کتنی فکر ہے انہیں افغانستان کی۔
ایک سرکاری ملازم کیسے برادر اسلامی ملک کے بارے میں ایسا بیان دے سکتا ہے؟ طالبان سرکار جتنی بھی بری ہو بیان دینے کا حق عوامی منتخب نمائندوں اور فارن آفس کا ہے۔ جنرل صاحب کو سکیورٹی معاملات تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ افغانستان ایران یا سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے وہ سیاستدانوں کا کام ہے۔
قیامت خود بتاۓ گی
قیامت کیوں ضروری تھی
فرید خان جون 9 جون سے قید میں تھے آج جب ان کو رہا کیا گیا تو ان کو سیدھا ان کے بیٹے کی قبر پر لایا گیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کو پاکستانی فوج نے شہید کر دیا ہے قبر پر پہنچ کر وہ ہوش کھو بیٹھے
ارض کشمیر پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے
ڈی جی ISPR نے کہا کہ فوج کا آذاد کشمیر ایشو سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ حکومت آذاد کشمیر کا معاملہ ہے
سچ یہ ہے کہ پوری آذاد کشمیر حکومت پاکستانی فوج کا بریگیڈیئر فائق ایوب، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی چلا رہا ہے، اور وہاں نہتے شہریوں پر گولی چلانے کا حکم فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیا
کاشف عباسی کھل کر بول اُٹھا 🔥🔥
جب ایک چلتے ہوئے نظام کو خراب کر دیا جائے تو پھر اس خود ساختہ خراب کردہ نظام کو دوبارہ اچھا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کوئی جمہوریت نہیں، یہاں مکمل اسٹبلیشمنٹ کا کنٹرول ہے۔
تحریک ازادی کشمیر کے عظیم مجاہد کمانڈر سردار محمد فاروق خان جو چند روز قبل راولاکوٹ دھرنے کے دوران فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اگر انیس ستی کی شہادت کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔ اگر عاصمہ شیزرازی صاحبہ اور ساتھی اس وقت لاشوں کو نہ جھٹلاتے۔ تو آج اسامہ جمیل زندہ ہوتے۔
صرف بندوق چلانے والا نہیں۔ اس پورے سسٹم کا ہر سہولتکار ان نوجوانوان کا قاتل ہے۔