👉In my latest Op Ed for The News, The last mile of Climate Warning, I argue that #Pakistan's climate challenge is not an early-warning problem but an early-action gap rooted in a failure to understand & operationalise #adaptation. Is #Nepal like disaster imminent in other countries of #SouthAsia?
Read:https://t.co/mO1LyOzGH5
نکاسیِ آب، ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر بنیادی میونسپل سروسز دراصل گورننس اور پبلک سروس ڈیلیوری کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ اگر 2026 میں بھی ہم انہی بنیادی مسائل کا رونا رو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عوام کا گورننس پر اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
#Islamabad #Rawalpindi #Punjab #Karachi #Sindh
https://t.co/9y7BNW8qRA
⚠️پاکستان میں کلائمیٹ گورننس ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر بالائی علاقوں میں سیلاب آتا ہے تو جنوبی علاقوں سے آنے والے سیاح انہی متاثرہ علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو کچھ مقامات پر واضح ریڈ لائنز اور رسک زونز قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں یہ طے کیا جا سکے کہ لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں اور کون سے حفاظتی پروٹوکول نافذ کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کے لیے معاشی تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ سیلابی صورتحال یا سیاحت میں کمی کی وجہ سے ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔ انہیں اپنے علاقوں کے بہتر تحفظ اور ماحولیاتی نگرانی کے لیے پرفارمنس بیسڈ انسنٹیوز دینے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری کو موسمیاتی خطرات کے مطابق کس طرح ڈائیورٹ کیا جا سکتا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو کیسے شامل کیا جا سکتا ہے، ان کے لیے پالیسی سمت کیا ہونی چاہیے، اور کہاں انشورنس، گارنٹیز اور رسک گارنٹیز کے ذریعے موسمیاتی خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ سب کلائمیٹ مینجمنٹ اور کلائمیٹ گورننس کے ایک مکمل سائیکل کا حصہ ہے، جس میں خطرات کی نشاندہی، منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، ادارہ جاتی ذمہ داری اور احتساب شامل ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان 2010 کے سیلاب کے بعد جس مقام پر کھڑا تھا، آج بھی بڑی حد تک وہیں کھڑا ہے۔
#Rawalpindi
#Punjab
#Pakistan
#Islamabad
##FactsMatter @SuzainjehanKhan
⚠️ہر مسئلے کا الزام بڑھتی ہوئی آبادی پر ڈال دینا سب سے آسان راستہ ہے، مگر حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں کم ہوتی برفباری، پانی کے ذخائر میں کمی اور میدانی علاقوں میں متاثر ہوتی زراعت لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے، جس سے شہروں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پالیسی سازی میں سائنس پر مبنی منصوبہ بندی اور عملی نفاذ کے درمیان بہت بڑا خلا موجود ہے۔ کئی ادارے اب بھی موسمیاتی تبدیلی کو معمول کے معاملات کی طرح لے رہے ہیں۔
جب تک ہم طویل المدتی پیشگی منصوبہ بندی، زرعی تحقیق، لینڈ یوز پلاننگ اور موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے، ہم ہر بار بحران کے بعد صرف ردعمل دیتے رہیں گے۔
#Rawalpindi #Islamabad #Gilgit #
⚠️ہماری نکاسی آب کی منصوبہ بندی کا حال یہ ہے کہ پہلے چھوٹے چھوٹے راستے اور سوراخ بنا کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ پانی گزر جائے گا۔ پھر جب سیلاب آتا ہے تو انہی راستوں میں کوڑا کرکٹ، شاپر اور دیگر فضلہ پھنس جاتا ہے، کیونکہ کچرے کے مؤثر انتظام کا نظام موجود ہی نہیں۔
اس کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کوئی جامع منصوبہ بندی کی ہی نہیں گئی تھی، اور پھر جگہ جگہ رکاوٹیں توڑ کر پانی کے گزرنے کے عارضی راستے بنائے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نکاسی آب کو مستقل حل کے بجائے ہمیشہ ہنگامی ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
#Rawalpindi #Punjab #Floods