علیزے سحر نے ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے
علیزے سحر مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہے
Public must support her
More power to her
آج کی رات
شہادت کی رات
قتل کی رات خونی رات
ارشدشریف کوفیوں کے پاس پہنچ چُکا تھا
اسے بڑے اہتمام کیساتھ مقتل گاہ لے جایا گیا
جنہیں وہ اپنا دوست سمجھ بیٹھا تھا وہ یزید کے شمر نکلے
جسے وہ جائے امان سمجھا وہ دراصل سازشیوں کا شہر کوفہ تھا
ارشد شریف کیسے قتل ہوا؟
کس نے قتل کیا؟
کس نے قتل کروایا؟ منصوبہ کہاں بنا؟
ایک سال گزرنے کے بعد بھی ان سوالات کے
جوابات ابھی نہیں ملے لیکن کچھ سوالوں کے جواب
موجود ہیں جن کی بنیاد پر اوپر والے سوالوں کے جوابات تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے، کیونکہ ارشد کے بہت سے دوست کولیگز بہت سارے سولات کے جوابات دے سکتے ہیں جن کی بنیاد پر اس بات کا تعین باآسانی کیا جاسکتا ہے کہ ارشد شریف پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب موجود ہے
ہمارے خلاف مقدمات کس کے حکم پر کون درج کروارہا تھا ؟ اس کا جواب بھی موجود ہے
ہمیں دھمکیاں کون دے رہا تھا؟
ہمارا پیچھا کون لررہا تھا؟
ہمیں عبرت کا نشان کون بنانا چاہتا تھا؟
ہمیں زبان بندی کا کون کہہ رہا تھا؟
ہمیں آف ائیر کون کروارہا تھا؟
نوکریاں کون ختم کروارہا تھا؟
دوبئی میں اسکا پیچھا کس نے کیا؟
دوبئی سے کس نے نکلوایا؟
دوبئی حکام نے ارشد شریف کو کیا کہا؟
کینیا میں ارشد کا پیچھا کون کررہا تھا؟
ارشد کی لوکیشن کون ٹریس کررہا تھا؟
ارشد کے پاس موجود دستاویزات کا کون کھوج لگا رہا تھا؟
ان تمام سوالات کے جوابات آسانی سے مل سکتے ہیں
ارشد شریف کو اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ اسکی زندگی کو شدید خطرات ہیں اور یہ بات سو فیصد درست تھی اسی لیے ارشد شریف نے پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ کیا،
لیکن چونکہ خوف وہراس کی شدت بہت زیادہ ہے اور کچھ مصلحتوں کا شکار لوگ بھی زبان نہیں کھول رہے اور اس معاملے میں عدلیہ نےبھی کمزوری دکھائی اورکیس سپریم کورٹ میں معلق ہے
ارشد کےساتھ پہلی ملاقات ایف الیون قبرستان میں ہوئی تھی
جب اسکے شہید بھائی اور والد کا اکٹھے نمازجنازہ پڑھا تدفین ہوئی افسوس کا اظہارکیا اور رخصت ہوئے اسکے بعد گاہے بگاہے سلام دعا ہوتی رہی
ارشدشریف نے اےآروائی جوائن کیا تو اسکی شخصیت کو قریب سے دیکھنےسمجھنے پرکھنے کاموقع ملا اسے ہر اعتبار سے ایک بہترین انسان پایا کھرا سچا دبنگ اور سرتا پا پاکستانی،سب سےبڑی خوبی ارشد شریف منافق نہیں تھا، بغل میں چھری نہ منہ میں رام رام، فوج کو اپنا گھرسمجھتا تھا فوجی جوان افسر کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتا تھا فوج کیخلاف کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتا تھا اور ان کی کہی بولی بات پر اندھا اعتماد کرتا تھا ہر محاذ پر انکے ساتھ کھڑا ہوتا تھا انکے کیلیے اپنی جان مال وقت پروفیشن سب کچھ قربان کرنے کیلیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا اسے فوج سے عشق تھا عشق مر مٹنے والا عشق اسی عشق کیوجہ سے وہ سب سے ٹکرایا اس نے دوستیاں قربان کردیں اور آخر میں اپنی جان بھی قربان کردی اور دوستی یاری کا پیمانہ بھی یہی تھا جو فوج کا دوست وہ اسکا دوست جو فوج کا دشمن وہ ارشد شریف کا دشمن اسی ناتے فوج میں اسکی بہت عزت بھی تھی اور پیار بھی اور دوستیاں بھی NDU اور دیگر فورمز پر وہ لیکچر بھی دیتا تھا،
پاور پلے پروگرام پر ارشد بہت خوش تھا، پہلے پروگرام کیلیے مجھ سےبھی پاور پلے پر ایک ساٹ ریکارڈ کروایا،صحیح معنوں میں ڈیرے دار تھا اسکی ٹیبل پر کھانے کے لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑا ہوتا تھا انتہائی مرغن غذائیں،سگریٹ بہت پیتا تھا مجھے منع کرنیکی عادت تھی کبھی کبھی سمجھا بھی دیتا تھا ہنس کر سگریٹ بُجھا دیتا تھا پینا کم کردیتاتھا لیکن چونکہ اسکے سارے دوست اسکی ٹیم تمباکو نوش تھی وہ پھر شروع کردیتا تھا،ایف سیون مرکز ARY کا دفتر منتقل ہوا تو ہم ہمسائے بن گئے پھر ملاقاتوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا
بالاکوٹ پر بھارت نے بم گرایا تو مجھ سے مشورہ کیا کہ کیا خیال ہے ابھی جایا جائے یا کل میں نے کہا ابھی جائیں کہنے لگا بہت مشکل سے پہنچ پائینگے لیٹ ہو گئے ہیں لیکن پھر ٹیم کو لیکر نکل گیا اور سب سے پہلے سٹوری بریک کی سٹوڈیو میں ماریہ میمن نے پروگرام ہوسٹ کیا اور ارشد شریف بمباری والی جگہ پر موجود تھا ایسی کوریج پر وہ بہت خوش ہوتا تھا۔
رجیم چینج آپریشن،جسے عرف عام میں تحریک عدم اعتماد کا نام دیا گیا،شروع ہوا تو ارشد کو پہلے سے علم ہوچکا تھا کہ عمران حکومت کو فارغ کیا جارہا ہے اور کرپٹ ٹولے کو واپس لایا جارہا ہے یہیں سے معاملات خراب ہونا شروع ہوئے کیونکہ ارشد شریف کرپٹ مافیا کی کرپشن کا “حافظ” تھا اور پاکستان کا محافظ، اسکے دفتر میں کرپشن کی مستند دستاویزات کا انبار لگا ہواتھا۔جاری)
مریم بچاری آوازیں دیتی رہی کہ موبائل کی لائٹس آن کریں جیسے عمران خان کے جلسے میں لوگ آن کرتے تھے لیکن کسی نے آن نہیں کی کیونکہ دھاڑی والے لوگ جو پیسے اور ہنڈا 125 دے کر لاۓ گئے تھے وہ کیسے لائٹ آن کرتے ! آپ کو سمجھ جانا چاہئے کہ لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں.
یا اللہ جنہوں نے بھی ارشد شریف کے قتل کی سازش میں حصہ لیا انکو ایسے عذاب میں مبتلاکردے جو دنیا آخرت قبر میں انکے ساتھ رہے۔ انکی دولت انکے محل انکی قبریں ان پر تنگ کردے۔
آمین
ہمیں کہا تھا کھانا وغیرہ ملے گا لیکن کچھ نہیں ملا
بھوک لگی ہے جان نکل رہی ہے، لاہور جلسے میں آئی ہوئی خاتون رو پڑی کہتی ہے صرف اپنے بچوں کی خاطر یہاں آئے
صنم کو نواز شریف کے گھر میں آگ لگانے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا
یہ صنم نے ایک ہی دن ایک ہی موقع پر کہاں کہاں آگ لگائی تھی ؟
کہیں یہ وہ والی آگ تو نہیں جو دِلوں میں لگتی ہے اس کی باتوں سے
مریم نواز کہہ رہی ہیں کہ اللہ تیرا شکر ہے، نوازشریف واپس آ گئے
پہلی بات کہ اللہ کا شکر ادا نہ کریں، ان کا شکریہ ادا کریں جن کا کرنا بنتا ہے،
دوسری بات واپس آئے نہیں لائے گئے ہیں
عدالتوں سے مفرور نواز شریف ملک کی تمام میڈیا کو ساتھ ملا کر ریاستی مشینری کا بھرپور استعمال کرتے ہوے جو مقبولیت کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ نواز شریف کو چیلنج دیتا ہوں کہ چیئرمین عمران خان کو صرف 24 گھنٹوں کیلئے رہا کیا جائے ایک دن کے نوٹس پر لاہور میں اس سے دس گنا بڑا جلسہ نا کر کے دکھایا تو سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا ۔