It started on April 10, 2022....the final act was October 11, 2026... Mission Accomplished! Sohail was the last domino to fall....nothing after him. Smooth sailing for the system! But no one is winning!
جنرلز کے نام پیغام :
پاکستانی جنرلز کو سمجھنا ہوگا۔ جنگیں اپنوں کے ساتھ نہیں لڑی جاتیں۔ آپکو جرنیل اس لئے نہیں بنایا تھا۔ جو آپ نے بلوچستان میں کیا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو آپ اس وقت کے پی میں کر رہے ہیں آپ اس کی تاب نہیں لا سکیں گے۔
پٹھان بہت چھتر ماریں گے۔ وہ پہلے ہی تنگ ہیں۔ حالات۔ کاروبار سے دہشت گردی سے۔ ڈرون سے۔ آپ کیوں انگلی کر رہے ہیں ایک اور صوبے کے ساتھ۔
یہ کھیلنا بند کریں۔ مت سب کو بے وقوف سمجھیں۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی ہے۔ اس کو بچا لیں۔
بنگلہ دیش کی باری انڈیا آیا تھا۔ یہاں سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ انڈیا نے 90 ہزار واپس کر دئیے تھے۔ افغانی مختلف کھیل کھیلیں گے۔
نہ کرو یار نہ کرو۔ نہ اپنا نہ ملک نہ ہمارا نقصان۔ عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔
ایک وقت تھا جلسہ کرنے کے لیے ہفتوں کی تیاری درکار ہوتی تھی۔ کرسیاں، اسٹیج، ساؤنڈ سسٹم، کھانے پینے کا انتظام، بریانی کی دیگیں، ٹرانسپورٹ کے لیے بھر بھر کر بسیں، اور بعض اوقات سرکاری اداروں سے لوگ لا کر جلسہ گاہیں بھری جاتی تھیں۔
عمران خان نے اس سیاسی کلچر کو بدلنے کی بنیاد رکھی۔ اب سہیل آفریدی اسی تبدیلی کو آگے بڑھاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ایک دن پہلے پروگرام بنتا ہے کہ فلاں جگہ جانا ہے، چند گھنٹوں میں لوگ نکلتے ہیں، اور جلسہ گاہ ٹھک ٹھک بھر جاتی ہے۔
مختصر بات یہ ہے کہ نہ پی ٹی آئی وفد عمران خان کی مرضی کے بغیر لانگ مارچ منسوخ کرسکتا ہے اور نہ حکومتی وفد “کسی” کی مرضی کے بغیر عمران خان سے ملاقات کروا سکتا ہے۔
لڑائی دو شخصیات کی ہے، دونوں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ دونوں اس انتظار میں ہیں کہ کب کسی ایک کی “بس” ہوتی ہے۔ جب تک ان دونوں شخصیات میں سے کسی ایک کی “بس” نہیں ہوتی پاکستان کے حالات اسی طرح مزید خراب ہوتے رہیں گے۔
باقی مذاکرات ، لانگ مارچ، گورنر راج ایمرجنسی، کریک ڈاؤن، عدالتی فیصلے یہ سب غیرموثر اور بے معنی ہیں۔
گیارہ ارب کا جہاز لیا،کوئی مسئلہ نہیں۔
14 ارب ذاتی تشہیر پر خرچ کئے ،کوئی مسئلہ نہیں۔
پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں۔
عوام غربت مہنگائی سے مر رہی ہے تب بھی انکو کوئی مسئلہ نہیں۔
جعلی ایف آئی آر از ،درج کی جا رہی ہیں تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
پاکستان کی معشیت تباہ ہو گئی تب بھی انکو کوئی مسئلہ نہیں۔سرمایہ کار بھاگ گئے تب بھی انکو مسئلہ نہیں۔
بلوچستان کی حالات انتہائی خراب تب بھی انکو کوئی مسئلہ نہیں۔
لیکن پی ٹی آئی اگر آئین و قانون کی بات کرے،عمران خان سے ملاقات،انکی غیرقانونی مقدموں سے رہائی،سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کرے تو انکو مسئلہ ہو جاتا ہوتا ہے۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
عقل نہیں تے موجاں ای موجاں۔۔۔ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر نمبر 103 میں واضح طور پر درج ہے کہ کریمینل کیس میں بھی کسی رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہو گی۔ خیر، جن کا اصل میرٹ صرف یاری دوستی ہو، ان سے آئین و قانون کی بحث بے معنی ہو جاتی ہے
سہیل آفریدی شدید ریاستی دباؤ اور گہرے سیاسی بحران کے ماحول میں جس اعتماد، تحمل اور ثابت قدمی کے ساتھ صفِ اول میں کھڑے ہیں، اس نے انہیں قومی سیاست میں ایک نمایاں اور قابلِ توجہ رہنما کے طور پر ابھارا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جاری مبینہ کردارکشی کی مہمات بھی اب ان کی سیاسی مقبولیت اور عوامی تاثر پر خاطرخواہ اثر ڈالتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ان کے حامیوں کے نزدیک، مسلسل دباؤ کے باوجود ان کی سیاسی استقامت نے انہیں مخالفین کے مقابلے میں نمایاں مقام دیا ہے اور وہ قومی سیاسی منظرنامے میں تیزی سے اپنی الگ شناخت قائم کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کا نقصان زیادہ ہو گا، ریاست اور عوام آمنے سامنے آ گئے تو حالات مزید خراب ہونگے، جس کا نقصان پورے پاکستان کو ہو گا۔
جب آپ کی سنوائی نہ ہو، جتنے بھی جمہوری، قانونی اور آئینی راستے آپ کے پاس ہوتے ہیں، وہ تمام آپ اپنائیں اور اس کے باوجود بھی آپ کی سنوائی نہ ہو تو آخر میں آئین نے یہ اجازت دی ہے کہ آپ پُرامن احتجاج کر سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے جنہوں نے ڈان لیک کروائے، جنہوں نے عدلیہ پر حملے کروائے، جنہوں نے اپنے جلسوں، جلوسوں میں یہ جو دہشت گردی کے نعرے لگوائے، جنہوں نے اسمبلی کے فلور پر اس فوج نے ہماری ہڈی تک نوش ڈالی جیسے بیانات دیے، اور پھر ان کو جعلی طریقے سے عوامی مینڈیٹ کے برعکس پاکستان پر، پنجاب پر مسلط کیا جائے، تو پھر ان کا وہی مائنڈ سیٹ چلتا رہے گا جس کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا ہے, @SohailAfridiISF وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
ایک سے بڑھ کر ایک AI videos آرہی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک concept videos گولی مت چلانا کے ٹاپک پر آرہی ہیں۔ ساری ٹرک کی بتیاں عسکری صحافیوں کی بجھا کر واپس کر رہے ہیں ۔ قاسم اور سلیمان تو تھے ہی میدان میں اب @KhanShershah اور @Shahrez_KhanPK بھی میدان میں ہیں۔ کل ورٹول جلسے میں شاہریز نے وہ سب کیا جو علیمہ خان، ڈاکٹرعظمیٰ اور نورین نیازی کیا کرتی تھی۔ انصافینز کے سگنیچر بیانیے بھی عروج پر ہیں، ہر کوئی اپنا بیسٹ دے رہا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ سوشل میڈیا از آن فائر 🔥 ماشاءاللہ
سلام ہے تمام ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو
منزل قریب ہے انشاءاللہ!