جب میں برطانیہ آیا تو ایک روز یوتھیا دوست فرمانے لگا کہ اگر آپ کبھی فارغ ہوں تو کسی دن میں آپ کو اپنی گاڑی میں برمنگھم لےکر جاؤں گا اور وہاں آپ کو جنرل باجوہ کا محل دکھاؤں گا۔
عرض کیا یہ محل پرانا ہے یا ابھی نیا نیا خریدا ہے ۔
کہنے لگا “ پرانی پراپرٹی ہے ۔ ++++
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس چڑھا ہے کہ میری مرضی سے فیصلہ ہوگا کون آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی یا وزیراعظم ہوگا۔
ہم بقول ہمارے محترم نصرت جاوید صاحب دوٹکے کے رپورٹر ہیں جو چھوٹی موٹی صحافت کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہاں آپ جیسے مہان کلاکار سے میچ کرسکتے ہیں۔ اپ بہت بڑے ہیں ہمیں اگنور مارا کریں۔ عاشقوں کی طرح behave نہ کیا کریں۔
باقی میرے دوست اگر آپ جیسے سابقہ ملازم جی ایچ کیو کو بہت زور سے انقلاب آیا ہوا ہے تو آپ اپنے انقلاب کے لیے خود کوشش کریں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ جس دن مجھے انقلاب آئے گا میں آپ کو زحمت نہیں دوں گا جیسے آپ اور آپ جیسے دیگر جی ایچ کیو اور آب پارہ کے سابقہ ملازمین دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔
ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔
اب آج کل آپ ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ واہ۔ کتنا برا وقت ہم پر آیا ہوا ہے۔
آپ کا وہی حال ہے ایک بندے کی پشت پر درخت اگ آیا۔ کسی نے اسے بتایا تو ہنس کر کہا کوئی بات نہیں اگلے سال اس کی چھائوں میں سوئوں گا۔
کم از کم آپ تو ہمیں فوجیوں کا ٹاوٹ ہونے کا طعنہ نہ دیں اے میرے بہت ہی بہادر اور باضمیر انسان۔ 🙏
سر جی بہت احترام کے ساتھ تو کیا جنرل مشرف نے ایم ایم اے سے پارلیمنٹ میں وردی کے ساتھ صدر بننے اور indemnity لینے کے اگلے دن اپنی وردی اتار دی تھی؟
وہ وردی جنرل مشرف نے اس ووٹ کے تین سال بعد اتاری تھی۔
کسی دن آپ امریکن وزیردفاع رمز فیلڈ/کنڈلیزا رائس کی خودنوشت پڑھیں تو اندازہ ہوگا امریکن نے /2007 2006 میں جنرل مشرف کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب کافی ہوگیا تھاژ وردی اتاریں اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ سویلین صدر بن کر رہیں۔
مشرف اپنی وردی ایم ایم اے نہیں بلکہ امریکن کے کہنے پر اتارنے پر تیار ہوئے تھے۔ وہ ایم ایم اے سے کی گئی کمٹمنٹ سے تو مکر سکتے تھے (جیسے ضیاء PNA کے سربراہوں سے نوے دن میں الیکشن کا وعدہ کر کے مکر گیا کس نے کیا بگاڑ لیا تھا کہ ایم ایم اے بگاڑ لیتی)
لیکن جنرل مشرف امریکن صدر جارج بش اور ان کی ٹیم کے حکم سے نہیں مکر سکتے تھے۔
رمز فیلڈ لکھتے ہیں وہ جارج بش کی کابینہ میں واحد وزیر تھے جو مشرف کی وردی اتارنے کے خلاف تھے کہ امریکن نے ابھی افغانستان میں ان سے کام لینا تھا اور رمز فیلڈ کا کہنا تھا بغیر وردی مشرف ان کے کسی کام کا نہیں ہوگا۔
لیکن وزیرخارجہ کنڈولزا رائس اور خودصدر بش اس حق میں نہیں تھے لہذا کچھ عرصہ مشرف کو دیا گیا کہ وہ وائنڈ اپ کریں اور ہاں یہ الزام امریکن پر نہ لگے کہ وہ ہر دفعہ فوجی ڈکٹیٹر کو دس سال استمعال کرنے کے بعد ڈمپ /بھول جاتے ہیں لہذا انہیں کہا گیا وہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ سویلین صدر رہیں گے تاکہ امریکن جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد تیسرے آرمی جنرل کے طعنہ سے بچ جائیں۔
اگر ایم ایم اے وردی اترواتی تو وہ تین سال مشرف کو وردی کے ساتھ نہ دیتی نہ ہی LFO منظور کرتی جس نے آئین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا تھا اور سب سے بڑھ کر بارہ اکتوبر اور کارگل سمیت تمام فیصلوں کو قانونی کور نہ دیتی۔ اور تو اور ایم ایم اے نے جنرل مشرف کے امریکن کو افغانستان کے حملوں کے لیے فوجی اڈے دینے کے فیصلہ کو بھی endorse کر کے پارلیمنٹ میں ووٹ ڈالا تھا تاکہ کبھی کوئی کیس ان کے خلاف کبھی نہ بنایا جا سکے۔
اب آپ پوچھیں گے پھر جنرل مشرف پر نواز شریف نے 2013/204 میں ارٹیکل 6 کا مقدمہ کیسے قائم کیا تھا؟
اس لیے وزیراعظم نواز شریف نے 2013/14 میں مشرف کے خلاف ارٹیکل چھ کا مقدمہ اکتوبر 2007 کی ایمرجنسی لگانے پر دائر کیا تھا، بارہ اکتوبر کی بغاوت پر نہیں کیونکہ اسے ایم ایم اے اور ق لیگ آئینی کور دے چکے تھے۔
نواز شریف کو چوری پر نہیں بلکے اسٹیبلشمنٹ
سے لڑائی کی بنیاد پر اقتدار سے نکالا گیا تھا
نیازی کا اطراف اعتراف تو نیازی تم خود مان گیے مطلب تجے لانے والے فیضی باجوہ تھے
آج ایک محفل میں ججوں کی تنخواہ اور پینشن پر بات ہورہی تھی ،ایک سینئیر سیاستدان کہنے لگے ،،میں نے قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے دو دوست ججوں سے پوچھا ،
آپ نے قبل از وقت استعفی /ریٹائر منٹ کی غلطی کیوں لی ،
کہنے لگے غلطی کیسی؟
جتنی ہماری تنخواہ تھی اُتنی ہم بغیر کسی چخ چخ پینشن لے رہے ہیں اور دیگر کام بھی کررہے ہیں ،
پوچھاپینشن کتنی ھے ،
کہنے لگے 38 لاکھ
دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں .
ان ججوں میں کئی میاں بیوی ہیں ، اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک طرف ایک گھرمیں ماہانہ کتنی رقم جا رہی ہے اور دوسری طرف اعلی تعلم یافتہ لوگ رُل رہے ہیں .
کیا ریاست کے تمام اداروں کے ایک گریڈ کے ملازمین کے لیے عزت و وقار کے علاوہ قومی خزانے سے دی جانے والی مراعات اور پنشنوں کا نظام کسی حد تک پائیدار اور منصفانہ نہیں ہونا چاہیے،
یہ ظالمانہ روش کیسے ختم ہوگی
نورین خان صاحبہ نے انٹرویو کب دیا ، کس کو دیا اور چینل نے کب نشر کیا؟ ان سب باتوں سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ انہیں یہ الفاظ اپنے ملک کی فتح اور عزت کے بارے میں کہنے چاہئے تھے؟ کیا دلیل دی جا رہی ہے کہ چینل کو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا مگر کلپ لگا دیا گیا یہ کیوں نہیں کہتے غلط کہا تھا۔
نوشیروان برکی کے دس ہسپتالوں کو 75ارب روپیہ دیا گیا صحت کارڈ کے نام پر اور باقی پورے کے پی کے ہسپتالوں کو 60ارب تقریباً اس شوکت خانم اور برکی فیملی نے ایک کے پی کے سے اتنا دھن بنا لیا ہے کہ گر یہ سارے شوکت خانم سے کمانے کی کوشش کرتے تو ان کو اک صدی لگتی،
یہ برکتیں ہیں شعور کی...!
حیران ہوتا ہوں ہمارے ہاں ارشاد انجم بٹ جیسے کرداروں کو ریاست تمغے میڈلز کیوں نہیں دیتی جو ویٹر کی جاب کرتے کرتے اسی ہی ہوٹل کے ایک دن جنرل مینجر بنے اور اس کمرے میں ٹھہرے جہاں 1974 میں بھٹو صاحب کی اسلامک کانفرنس کے مہمانوں میں سے ایک امارات کے صدر سلطان النہیان کو سوئٹ میں چائے پیش کرنے کی ذمہ داری تھی۔
انجم بٹ آج بھی اپنے ویٹر ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔۔ لاہور کے ایک بٹ گھرانے میں جنم لینے والے ایک غیرمعمولی انسان کی غیرمعمولی کہانی جس نے ویٹر سے کام شروع کیا اور آج وہ فلیٹز ہوٹلز آف گروپ کا چیف ایگزیکٹو ہے۔
میں نے ان سے ایک سوال پوچھا ان کے بڑے بچے/گرینڈ چلڈرن جو اب زندگی میں بہت کامیاب ہیں وہ ڈسٹرب نہیں ہوتے کہ آپ ہر ایک کو کیوں بتاتے ہیں کہ آپ ایک ویٹر تھے، جس سے اب ان کی سوشل لائف خراب ہوتی ہے؟
بٹ صاحب کی کہانی سنیں۔
@CMShehbaz@TararAttaullah@betterpakistan@MaryamNSharif@MIshaqDar50@NawazSharifMNS
جب نوازشریف کی تقاریر پر پابندی کی پٹیشن دائر ہوئی تو اطہر من اللہ نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں مت لائیں
اور جب عمران کی تقاریر پابندی پٹیشن آئی تو کہا وہ عام قیدی نہیں ان کے لاکھوں فالور ہیں
یہ ھیں وہ ھماری عدالتیں جو عمران خان کو پسند ھیں
ایک فلم سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بننی چاہئیے۔ یہ ایک سپرہٹ فلم ہو گی جس کی سٹوری یہ ہو گی کہ ظہیر نامی ایک عہدیدار کس طرح ایک گود میں لئے ہوئے سیاستدان اور اس کے کزن کینیڈی بابا کے لئے ایک بڑا پلان بناتا ہے۔ کینیڈی بابا اپنے کارکن مرنے کے لئے پیش کرتا ہے تاکہ اس کے فوری بعد شروع ہونے والے حکومت مخالف دھرنوں کو عوامی حمایت دلوائی جا سکے۔ یہ قتل و غارت اتنی کامیابی سے کروائی جاتی ہے کہ وزیراعلی بھی حیران رہ جاتا ہے اور پھر سکرپٹ کے مطابق ان پر مقدمات درج کروا کے دو ماہ بعد ہی دھرنے شروع کروا دئیے جاتے ہیں۔
اس کے اگلے مرحلے میں منتخب وزیراعظم کو اپنے ججوں کے ذریعے نااہل کروایا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب سے عثمان بُزدار جیسے سیاستدانوں کو ڈنڈے کے زور پر ترنگا جھنڈا پہنایا جاتا اور آخر میں آر ٹی ایس بٹھا کے سازش کو حتمی کامیابی تک پہنچایا جاتا ہے اور پلے بوائے کی شہرت والا شخص وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے۔ یہاں مشن ایک دوسرا عہدیدار سنبھال لیتا ہے۔
فلم کا سیکوئیل بھی بن سکتا ہے کہ کس طرح سازش سے آیا وزیراعظم سازش اور کرپشن سے ہی حکومت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر ایک مرد مجاہد حافظ قرآن اپنے عہدے کی پروا کئے بغیر وزیراعظم کی فیملی اور کارندوں ( وہی گوگی وغیرہ) کی ہوشربا کرپشن کی فائلیں بہت بہادری اور جرات کے ساتھ وزیراعظم کے سامنے رکھ دیتا ہے اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اس سے مقتدرہ کو ہوش آ جاتی ہے اور وہ اپنی غیرآئینی اور غیراخلاقی حمایت ختم کر دیتی ہے۔ 
جب سیاست آزاد ہوتی ہے تو ایک بار پھر پلے بوائے سیاستدان کا لانگ مارچ اور دھرنا ہوتا ہے کہ حافظ قران مجاہد سپہ سالار نہ بن سکے مگر وہ منہ کی کھاتا ہے کیونکہ سیاستدان ملک بچانے کے لئے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کے متحد ہو جاتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ دشمن کی کٹھ پتلی سیاستدان اپنے ہی ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی کال دیتا ہے، اپنے ہی ملک کی فوج پر حملہ کر دیتا ہے۔یہاں فلم کا اہم موڑ آتا ہے کہ جرنیل کا وہ گدھا جسے ہر کسی کو دولتی جھاڑنے کی عادت ہوتی ہے وہ نو مئی کر کے بم کو دولتی جھاڑ دیتا ہے۔۔۔
نجم ولی خان
سابق جج اطہر من اللہ نے ڈان اخبار میں ایک آرٹیکل کے ذریعے بغاوت پر اکساتے ہوۓ ملک گیر تحریک چلانے کا مشورہ دیا ہے
افسوس یہ ہے کہ موصوف ابھی بھی ریٹائرڈ ہوکر قومی خزانے کو ماہانہ لاکھوں میں پڑ رہے ہیں، اگر انکو یوتھیائی کلٹ کے مرشد کی حقیقی آزادی کا اتنا شوق ہے اور بڑے زور سے مزاحمت آئی ہے تو پہلے ریاست سے مراعات اور پنشن لینا بند کریں
مزاحمت کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے سرکاری مراعات کھاکر نہ ہی مزاحمت ہوتی ہے اور نہ ہی بغاوت۔
1 ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے "امریکی دورے" کے دوران اقوام کے سیکرٹری جنرل سمیت کئی سفارتکاروں سے "ملاقات" کی
2۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے "چینی کی قیمتوں" کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کی!
باقی خیر خیریت ھے
جو لوگ عمران خان کو مہاتما بنا کر پیش کرتے اور کہتے کہ خان کی کوئ فیکٹری نہیں خان بڑا سادہ آدمی ہے اسکی قمیض میں بھی موریاں ہیں
وہ لوگ شخصیت پرستی کا شکار ہیں
ارے بھائ وہ 300 کنال کے گھر میں رہتا ہے وہ حکومت میں 4 کروڑ کے اثاثوں کیساتھ آیا تھا جب حکومت سے نکلا تو 31 کروڑ کا مالک تھا یہ کونسی سادگی ہے؟ نصر اللّٰہ ملک 👏👏👏
وہ بھی کیا دور تھا!!!
جب چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم بنا رہے تھے۔ جسٹس گلزار کراچی نیسلہ ٹاورگرا رہے تھے۔ جسٹس بندیال خاندانی منصوبہ بندی پرسمپوزیم کروا رہے تھے ۔ نیب چیرمین جاوید اقبال سر سے پاؤں تک چمیاں لے رہے تھے۔خاتون اول ملک ریاض سے قیمتی تحائف وصول رہی تھیں، ++++
مورخ لکھے گا کہ نصراللہ ملک کی راتی کوئی نہیں جمیا
اقتدار میں انے کے بعد اثاثے بڑھ گئے لیکن بندہ شریف
حکومت باجوہ نے دی گاڑی ترین نے دی کچن علیم نے چلایا بیوی مانیکا نے دی اور بچے گولڈ سمتھ پال رہے اور ایسا پھدو انسانی تاریخ میں کسی اور کا نہیں لگا
قوی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کا الیکشن جیتا نواز شریف اٹھ کر مبارک دینے گئے ۔ بے نظیر نواز شریف کو آتا دیکھ کر اٹھ کر کھڑی ہںو گئیں۔ اور بولیں "یہ محض ایک الیکشن تھا جس میں ایک کو جیتنا تھا میں جیت گئی مگر میں آپ کے ساتھ ملکر پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں" ۔۔
کیا اب عمران خان نے جو کلچر دیا اس میں اس طرح کی اخلاقیات کی امید ہے ؟
یہ کوئی پٹواری دیکھیں کیسے بوٹ پالش کر رہا ہے!
اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ٹاؤٹ دیکھیں کیسے تلوے چاٹ رہا ہے !
ضمیر فروش دانشور کیسے بیانیہ سازی کر رہا ہے!
دین فروش مولوی کیسے جی حضوری کر رہا ہے !
اگر آپ کی عقل گھاس چرنے نہیں گئی تو یہ سچ کہہ رہا ہے۔جو بھی ایسا کریگا وہ دشمن کا یار ہے !