ایک طویل عرصے تک اس ملک میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تحت عوام کو یہ پٹی پڑھائی گئی کہ سرحد پر کھڑا ہر جوان صرف اور صرف "جذبہِ جہاد اور حب الوطنی" کے تحت گولی کھاتا ہے، اور اس کے بدلے ریاست پر تنقید کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ لیکن اب 2026ء کا پاکستان وہ نہیں رہا جہاں روایتی آئی ایس پی آر (ISPR) کے ملی نغمے اور جذباتی پریس کانفرنسیں عوام کے عقل و شعور پر پردہ ڈال سکیں۔
اس فرسودہ بیانیے کی موت کے چند بنیادی حقائق درج ذیل ہیں:
معاہدہ بمقابلہ جذباتیت: فوج میں جانا ایک پیشہ ورانہ انتخاب ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی ڈاکٹر، انجینئر یا فائر فائٹر بنتا ہے۔ اس ہائی-رسک نوکری کے لیے باقاعدہ معاہدہ (Agreement) ہوتا ہے، جس میں بھاری تنخواہیں، پینشن، بچوں کے تعلیمی اخراجات، مفت علاج اور ریٹائرمنٹ کے بعد قیمتی پلاٹ شامل ہوتے ہیں۔ جب ہر خطرے کی قیمت پہلے سے طے شدہ ہے، تو اسے "مقدس قربانی" بنا کر عوام پر احسان کیوں جتایا جاتا ہے؟
تنقید سے بچنے کا سستا ہتھیار: جب بھی ملک کے سیاسی امور میں مداخلت، غیر آئینی جوڑ توڑ، یا معاشی تباہی پر ان سے سوال پوچھا جاتا ہے، تو فورا "شہیدوں کے خون" کی ڈھال آگے کر دی جاتی ہے۔ سوال بجٹ، مراعات اور سویلین بالادستی کا ہوتا ہے اور جواب میں "ملک دشمنی" کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے۔ یہ دہرا معیار اب بے نقاب ہو چکا ہے۔
اشرافیہ کی عیاشیاں اور غریب سپاہی کا خون: تضاد یہ ہے کہ جان غریب کا بیٹا (سپاہی) دیتا ہے، جبکہ اس کی قربانی کا بیانیہ بیچ کر ڈی ایچ اے (DHA)، گالف کلبز اور اربوں کے کاروباری نیٹ ورکس اوپر بیٹھے جرنیل چلاتے ہیں۔ عوام اب یہ پوچھنے میں بالکل حق بجانب ہے کہ اگر یہ صرف ایک خدمت ہے، تو مراعات کا یہ پہاڑ صرف اشرافیہ کے لیے کیوں؟
#NationStandsWith_Maulana
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_قدم_بڑھاؤ
#ٹیم_جےیوآئی_سائٹ_موریرومیربہارٹاؤن
#teamjuimoriromirbhar
#TeamJUIKeamari
#TeamJUISindh
معروف ریسٹورنٹ "کابل جان" کے مالک محمد ہاشم نورزئی قتل
کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہر کے معروف ریسٹورنٹ 'کابل جان' کے مالک محمد ہاشم نورزئی کو قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ ہفتہ کی علی الصبح تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں کچلاک بائی پاس عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا
پولیس کے مطابق ہاشم نورزئی وزیر آباد کچلاک کے رہائشی تھے وہ اپنے گھر سے اکیلے اپنی ذاتی ویگو گاڑی میں شہر کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی
حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے
پچاس ہزار ووٹوں سے ریحانہ ڈار سے ہارے ہوئے خواجہ آصف کو وزارتِ دفاع میں ڈال Crush کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ خواجہ آصف کی وہاں پر بالکل بھی نہیں چلتی۔ وہ محکمہ ملٹری سیکرٹری چلاتا ہے، جی ایچ کیو سے حکم آتے ہیں۔ اس وزارت میں خواجہ آصف کو بس سائن کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے!نجم سیٹھی۔
8 لاکھ فوج نے ایک اینچ زمین فتح نہیں کی,
ایٹم بم بس نام کا ایٹم بم ہے!!
اگر یہ نہال ہاشمی گورنر بن سکتا,
تو باقیوں کو غدار کہنا ایک جھوٹا بیانیہ ہے!!
غداری کاپرد کے زریعے لوگو کو خاموش نہیں کراسکتے!!
افغانستان خطرہ نہیں بلکہ ایک بہانہ ہے
عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی فوج نے ایسے وقت میں افغانستان کے ساتھ دشمنی کا راستہ اختیار کیا ہے جب افغانستان ایک تاریخی استحکام سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ یہی استحکام چین، روس، بھارت، ایران اور عرب ممالک سمیت پورے ایشیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کراچکا ہے، اور روزانہ مختلف ممالک کے وفود دوطرفہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کابل کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ یورپی ممالک میں بھی افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر بحث جاری ہے، اور چند روز قبل ایک امریکی تجارتی وفد نے بھی کابل کا دورہ کیا۔
یہ واقعی حیران کن بات ہے کہ ایک طرف پوری دنیا افغانستان کو ایک فرصت کے طور پر دیکھ رہی ہے اور افغانستان کے بارے میں کافی مطمئن ہے، جبکہ دوسری طرف صرف عاصم منیر افغانستان کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اسی نقطۂ نظر نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو کافی نقصان پہنچایا ہے، جس میں سب سے نمایاں اقتصادی نقصان ہے۔ عاصم منیر کی پالیسیوں کے نتیجے میں آج پاکستانی تاجر لاکھوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
جب تک افغانستان کے بارے میں عاصم منیر کے نقطۂ نظر کے بجائے عمران خان کی پالیسی کو اختیار نہیں کیا جاتا اور افغانستان کو خطرے کے بجائے ایک فرصت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، تب تک پاکستانی تاجروں اور عوام کو درپیش بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اسی طرح برقرار رہیں گے اور وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتے جائیں گے۔
پاکستان میں پے در پے علماء کرام کی شھادتوں کی وجہ بھی یہی زمہ داران علماء ھیں جنہیں اچھی طرح معلوم ھیں کہ قاتل کون ھے اور ان قاتلیں کو کونسے فوجی چھاؤنیوں سے ٹریننگ اور ان علماء کو شھید کرنے کے ٹارگٹس ملتے ھیں۔
ان قاتلین کی طرف اشارہ کرسکتے ھیں لیکن ان قاتلیں کتوں کے پالنے والوں کا نام نہیں لے سکتے۔
یہ دراصل ان قاتلیں کے پالنے والوں کی علماء کے خون سے آلود ہاتوں کی دھلائی کے مترادف ہیں۔
سب کو پتہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے جس دن پاکستان کے قانونی اداروں میں عائد انگریزی قانون کو چیلنج کیا اُسی رات مولانا سمیع الحق صاحب کو چریوں سے شھید کیا۔
مولانا حامد الحق نے جب فوج کے امریکی دلالی کیخلاف بولے اُن کو فوج نے اپنے پالے ھوئے خوارج سے مدرسے میں دھماکہ کرکے شھید کیا۔
پاکستان میں پے در پے علماء کرام کی شھادتوں کی وجہ بھی یہی زمہ داران علماء ھیں جنہیں اچھی طرح معلوم ھیں کہ قاتل کون ھے اور ان قاتلیں کو کونسے فوجی چھاؤنیوں سے ٹریننگ اور ان علماء کو شھید کرنے کے ٹارگٹس ملتے ھیں۔
ان قاتلین کی طرف اشارہ کرسکتے ھیں لیکن ان قاتلیں کتوں کے پالنے والوں کا نام نہیں لے سکتے۔
یہ دراصل ان قاتلیں کے پالنے والوں کی علماء کے خون سے آلود ہاتوں کی دھلائی کے مترادف ہیں۔
سب کو پتہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے جس دن پاکستان کے قانونی اداروں میں عائد انگریزی قانون کو چیلنج کیا اُسی رات مولانا سمیع الحق صاحب کو چریوں سے شھید کیا۔
مولانا حامد الحق نے جب فوج کے امریکی دلالی کیخلاف بولے اُن کو فوج نے اپنے پالے ھوئے خوارج سے مدرسے میں دھماکہ کرکے شھید کیا۔
بیـویاں ایکسچینج کرنے کی ایک اور لرزہ خیز داستاں
اکتوبر 2024 میں میجر اسد نے 22 سالہ کانزہ سے شادی کی، اس کے سینئر تب برگیڈیئر (اب میجر جنرل) نعمان منظور اعوان نے پی سی میں ان کی ولیمہ تقریب کا بندوبست کیا، تقریب ختم ہوتے ہی اندرونی حلقے کے لوگوں نے میجر اسد کو الگ کر کے دھمکی دی کہ اپنی نئی نویلی دلہن کو لیفٹیننٹ جنرل سید امداد حسین شاہ (کور کمانڈر گوجرانوالہ، 83 PMA) کے حوالے کر دو، ورنہ خطرناک علاقے میں پوسٹنگ یا پھر شہید ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں، میجر اسد نے مجبوراً حامی بھر لی
جنرل سید امداد حسین شاہ نے ولیمہ کی رات سمیت اگلے ایک ہفتے تک میجر اسد کی دلہن کے ساتھ وقت گزارا
میجر اسد کو انعام میں 2022 ماڈل کی رینج روورز گاڑی، گوجرانوالہ اور جہلم کے قریب منافع بخش پوسٹنگ، اور 5 سال تک محفوظ گھر ملا
اب میجر اسد بھی اسی "اندرونی دائرے" میں داخل ہو چکا ہے جہاں، بـیویاں پیش کرو، پروموشن، لوٹ مار اور پروٹیکشن سب کچھ مل جائے گا اور محفوظ علاقوں میں پوسٹنگ ہوتی رہے گی
گول دائرے میں عاصم منیر کے ساتھ نظر آنے والا شخص جنرل سید امداد حسین شاہ ہے
بشکریہ ڈاکٹر حمنہ
اسلامی امارت افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان داعش کو “آستین کا سانپ” بنا کر پال رہا ہے اور ایک دن یہی سانپ اسے ڈس لے گا۔ مثال کے طور پر انہوں نے اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر خودکش حملے کا ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی اور خفیہ ادارے مخصوص مذموم مقاصد کے لیے داعش کی پرورش کر رہے ہیں، اور یہ پالیسی افغانستان اور پاکستان کے عوام کے خلاف ہے۔
پاکستان مشهور عالم دین مولانا منظور منګل
دا د الله فضل او کرم دی چې د افغانستان طالبانو ټول کفار مات کړل
تاسو دا نه شئ ویلی چې د پاکستان پوځ جګړه ګټلې ده خو د افغانستان مجاهدینو په بریا سره ټوله نړۍ ته وښودله
پګړۍ خو مولانا فضل الرحمن هم ژېړ رنګ پسرکړي خو له هغه څخه څوک نه وېرېږي دا چې کومه توره پګړۍ ده له هغې څخه ټوله نړۍ وېرېږي
که نن زموږ سرونه لوړ شوی دی دا د افغانستان د طالبانو له برکته دی
🚨عمران خان اور باجوہ کی آخری ملاقات عمران خان کے زبانی سنیے
اب بھگتو بہت شوق تھا خفیہ ویڈیوز بنانے کی
عمران خان نے باجوا کی ایسی . تاریخی ٹھکائی کر دی مگر شرم افسوس کوئی ہے کہ نہیں ہوگا ؟👍✌️🔥
پاکستان دُنیا کا منفرد ملک؟
پاکستان کے صحافیوں کا لیول چیک کریں کہ پاکستان سے ایران اور ایران سے کرگستان روٹ پر 4000 کلومیٹر فاصلے پر تجارت پر جشن منا رہے ہیں, جبکہ یہی فاصلہ 2000 کلومیٹر رہ جاتا ہے اگر تجارت افغانستان کے ذریعے کی جاۓ
یورپ نے تجارت کی راہ میں ٹرانسپورٹ خرچے کو کیسے کم کیا؟ تمام یورپی ممالک نے اپنے بارڈر کھول دیئے، اور یورپ میں اوپن بارڈر سے تجارت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے ایک ملک کے اندر،
چین اپنے 14 ہمسایوں کے ساتھ تجارت کرتا ہے،
امریکہ اور کینیڈا ہمسائے کے طور پر تجارت کرتے ہیں، امریکہ تمام جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ تجارت کرتا ہے
ترکیہ کی تجارت اپنے تمام ہمسایوں ایران، آرمینیا، آذربائیجان، عراق، شام, جارجیا، یونان، بلغاریہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے، اگرچہ اسمیں کئی ہمسایوں کے ساتھ اختلافات بھی ہیں
ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک افغانستان، آرمینیا، آذر بائیجان، ترکمانستان، عراق، پاکستان کے ساتھ تجارت کرتا ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت سے زیادہ سمگلنگ عروج پر ہے، ہر ایرانی پراڈکٹ مارکیٹ میں موجود ہے، تیل سمیت، پاکستان کا ایران کے ساتھ تجارت میں ایکسپورٹ کا حصہ نا ہونے کے برابر ہے
بھارت اپنے تمام ہمسایوں چین، نیپال، میانمار، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ، انڈونیشیا کے ساتھ تجارت کرتا ہے
ہم اپنے چار میں سے دو ہمسایوں بھارت، افغانستان کے ساتھ تجارت بند کرکے بیٹھے ہیں، جبکہ ایران سے صفر کلومیٹر فاصلے پر تیل اور گیس نہیں لیتے، صرف چین کے ساتھ تجارت ہے وہ بھی زیادہ تر امپورٹس ہیں، ہماری چین کو ایکسپورٹ کل تجارت کا دس فیصد ہیں، شاید ہم دُنیا کا واحد منفرد ملک ہیں جو اپنے ہمسایوں سے تجارت نہیں کرتا اور ہمسایوں سے تجارت کا قدرتی فائدہ نہیں اُٹھاتا
ہمسایوں کے ساتھ اختلافات ہوتے ہیں لیکن عقلمند ہمساۓ کبھی تجارت بند نہیں کرتے کیونکہ یہ دونوں کے مفاد میں ہوتا ہے
اب یہ تجزیہ آپکو کوئ صحافی کرکے نہیں دے سکتا، وہ بے چارے جو وٹس ایپ میں بھیجا جاتا ہے وہی کاپی اینڈ پیسٹ کر دیتے ہیں
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on Economic Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
کہاں ھے جنگ بندی ابھی بھی ہرمز بند ہے۔
پاکستان تو صرف امریکی شرطیں ایران سے منوا رہی ہے جو امریکا جنگ کے زریعے ایران سے نا منوا سکی۔ اور ایران نہیں مان رہا۔ ایرانی وفد اسی لئے تیار نہیں ھو رہی پاکستان آنے کیلئے جبکہ امریکی وفد تیار بیٹھی ہوئی ہے کہ کسی طرح ایران مان جائے اور وہ پاکستان آجائے۔
یہ تمہارا ہی جرنل ہے نا یہ سن لو جو بھی جرنل لگتا ہے امریکہ کی وجہ سے لگتا ہے اور امریکہ اسلیے جرنلوں کو سپورٹ کرتا ہے جو بھی کام کروانا ہوتا جرنلوں سے کرواتا ہے 😡😡🔥
@AdvSahibaRana شرم كرو اتنا جهوٹ بولتے ھوئے۔ نام کیساتھ ایڈوکیٹ بھی لکھا ھوا ھے۔ صرف جھوٹ پھیلاتے ھو۔
یہ ویڈیو 2 سال پرانی ھے۔ یہ واپڈا والے نے بجلی کا میٹر بند کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا تھا۔
جمیعت علماء اسلام @juipakofficial کے سربراہ مولانا فضل الرحمان @MoulanaOfficial نے الزام لگایا ہے کہ #پاکستانی حکمران #امریکا کے غلام ہیں اور اپریل 12 کو مردان سے حکومت کے خلاف تحریک کا اغاز کرینگے.پشاورمیں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ حکمران حق حکمرانی کہو چکے ہیں اور یہ کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے. انہوںنے ُموجودہ پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے اور ممبران پارلیمنٹ کو پالیسیوں اگاہ کرنے کا بار بار مطالبہ کیا ہے لیکن مطالبہ نپیں مانا گیا ہے. انہوں نے کہا پاکستان کی دونوں مغربی اور مشرقی سرحدیں بند ہیں #افغانستان کے ساتھ تجارت کے مواقع ہیں ہم نے دونوں سرحدیں بند کرکے تجارت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہےُ.