🇮🇱🇮🇳 He made 4 jokes about Pakistan and India, and when the punchline was Israel, someone in the crowd promptly made DEATH THREATS, suggesting that joking about Israel is 'antisemitism.'
Writer: Mhedi
چین نے ایک ایسی لفٹ بنائی ہے جو آپ کی چیخیں نکلوا دیتی ہے۔
ژانگ جیا جی (Zhangjiajie) میں واقع 'بائی لونگ لفٹ' (Bailong Elevator) آپ کو صرف 88 سیکنڈز میں 326 میٹر بلندی تک لے جاتی ہے۔
اور پھر، اچانک! آپ پہاڑی چٹان کے پہلو سے نکل کر پتھر کے فلک بوس ستونوں پر مشتمل ایک ایسی حیرت انگیز دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جو بالکل فلم 'اوتار' (Avatar) کے مناظر کی عکاسی کرتی ہے۔
کسی مسجد میں امام صاحب کا مسئلہ تھا میں جمعہ پڑھانے گیا جب فارغ ہوا
تو بوڑھے اور نئے شادی شدہ جوڑے جمع ہو گئے
کیونکہ ٹاپک بچوں کے ناموں کے متعلق تھا۔
حضور ص نے کن ناموں سے منع فرمایا
کن ناموں کو تجویز کیا
کن ناموں کے متعلق صحابی سے فرمایا یہ دو نام رکھو اللہ نے آج تک کسی
آذربایجان💔
اسکول کی سیڑھیوں کو گیلا کرنا تاکہ باحجاب طالبات وہاں نہ بیٹھ سکیں، تعصب اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے!
تعلیمی ادارے نفرتیں پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ علم اور احترام کے مراکز ہوتے ہیں۔ حجاب پر یہ قدغنیں نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہیں بلکہ تنگ نظر سوچ کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔اور یہ ہے ان کا حقوق نسواں....
*ملک میں دو کانیں ہیں، ایک بند ہو گئی ہے*
پہلی کان ریکوڈک ہے، جس میں 80 ارب ڈالر کا سونا ہے۔ وہ زمین میں ہے، تالا لگا ہے، چابی بیرک گولڈ کے پاس ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں 2028 میں کھولیں گے۔
اور اس 80 ارب کو ہم 8 ٹریلین بنا کر بیچ رہے ہیں، جیسے قربانی کا بکرا 2 من کا ہو اور بیوپاری 20 من بتا کر بیچے۔
دوسری کان مڈل کلاس تھی۔ وہ زمین پر تھی، روز کھلتی تھی، روز سونا دیتی تھی۔ دکان کھلتی تھی، فیکٹری چلتی تھی، ٹیکس آتا تھا، بچہ سکول جاتا تھا۔
وہ کان ہم نے خود بند کر دی۔ بجلی کا بل، اسکول کی فیس، اور سود نے اس کو کھا لیا۔ اب اس کی جیب میں مہینے کے آخر میں 3 ہزار بچتے ہیں، اور دل میں صرف ایک دعا - کہ اللہ خیر کرے۔
اب تماشا دیکھیں
قرضہ ہے 83 ٹریلین، جو 80 ارب سے اتارنا ہے
بھوک ہے 2026 کی، جو 2028 کے سونے سے مٹانی ہے
دکان ہے بند، اور ہم کان کا اشتہار لگا رہے ہیں
بھائیو، کان ماں زمین نے کہیں نہیں جانا، وہ وہیں پڑی ہے۔ دکان چلی گئی تو واپس نہیں آتی۔
پہلے دکان بچاؤ، پھر کان بیچنا۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ 2028 میں کان کھلے اور خریدنے والا کوئی نہ ہو، کیونکہ سارے گاہک تو 2026 میں ہی بھوکے مر گئے
آزادی فلسطین کا سرخ دروازہ یحی السنوار کے خون آلود ہاتھ سے کھلے گا،ان شاءاللہ۔۔
یحییٰ السنوار کی شہادت کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔
آپ 2024ء کو جنوبی غزہ کے شہر رفح کے علاقے تل السلطان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران شہید ہوئے تھے۔
شہادت سے چند لمحے پہلے کی ان کی آخری تصویر آج بھی ان کی مزاحمت کے آخری لمحات کی یاد دلاتی ہے۔سنوار کی غیر معمولی جرات،وژن،استقامت اور قربانی سے تا ابد حریت پسند رہنمائی اور رہبری لیتے رہیں گے۔۔
اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
فلسطین، فلسطینیوں کا ہے پورے کا پورا ہے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔ انشاءاللہ