راستہ بھٹکنے کی سزا موت؟ راستہ بھٹکنے کی سزا جوان عمر میں بیوگی؟ راستے بھٹکنے کی سزا دو کم سن بچیوں کی یتیمی؟
اتنی بڑی سزا صرف راستہ بھٹکنے کی جرم میں؟
کوئی ظلم سا ظلم ہے! اللہ 💔
ہمارے ملک سے تمام مجرموں کو غرق کر دے آمین
ویڈیو پیغام میں ورکر نے کہا میرا نام عمر حیات ہے، والد کا نام نظر حسین، یو سی 132۔ میں بینک سے 39,600 روپے تنخواہ لیتا ہوں۔ لیکن جو سپروائزر شہباز ہے، جو بینک کے باہر موجود ہوتا ہے، وہ مجھ سے تنخواہ لے لیتا ہے۔ مجھے 27,000 روپے دیتا ہے اور باقی پیسے خود لے کر کھا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ باقی دفتری معاملات ہیں اور دفتر میں جمع کرائے جاتے ہیں۔
ہم نے اس کے خلاف شکایت کی تو ہمیں دفتر بلایا گیا۔ دفتر میں عمر صاحب موجود تھے، انہوں نے کہا کہ تم نے کیوں شکایت کی؟ ہم نے کہا کہ ہم اپنے حق کے لیے شکایت کر رہے ہیں کہ ہماری پوری تنخواہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی وردیاں اتار دو، وردیاں اتار کر یہیں رکھ دو اور ٹراؤزر پہن کر چلے جاؤ۔ کام پر آنے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم نے اس سے کہا کہ وردیاں واپس کر دیں تو اس نے کہا کہ یہ وردیاں سپروائزر کو جمع کروا دو اور پھر کام پر مت آنا۔
ہم کل دوسری بار اپنی حاضری لگوانے آئے تو انہوں نے ہماری حاضری بھی نہیں لگائی۔ آج صبح دوبارہ آئے ہیں تو انہوں نے پھر ہماری حاضری لگانے سے منع کر دیا ہے۔ سپروائزر شہباز نے منع کیا ہے کہ ان کی حاضری نہیں لگانی۔
لہٰذا، میری وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ مہربانی کی جائے اور ہمیں ہمارا حق دلوایا جائے۔ ہمیں یہ کام کرتے ہوئے تقریباً 6 ماہ ہو گئے ہیں۔ ان سے ہماری گزارش ہے کہ ہمارے پچھلے تمام معاملات حل کیے جائیں، ہماری پوری تنخواہ ہمیں مل جائے اور جو تنخواہ انہوں نے کھائی ہے، وہ بھی ہمیں واپس مل جائے۔"
@MaryamNSharif@CMComplaintCell@SaimaFarooq
وکیل صاحب نے کچہری اور عدالت سے ہیرا انسان ڈھونڈ نکالا ۔۔۔ پیسے اور ہوس کے اس دور میں جہاں بھائی بھائی کا دشمن بن گیا بیٹے ماں باپ کو جائیداد کے لیے ق۔تل کرتے پھر رہے ہیں اور بھائی بہنوں کو حصہ دینے سے انکاری ہیں وہاں وکیل صاحب کے ساتھ کھڑے اس سنیئر کورٹ ملازم نے مثال قائم کردی ہے ، ان صاحب نے چھوٹے بیمار بھائی کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دی ، چند ہفتے قبل انہوں نے دونوں گردے فیل ہونے کی بناء پر خود اپنا گردہ بھائی کو دینے کا فیصلہ کر لیا ٹیسٹ ہوئے اور ڈاکٹروں نے اوکے کردیا ۔ یہ عدالت سے ہسپتال ٹرانسپلانٹ کے لیے جاتے وقت کی تصویر ہے ۔۔۔ کسی نے ان صاحب سے پوچھا تو یہ بولے ، بھائی کی تین بیٹیاں ہیں اور میرا ایک ہی بیٹا ، مجھے کچھ ہو گیا تو میرا بیٹا چچا کے زیر سایہ زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے گا لیکن میرے بھائی کو کچھ ہوا تو میں تین بھتیجیوں کی پرورش کا بوجھ شاید نہ اٹھا سکوں پھر میرا سگا بھائی ہے میرا ماں جایہ ہے میری زندگی اسے لگ جائے تو کیا پروا ۔۔۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے بعد دونوں بھائی تیزی سے روبصحت ہیں ، دعا ہے اللہ کریم دونوں بھائیوں کی عمر دراز کرے اور انکی اولادوں پر انکا سایہ تادیر برقرار رکھے آمین
1879 میں مصر کے ایک عام دیہاتی علاقے کفر الشیخ کی ایک سادہ عورت مبارکہ خفاجی نے ایک کسان ابراہیم عطا سے شادی کی۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے شوہر نے اسے اس وقت طلاق دے دی جب وہ حمل کے آخری مہینوں میں تھی۔
مبارکہ اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ اسکندریہ منتقل ہو گئی، جہاں اس نے اپنے بیٹے علی ابراہیم عطا کو جنم دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو بہتر تعلیم اور بہتر مستقبل دے گی۔
زندگی نے اسے سخت حالات دیے، مگر اس نے مایوسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ اگر چاہتی تو اپنے بیٹے کو محنت مزدوری پر لگا سکتی تھی، مگر اس نے خود سڑکوں پر پنیر بیچ کر اس کی پرورش کی۔
اس نے اپنے بیٹے کو رأس التین پرائمری اسکول میں داخل کروایا۔ جب وہ ابتدائی تعلیم مکمل کر چکا تو اس کے والد اسے واپس لے جانے آئے تاکہ اسے صرف بنیادی تعلیم کے بعد مزدوری پر لگا دیں۔
لیکن مبارکہ کے خواب بڑے تھے۔ اس نے ہمت اور حکمت سے اپنے بیٹے کو چھپا کر قاہرہ منتقل کیا اور اسے خدیویہ اسکول درب الجمامیز میں داخل کروایا۔ تعلیم جاری رکھنے کے لیے وہ ایک گھرانے کے یہاں ملازمت کرتی رہی۔
علی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور 1897 میں میڈیکل کالج میں داخل ہوا اور 1901 میں ڈاکٹر بن کر فارغ التحصیل ہوا۔
کچھ سال بعد سلطان حسین کامل شدید بیمار ہوئے اور ان کی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر عثمان غالب نے ڈاکٹر علی ابراہیم کا نام تجویز کیا۔ انہوں نے کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد انہیں سلطان کا چیف سرجیکل کنسلٹنٹ اور ذاتی معالج مقرر کیا گیا اور “بیگ” کا خطاب ملا۔
1922 میں انہیں بادشاہ فواد اول نے “پاشا” کا خطاب دیا۔
1929 میں وہ قاہرہ یونیورسٹی کے پہلے مصری ڈین بنے اور بعد میں اسی یونیورسٹی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔
1940 میں وہ وزیر صحت بنے، اسی سال انہوں نے مصری میڈیکل سنڈیکیٹ قائم کیا اور اس کے پہلے صدر بنے، ساتھ ہی وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
ایک ان پڑھ دیہاتی اور طلاق یافتہ ماں نے ایسا بیٹا پروان چڑھایا جس نے تاریخ بدل دی۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔
ہر اس ماں کو سلام جو زندگی کی حقیقی درسگاہ ہے۔
نو محرم... رات تقریباً 9 بجے...
#قومی_زبان
سرجری کی ایمرجنسی میں ایک 13 سالہ بچی لائی گئی۔
چہرہ زرد..
سانسیں ٹوٹتی ہوئی...
آکسیجن صرف 38%...
اور نبض تقریباً 190...
پوری ایمرجنسی میں ایک لمحے کے لیے بھگدڑ مچ گئی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ایک بھاری ریڑھی اس کے سینے کے اوپر سے گزر گئی تھی۔ دونوں پھیپھڑے بری طرح زخمی تھے۔
مگر اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ حادثہ کیسے ہوا؟
ہم سب کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال تھا...
کیا یہ بچی واپس سانس لے سکے گی؟
میں نے اس کے والد اور سفید داڑھی والے دادا کو بتایا کہ حالات بہت نازک ہیں۔
دادا نے میری طرف دیکھا...
پھر بچی کی طرف...
اور ان کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہنے لگے۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ دنیا کا سب سے بھاری وزن شاید ایک بے بس بزرگ کی آنکھ کا آنسو ہوتا ہے۔
پھر وقت جیسے دوڑنے لگا۔
کوئی آکسیجن سنبھال رہا تھا...
کوئی آلات تیار کر رہا تھا...
کوئی خون کا بندوبست کرنے بھاگ رہا تھا...
کوئی آئی سی یو میں بیڈ ڈھونڈ رہا تھا...
بچی کو آپریشن تھیٹر لے جاتے ہوئے اپنے سینئر رجسٹرار کو راہداری میں بیڈ کے ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھا۔
اور نو محرم کی چھٹی کے باوجود، ہماری درخواست پر ہمارے اسسٹنٹ پروفیسر بچی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آپریشن تھیٹر آئے۔
آپریشن تھیٹر میں سینے میں دونوں طرف ٹیوب ڈالی گئی۔
تقریباً ایک لیٹر خون باہر نکلا، جو پھیپھڑوں کو دبا کر اس کی سانسیں چھین رہا تھا۔
اور پھر...
مانیٹر پر ایک عدد بدلا، آکسیجن بہتر ہوتی گئی۔۔
38... 52... 71... 86... پھر 92%۔
نبض بھی آہستہ آہستہ 190 سے واپس زندگی کی طرف لوٹنے لگی۔
اس لمحے پورے آپریشن تھیٹر میں کسی نے تالیاں نہیں بجائیں...
صرف سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا...
اور دل ہی دل میں کہا:
الحمدللہ...
آج جب وہی بچی آئی سی یو میں مسکراتی ہوئی ملی، تو اسے شاید یاد بھی نہیں تھا کہ ایک دن پہلے کتنے لوگ اس کی ایک ایک سانس کے لیے لڑ رہے تھے۔
شاید یہی ڈاکٹر کی اصل کمائی ہے۔
نہ شہرت...
نہ دولت...
بلکہ ایک باپ کی دعا...
ایک دادا کی نم آنکھیں...
اور ایک بچی کی لوٹتی ہوئی مسکراہٹ۔
میرا یقین ہے...
جس دن ڈاکٹر کے دل سے انسانیت ختم ہو جائے، اسی دن اس کی ڈگری صرف ایک کاغذ رہ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مریض کو شفا دے، اور ہمیں ہمیشہ کسی کی زندگی میں آسانی کا ذریعہ بنائے۔
کیونکہ بعض اوقات... ایک جان بچانا، پورے خاندان کو دوبارہ زندہ کر دینے کے برابر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ابو بکر بھٹہ
ایک مرتبہ ایک مقامی کوچ میں ایک بدمعاش ٹائپ آدمی نے مقررہ کرایہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کنڈیکٹر کا گریبان پکڑ لیا۔ بات رفع دفع ہوئی تو کلینر اٹھ کر آگیا۔ وہ لوک دانائی سے بھرپور پنجابی تھا اور وہ چلتی بس میں چھت پر ہاتھ ٹکا کر مسافروں کو دیکھتے ہوئے پنجابی میں کہنے لگا:
یہ بات میرے حافظے میں چپک کر رہ گئی اور کسی کا جائز کاروبار کہیں بھی ہو، میری رائے میں انسانی جان کی حرمت طرح ایک مقدّس حیثیت رکھتا ہے، مجھے اس کے پیچھے بچے، عورتیں اور گھروں میں جلتے چولہے نظر آتے ہیں اور یہ سب اس کلینر کی دین ہے جس نے بدمعاش کی پروا نہ کرتے ہوئے اٹھ کر بات کی۔
لاہور میں رہنے والو دوستوں سے ارجنٹ اپیل ۔۔
ایک بہن نے پریشانی میں ڈی ایم کیا ہے ۔
اس کی چھوٹی بہن کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن لاہور کے ہسپتال میں ہوا ہے۔ وہ اسٹریچر پر ہے۔ پردیسی ہیں کسی اور شہر سے تعلق ہے ۔
پچھلے تین دن سے لاہور میں در در بھٹک رہے ہیں۔ مگر کوی رہائش نہی مل رہی ڈیلر اوپر والے فلیٹ دکھاتے ہیں یا پھر نچلے پورشن کے پیسے اتنے زیادہ مانگتے ہیں کہ وہ افورڈ نہی اور یہ لوگ تھک کر ہار چکے ہیں۔
بس ایک مہینے کے لیے مسعود ہسپتال گارڈن ٹاؤن کے قریب گراؤنڈ فلور چاہیے۔ کچن اور واش روم کے ساتھ۔ وہ لوگ جو بھی جائز کرایہ ہو گا وہ دیں گے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے اللہ اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔ اور بیمار کی عیادت کرنا یا اس کے کام آنا اللہ کو اتنا پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ خود فرمائے گا کہ میں بیمار تھا تم نے میری خبر نہ لی۔ بندہ حیران ہو گا تو اللہ کہے گا میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تم اس کے پاس جاتے تو مجھے وہاں پاتے۔
اگر اپکے پاس رہایش نہی ہے تو پوسٹ کو فی سبیل اللہ صدقہ جاریہ سمجھ کر اگے بھیج دیں ۔ اپکا یہ چھوٹا سا عمل کسی کے لیے یہ اندھیرے میں روشنی ہو سکتی ہے۔شاید انکی پریشانی دور ہو سکے ۔۔
اگر آپ کے پاس رہائش ہے یا کسی جاننے والے کے پاس ہے تو فوری ڈی ایم کریں۔
ایک شیئر ایک بیمار بہن کی تکلیف کم کر سکتا ہے۔
جزاک اللہ خیر
ایک پولیس والے نے ہیلمٹ نہ پہننے پر ایک بابا جی کو روکا۔
بابا جی نے سادگی سے کہا: "بیٹا، میں غریب ہوں، ہیلمٹ نہیں لے سکا پولیس والے نے نہ ڈانٹا، نہ چالان کیا۔
بس پیار سے کہا: بابا جیںآپ کی جان قیمتی ہے، ہیلمٹ ضرور پہنا کریں۔ آج بابا جی اسی راستے سے دوبارہ گزرے
اس بار ان کے سر پر ہیلمٹ تھا یہی ہے اصل انسانیت۔
یہی ہے اصل خدمت۔
آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا
موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا
"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"
بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"
میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"
میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی
اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا
میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے
یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں
حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے
آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵
واٹس ایپ سپیشل ریکوئسٹ ضرور شئیر کریں
“مدعی” کی موجودگی میں “ایس ایچ او” کا پرائیوٹ شخص کے ساتھ مل کر الزام علیہ پر اس طرح تشدد کرنا نہایت قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔یہ عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہےپولیس کا کام تفتیش کرنا ہے تشدد کرنا نہیں۔ایسے واقعات تب ہی پیش آتے ہیں جب اختیار کو قانون نہیں بلکہ اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کے تابع کر دیا جائے۔متعلقہ حکام اس واقعے کا فوری نوٹس لیں تاکہ قانون پر عوام کا اعتماد قائم رہ سکے۔
قران حافظ بناو سات نسلیں بخشیں جائیں گی اسی چکر میں سارا پاکستان لگا ہوا ہے جبکہ ہمارے مدرسے ٹاچر سیل سے کم نہیں ۔
🚨🚨اپنے بچوں کو ان شیطان نما جانوروں سے بچائے ۔
پاکستان میں سب سے زیادہ بدفعلی بچوں سے ان مدرسوں میں ہوتی ہے ۔زیادہ تر خاندان رپورٹ نہیں کرتے ۔بچے کو اس طرح ماریں گے تو بچہ ہر بات تو پھر مانے گا ۔
لوگ سمجھتے ہیں بچہ ان کے لیے جنت لینے گیا ہے ۔کیا والدین کو پتہ وہ مدرسے نہیں تھانے کے ٹارچر سیل بھیج رہے ہوتے ہیں ۔
یہ دیکھیں پین پاٹے کھوتی ماں کا بچہ گورنر پنجاب کا پروٹوکول ہے جس نے راستے میں کھڑے میاں بیوی کو کچل دیا لکھ لعنت ہے ایسی نظام پر لکھ لعنت ایسے حکمرانوں پر کھوتی کے بچوں کو یہ تمہارے باپ کا پاکستان ہے یہ تیری ماں جہیز میں لے کے ائی تھی یہ تیری بہن جہیز میں لے کے ائی تھی
تم لوگوں نے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ لیا ہے
*ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے قران پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات*
*1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83
*2 غصے کو قابو میں رکھو*
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134
*3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،*
سورۃ القصص، آیت نمبر 77
*4 تکبر نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 23
*5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 22
*6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
*7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
*8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11
*9 والدین کی خدمت کیا کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
*10 والدین سے اف تک نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
*11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 58
*12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282
*13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36
*14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280
*15 سود نہ کھاؤ،*
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278
*16 رشوت نہ لو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42
*17 وعدہ نہ توڑو،*
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20
*18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
*19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42
*20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،*
سورۃ ص، آیت نمبر 26
*21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135
*22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 8
*23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 7
*24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 2
*25 یتیموں کی حفاظت کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 127
*26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 6
*27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10
*28 بدگمانی سے بچو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
*29 غیبت نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
*30 جاسوسی نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12
*31 خیرات کیا کرو،*
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271
*32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو*
سورة المدثر، آیت نمبر 44
*33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،*
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273
*34 فضول خرچی نہ کیا کرو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67
*35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،*
سورة البقرۃ، آیت 262
*36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،*
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27
*37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44
*38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،*
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36
*39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 114
*40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190
*41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190
*42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،*
سورة الأنفال، آیت نمبر 15
*43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 256
*44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 150
*45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 222
*46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 233
*47 جنسی بدکاری سے بچو،*
سورة الأسراء، آیت نمبر 32
*48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247
*49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 286
*50 منافقت سے بچو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16
*51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 190
*52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 195
*53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 23
*54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 34
*55 بخیل نہ بنو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 37
*56 حسد نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 54
*57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 29
*58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135
*59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2
*60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2
*61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100
*62 صحیح راستے پر رہو،*
کبھی کبھی انسان مدد کرنا چاہتا ہے مگر حقیقی حقدار نہیں ملتا…
آج ہسپتال میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے دل ہلا دیا۔
34 سالہ ایک خاتون پچھلے چھ ماہ سے بیڈ پر ہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے اب تک صرف آنکھیں کھول اور بند کر سکتی ہیں، جسم کا کوئی حصہ حرکت نہیں کرتا حتیٰ کہ گردن کو بھی حرکت نہیں دے سکتی اور منہ سے بول کر کوئی بات بھی نہیں کر سکتی۔
بیڈ سورز بھی بن چکے ہیں۔ تین چھوٹے بیٹے اور صرف چھ ماہ کی ایک معصوم بیٹی پاس کھڑے تھے۔ بیٹے سے یہ معلومات لی ہیں جس سے ایک بڑا بھائی ہے اور ایک چھوٹا…
خاوند کی بینائی شوگر کے باعث ختم ہو چکی ہے، وہ خود سہارا کے محتاج ہیں۔
چھوٹی بچی کو کبھی بھائی اور نابینا باپ سمبھالتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں خاتون کی ضعیف والدہ ہی تیمارداری کر رہی ہیں۔
یہ خاندان اس وقت انتہائی کسمپرسی میں ہے اور علاج کے اخراجات بھی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
مقام: سول ہسپتال گوجرانوالہ — HDU 2، وارڈ نمبر 5
اگر کوئی صاحبِ حیثیت اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہے تو خود آ کر ان کی مدد کر سکتا ہے۔
اللہ پاک سب کو کسی ایسی پریشانی سے محفوظ رکھے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دکھی انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲
Retweet for help him