڑھی عمران خان کی طاقت عوامی سپورٹ ہے آج پاکستانی سیاست پر عمران خان کی اکیلے گرفت ہے
حفیظ اللہ نیازی🔥🔥
"یہ ہے پاکستان کا آخری گاؤں، برولمو، جو گلگت بلتستان کے آخری بارڈر پر بسا ہوا ہے۔ 1999 کی جنگ کے بعد یہ گاؤں ویران ہو چکا ہے، جہاں کبھی خوشیوں کے قہقہے گونجتے تھے۔ اب یہاں صرف خاموشی ہے، جو وقت کی کہانی سناتی ہے۔ برولمو کی سنسان گلیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جنگ کی ہولناکیوں کا اثر صرف زمین تک نہیں رہتا، بلکہ انسانیت کے دلوں میں بھی گہرے زخم چھوڑ جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس ویران گاؤں کی داستان سنی ہے؟ اس کی خاموشی میں کتنے درد بھری کہانیاں ��ھپی ہیں۔
عمران خان کی فوری رہائی اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ کیلئے لندن میں منعقدہ پاکستان تحریک انصاف کے کامیاب پاورشو کے بعد سوشل میڈیا پر میری تقریر کو لیکر ایک غیرضروری بحث جاری ہے جسکا مقصد پارٹی میں دراڑیں پیداکرنا اور عمران بھائی کی رہائی کیلئے جاری مہم سے توجہ ہٹان�� ہے. میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں عمران خان کا ایک عام سپاہی ہوں اور میری تقریر اہم نہیں مگر عمران خان کی رہائی ضروری ہے. سوشل میڈیا والنٹیرز عمران خان کی رہائی کیلئے جاری مہم پر توجہ رکھیں اور دشمن قوتوں کی پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں.
انتظار حسین پنجوتھا ایڈووکیٹ۔ میرے علاقہ سے ھیں۔ میرے سیاسی مخالف بھی ھیں لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ھوا ھے یہ ظلم ھے۔ میں اور میرا خاندان اور ھمارے ساتھی اس ظلم کی بھرپور مزمت کرتے ھیں۔
خان صاحب آپ جب وزیراعظم تھے
آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ ہر یکم نومبر کو گلگت بلتستان ائیں گے
واپس آ جائیں خان صاحب ہمارے دل بہت تکلیف میں ہیں 😭😭
#GilgitBaltistan
خان صاحب ��ب وزیراعظم پاکستان تھا دونوں سال یکم نومبر یوم آزادی کے دن گلگت بلتستان تشریف لایے اور وعدہ بھی کیا تھا وزیراعظم رہا تو باقی تینوں سال بھی یکم نومبر کو گلگت بلتستان آیا کریں گے 😍
اج گلگت بلتستان نہ موجودہ وزیراعظم آیا نہ ھی صدر پاکستان 😢
موسم خزاں 🍂
گلگت بلتستان کی دلکشی دیکھنے کے قابل
🧡
یوں تو خزاں کا موسم ہر جگہ بہت دلکش ہوتا ہے، جہاں رنگ بدلتے پتے, نیلگوں پانی اور خوبصورت نظارے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں، مگر خزاں کے جو رنگ چترال بالا کی وادی بونی کے ہیں وہ اپنی مثل آپ ہیں 🍁
نومبر کا آغاز وادی بونی میں ٹھٹرتے موسم سرما اور خزاں کی شروعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہی دنوں اس ��سین ��ادی پر چھائی خزاں کے نظارے اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔ گو، خزاں کے رنگ بدلتے پتوں کی بہار، قدرت کے نظارے ایسے کہ ہر کوئی کھنچا چلا آئے۔
پہاڑوں سے نکلتی سورج کی کرنیں اور زمیں پر جا بجا بچھی سنہری درختوں کی چادر وادی کی دلکشی میں جابجا اضافہ کر دیتی ہے۔ گو کہ، ہر طرف زمین پر بکھرے، ہوا میں لہراتے زرد پتوں کا میلہ سا لگا ہو۔ باغات، گلیوں اور سڑکوں پر ہر طرف زرد پتے بکھرے نظر آتے ہیں۔
مقامی لوگ رباب کی دھنیں بکھیر کر سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فلک پوش پہاڑوں کے باسی اپنے مہمانوں کو سخت سردی سے بچانے کیلئے لکڑی کا انتظام کرتے ہیں اور ان کی بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں۔
��اتی خیال:
"وادی گلگت بلتستان کا کوئی سیزن نہیں ہے۔ اس کے رنگ چاروں موسم میں نرالے ہیں"
اس وادی کے میری پسندیدہ ہونے کی وجہ یہاں لے لوگوں کی پر خلوص محبت اور خوبصورت جغرافیہ ہے۔ یہاں ہر لمحہ اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے. اور ایک منظر باز کو اس سے بڑھ کر کیا چاہیے، کہ ہر موسم میں ہر سو نت نئے نظارے آپکا استقبال کرنے کو تیار کھڑے ہوں 🧡
سو گلگت بلتستان کی موسمِ خزاں کے کچھ ڈرون کیمرے سے لی گئی تصاویر پیشِ خدمت ہیں۔ نیچے دیا گیا البم کھولیے اور قدرت کے ان خوبصورت رنگوں کو دیکھ کر اپنے تاثرات کا اظہار کریں۔
گلگت بلتستان ہنزہ ویلی کی شادی کی ایک خوبصورت رسم ملاحظہ فرمائیں. شادی کے دن دلہن کو سب رشتہ داروں کے سامنے یہ رسم کرنی پڑتی ہے.
Such a rich culture we have 🤩