@MIshaqDar50 If homes can be demolished at gunpoint before Eid, then please stop lecturing us about sacrifice.
The people of Bari Imam have sacrificed enough.
نوری باغ کے لوگوں نے اپنے گھر تو قربان کر دیے، مگر ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اپنی مٹی سے وفا نبھاتے ہوئے آج بھی انہوں نے عید کی نماز ا��نے محلے کی مسجد میں ادا کی اور اپنے بزرگوں کی قبروں پر حاضری دی۔
@dranamfatima
تم دیواریں گرا سکتی ہو، گھر مسمار کر سکتی ہو، مگر لوگوں کے حوصلے، وابستگی اور اپنی زمین سے محبت نہیں توڑ سکی۔ یہ خواہش شاید تمہارا خواب ہی رہے گی کہ ظلم انسان کے عزم کو شکست دے دے۔ نوری باغ آج بھی اپنی شناخت اور اپنے لوگوں کے حوصلے کے ساتھ کھڑا ہے۔
#SaveNurPurShahan #StopIslamabadEviction #Justiceforall #HumanRights
سب عید کی خوشیاں منا رہے ہیں… مگر اُن خوشیوں کا کیا جو ریاستی ظلم کا شکار ہوئے؟
جن پر گولیاں چلائی گئیں، جن کے گھروں کی دیواریں ہی نہیں بلکہ امیدیں بھی مسمار کر دی گئیں… جن عورتوں اور بچوں کو خوف اور ہراس میں دھکیلا گیا، جنہیں اپنے ہی گھروں سے جبراً بے دخل کر دیا گیا۔
آج عید کے دن جہاں ہر طرف رونق اور مسکراہٹیں ہیں، وہاں کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جو اپنے اجڑے آنگن، ٹوٹی چھتوں اور بکھری یادوں کے ساتھ خاموش بیٹھے ہیں۔ وہ لوگ جو کل تک اپنے محلوں، مسجدوں اور گلیوں میں زندگی گزارتے تھے، آج منتشر اور بے گھر ہو چکے ہیں۔
ان سے صرف اینٹ اور پتھر نہیں چھینے گئے، بلکہ اُن کی پہچان، اُن کی یادیں اور برسوں کی جمع پونجی بھی چھین لی گئی۔ عید کے نئے کپڑوں اور خوشیوں کے شور میں شاید اُن کے زخم نظر نہ آئیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ عیدیں صرف کیلنڈر پر آتی ہیں، دلوں میں نہیں۔
یہ سوال آج بھی زندہ ہے:
کیا طاقت کے زور پر لوگوں کو اُن کے گھروں اور زمینوں سے محروم کر دینا انصاف ہے؟
کیا اُن بچوں کی سسکیاں، اُن ماؤں کی ف��یاد اور اُن بزرگوں کی بے بسی کسی حساب میں نہیں آتی؟
عید تو گزر جائے گی، تصویریں بدل جائیں گی، خبریں بھی پرانی ہو جائیں گی… مگر جن لوگوں کے گھر، خواب اور زندگیاں اجڑی ہیں، اُن کے زخم اتنی آسانی سے نہیں بھریں گے۔
یاد رکھو، گھر صرف دیواروں کا نام نہیں ہوتے… وہ انسان کی پہچان، اس کی یادوں اور اس کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور جب گھر گرائے جاتے ہیں، تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں… انسانوں کے اندر بھی بہت کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔
@CMShehbaz @CDAthecapital @dranamfatima @DrTariqFazal
#SaveNurPurShahan #StopIslamabadEvictions #Justiceforall #HumanRights
@TahirNaeemMalik سی ڈی اے لوگوں کو جھوٹ سُنا رہا ہے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ جو زمین آپ نے 1962 میں ایکویر کی تھی اس کا ریواڈ آج دن تک نہیں دئیے گئے اس زمین کے متاثرین آج بھی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور مزے وہ لوگ کر رہے ہیں جو اس زمین کے مالک ہیں ہی نہیں سی ڈی اے خود قبضہ گروپ ہے
@CDAthecapital سی ڈی اے لوگوں کو جھوٹ سُنا رہا ہے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ جو زمین آپ نے 1962 میں ایکویر کی تھی اس کا ریواڈ آج دن تک نہیں دئیے گئے اس زمین کے متاثرین آج بھی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور مزے وہ لوگ کر رہے ہیں جو اس زمین کے مالک ہیں ہی نہیں سی ڈی اے خود قبضہ گروپ ہے
The model village map was issued by your authority a few days ago, however, it is not clear on what basis it was published. The reality is that Noor Pur Shahan is not limited to the area shown in that map; rather, all surrounding settlements are also an integral part of it. The residents there possess all the documents that were originally issued by the CDA itself.
The claim that compensation and plots have already been provided to the affectees is also not fully based on facts. If this had actually been done, there would have been clear evidence of it, and it would have been presented in the Islamabad High Court in the Noor Pur Shahan Model Village case. However, the CDA has failed to prove this.
Nori Bagh, which was the oldest locality of Noor Pur Shahan, has already been demolished. Similarly, houses in Spallal, Dori Bagh, and now HavelI Mohalla are also being demolished, despite the fact that the residents possess complete legal documents.
Since the Model Village is an approved, it has to be developed accordingly. However, it is essential that all genuine affectees are provided accommodation within it, and that alternative housing is arranged before demolishing their homes, instead of rendering them homeless first.
This Google map clearly showing the boundary of NoorPur Shahan.👇🏻
@CDAthecapital سیٹلائیٹ امیج کا ایک معروضی ریکارڈ:
تاریخ (15-May-2004) محلہ نوری باغ کے وہ تمام گھر قائم ہیں۔ جنہیں غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ تعمیرات 2005 کے بعد ہوئیں۔
محسن نقوی یاد رکھیں مظلوموں/غریبوں کی آہ سے کوئی نہیں بچ سکا،بری امام میں سینکڑوں گھر اور دکانیں مسمار کی گئی لیکن شاہراہ دستور پر کھڑی اشرافیہ کا ٹاور محفوظ ہے،یہ اشرافیہ کا پاکستان ہے،غریبوں کو بے گھر کرنے والے افسران کو قومی اعزازات دینا سنگین مذاق اور قومی اعزازات کی توہین ہے ،موجودہ کرپٹ حکومتی ٹولہ ماہانہ اربوں روپے اسلام آباد سے بیرون ملک منتقل کررہاہے،
بری امام کے مظلوموں کی آواز بنیں گے،بری امام کے مسمار شدہ آبادی کے متاثرین کیساتھ علاقے کا دورہ،
پاکستان رائٹس موومنٹ
لوگ انعم فاطمہ @dranamfatima کو تمغۂ امتیاز ملنے پر مبارکباد دے رہے ہیں، م��ر سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر؟
کسی کو ظلم کر کے گھر سے بے گھر کر دینا، لوگوں کا روزگار ختم کر دینا، اُن سے اُن کی جمع پونجی چھین لینا… کیا تمہارے نزدیک یہ ایسا عمل ہے جس پر تمغہ دیا جانا چاہیے؟ کہاں گئی تم لوگوں کی انسانیت؟ یہاں اگر کسی اونٹ کی ٹانگ کٹ جائے یا کسی پرندے کو اُس کے گھونسلے سے بے دخل کر دیا جائے تو تم لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو، مگر دوسری طرف انسانوں کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں، اُنہیں اذیت دی جا رہی ہے، اُن سے اُن کا سب کچھ چھینا جا رہا ہے، اور جو یہ سب کر رہا ہے اُسے تمغہ ملنے پر تم خوش ہو رہے ہو۔ تم لوگوں کے نزدیک ایک انسان کی قیمت جانوروں سے بھی کم ہے کیا یا صرف اس لیے کہ یہ لوگ تمہارے اسٹیٹس کے نہیں، غریب ہیں؟ انسانیت کے علمبردار بنتے ہو تو حقیقت میں بھی بنو، یہ منافقت چھوڑ دو۔
اُن کارروائیوں میں انسانیت کہاں تھی؟ لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا گیا، ہزاروں خاندانوں کا روزگار چھینا گیا، عورتوں اور بچوں کو پولیس کے ساتھ مل کر ہراساں کیا گیا۔ جن گھروں کو مسمار کیا گیا، انہیں قانونی نوٹس تک نہیں دیا گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ بستیاں ایک دن میں کھڑی ہوگئی تھیں؟ نہیں۔ لوگ وہاں برسوں سے رہ رہے تھے، اور سب جانتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کے کئی اہلکار رشوت لے کر انہی لوگوں کو تعمیرات کی اجازت دیتے رہے۔
تو پھر احتساب صرف غریب کا کیوں؟ کیا کبھی اُن افسران کے خلاف تحقیقات ہوئیں جنہوں نے پیسے لے کر یہ سب ہونے دیا؟ کیا کسی بڑے افسر کو سزا ملی؟ یا ہمیشہ کی طرح کمزور طبقہ ہی ریاستی طاقت کے نیچے کچلا گیا؟
اور پھر نورپور شاہان جیسے اسلام آباد کے قدیمی دیہات کی مثال سامنے ہے، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے موجود تھے کہ علاقے کو ماڈل ویلج بنایا جائے، مگر اُس عدالتی حکم کو بار بار نظر انداز کیا گیا۔ اگر قانون کی بات کرنی ہے تو پھر عدالتوں کے فیصلوں کا احترام بھی ہونا چاہیے، صرف غریبوں کے گھر گرانا ہی قانون نہیں ہوتا۔
ریاست کا اصل حسن انصاف میں ہوتا ہے، صرف طاقت کے استعمال میں نہیں۔ اگر طاقتور اہلکاروں، کرپٹ نظام، اور اُن لوگوں کا احتساب نہ ہو جو رشوت لے کر غیر قانونی تعمیرات کرواتے رہے، تو پھر سارا بوجھ صرف غریب عوام پر ڈال دینا انصاف نہیں بلکہ ظلم محسوس ہوتا ہے۔ ایسے اقدامات پر ت��غے بانٹنے سے پہلے اُن آنسوؤں، برباد گھروں، اور تباہ خاندانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو اس سب کی قیمت بنے۔
@HRCP87
#SaveNurPurShahan #StopIslamabadEvictions #Justiceforall #HumanRights
بری امام میں ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنے والے لوگوں کو تمغے مل رہے ہیں ۔۔۔ یہ اس ملک کی عوام ہے ۔۔۔ان کا کرب سنیں ۔۔۔محسوس کریں ۔۔جن کو اپنے قرب و جوار سے دوائی اور پانی نا مل رہا ہو ان کی کیا حالت ہوگی ۔۔۔جن کی انکھوں کے سامنے ان کے گھر ملبے کے ڈھیر ہو گئے ان کو راتوں کو نیند کیسے اتی ہوگی
آخری مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی کل آبادی لگ بھگ 24 لاکھ ہے صرف تین دیہاتوں سیدپور، بری امام اور ملپور کی آبادی لگ بھگ تین سے چار لاکھ ہے یعنی کہ یہ ظالم حکمران اسلام باد کی تقریبا دس سے پندرہ فیصد آبادی کو بے گھر کرنے جا رہے ہیں۔
یہ آبادیاں حکومت نے اونے پونے داموں خریدیں اب ان کا حق بنتا ہے یا تو انہیں یہیں آباد رہنے دیں اگر انہیں کہیں شفٹ بھی کرنا ہے تو متبادل رہائشیں انہیں دیں عامرمغل
اسلام آباد میں انکروچمنٹ کے نام پر غریب آبا��یوں کو مسمار کیا جا رہا ھے
بری امام میں جس طرح گھر مسمار کئے وہ یزیدیت کی مثال تھے اسی طرح اقلیتی مسیح آبادی والی کالونیوں رمشا کالونی مسکین کالونی اور علامہ اقبال کالونی کو مسمار کرنے کے احکامات دیئے جاچکے سینیٹر دنیش کمار کی مذمت
@mahnoorajmall ادارے صرف طاقت سے نہیں، انصاف اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں۔
جب ہزاروں لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور بستیوں سے محروم ہونے کی بات کر رہے ہوں، تو صرف تمغے نہیں بلکہ اُن کی آواز بھی سنی جانی چاہیے۔
@Ayab_Ahmed@dranamfatima ہر متاثرہ شخص “قبضہ مافیا” نہیں ہوتا۔
بہت سی مقامی آبادیاں نسلوں سے وہاں رہ رہی تھیں، اور کئی کے حق میں عدالتوں اور CDA بورڈ کے فیصلے بھی موجود تھے۔
لوگوں کے گھر گرانا اور انہیں بےدخل کرنا صرف ایک “آپریشن” نہیں، انسانی زندگیوں کا مسئلہ بھی ہے۔
باپ بیمار تھا، چھت بھی چلی گئی۔۔
بری امام کے ایک بچے کی دردناک کہانی۔۔
اسلام آباد میں غریبوں پر قیامت۔۔ آپریشن نے سب کچھ چھین لیا👇
https://t.co/096taZMczm
@saifullahawan40 اعتراض کسی کی بیٹی یا بہن ہونے پر نہیں، بلکہ اُن پالیسیوں اور اقدامات پر ہے جن کے نتیجے میں لوگوں کے گھر گرے، بستیاں اجڑیں، اور مقامی آبادی بےدخل ہوئی۔
احتساب کو “احساسِ محرومی” کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا
کئی مہینوں سے بری امام کے لوگ ایک ایسی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں جو اجتماعی سزا جیسی محسوس ہوتی ہے۔ سڑکیں بند، آمد و رفت محدود، اور پوری آبادی کے ساتھ ایسے برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ راستے کی رکاوٹ ہوں۔
آج ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں لوگ ایک مریض کو اسٹریچر پر اٹھا کر پیدل لے جا رہے تھے کیونکہ مبینہ طور پر پولیس نے ایمبولینس کو گیٹ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔
اسے دوبارہ پڑھیں۔
اس ملک کے دارالحکومت میں ایک بیمار شخص کو اسٹریچر پر اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے جبکہ ایمبولینس رکاوٹوں کے پیچھے کھڑی ہے۔
کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ صحت جیسی بنیادی سہولت تک رسائی کو ایک مراعات یافتہ حق بنا دے۔ کوئی بھی سکیورٹی انتظام انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ جب سڑکیں مہینوں تک بند رہیں اور ایمرجنسی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جائے تو یہ “انتظام” نہیں رہتا بلکہ غیر انسانی عمل بن جاتا ہے۔
اسلام آباد کے مقامی لوگ ریاست کے دشمن نہیں ہیں۔ وہ شہری ہیں۔ وہ عزت، آزادانہ نقل و حرکت، ایمرجنسی رسائی، اور اپنے ہی علاقے میں ناکوں کے پیچھے قید ہو کر نہ جینے کا حق رکھتے ہیں۔
—
بری امام کو اسلام آباد اور بڑے ہسپتالوں جیسے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سا��نسز (PIMS) اور پولی کلینک ہسپتال سے ملانے والے تین بڑے راستے ہیں۔
مارگلہ روڈ اور ڈپلومیٹک انکلیو والے راستے ایمرجنسی رسائی کے لحاظ سے قریب ترین ہیں، جو ہسپتالوں سے تقریباً 10 سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
تیسرا راستہ — قائداعظم یونیورسٹی اور ملپور کے ذریعے — منزل اور ٹریفک کے حساب سے تقریباً 20 سے 24 کلومیٹر تک جا پہنچتا ہے۔
مہینوں سے قریبی راستے بند یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں، جس کے باعث رہائشیوں کو طویل ملپور والے راستے پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کو ایسے راستے پر دھکیلا جا رہا ہے جو حقیقی ٹریفک ��الات میں تقریباً تین گنا زیادہ وقت لے سکتا ہے۔
دل کے دورے کے مریض، فالج کے شکار افراد، اندرونی خون بہنے والے مریض، یا سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لیے یہ اضافی منٹ زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتے ہیں۔
آج لوگوں کو ایک مریض کو اسٹریچر پر اٹھا کر پیدل لے جاتے دیکھا ��یا کیونکہ مبینہ طور پر ایمبولینس کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
کسی بھی ملک کے دارالحکومت میں کسی آبادی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
#SaveNurPurShahan #StopIslamabadEvictions #HumanRights #Justiceforall