4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
ایک کہاوت ہے
اگر تمہیں سونا پسند ہے تو تہجد کے لیے اُٹھنا شروع کرو،
اگر تمہیں پیسہ پسند ہے تو زیادہ صدقہ دینا شروع کرو،
اگر تمہیں موسیقی سننا پسند ہے تو قرآن سننا شروع کرو،
اگر تمہیں کھانا پسند ہے تو روزہ رکھنا شروع کرو،
کیونکہ تمہاری دنیا سے محبت ،
اللہ سے محبت پر غالب نہیں آنی چاہیے۔
میری پوسٹ شیئر ضرور کریں کیونکہ یہ میں نے بہت مجبوری میں بنائی ہے ۔۔۔فیصل اباد کی حلقے این اے 112 اور پی پی 116 کے 14 ورکرز کو نو مئی کے کیسز میں 10 سے تین سال کی سزائیں ہوئی ہیں ۔ان میں سے سات جیل میں اور سات اشتہاری ہیں ۔۔ان کی فیملیز کا کوئی پرسان ��ال نہیں ۔۔میں نے اپنی پوسٹ میں لیڈرشپ کو بھی ٹیگ کیا لیکن ان کی ابھی تک کوئی دادرسی نہیں کی گئی ۔۔۔روزے ہیں عید ارہی ہے اگر ان لوگوں کی سزا لمبی ہے تو ان کی فیملیز کی سپورٹ بھی لمبے عرصے کے لیے ہونی چاہیے ۔۔۔میں جتنا کر سکتی تھی میں نے کیا اپ سب سے گزارش ہے کہ اگر کچھ لوگ ذاتی طور پر ایک ایک فیملی سے رابطہ کر کے ان کی سپورٹ کر دیں تو شاید تکلیف دور تو نہیں ہوگی لیکن کم ضرور ہو جائے گی ۔۔۔اگر ورکرز اور سپورٹرز کو تکلیف میں اکیلے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ لوگ تو دل برداشتہ ہو جائیں گے
آج اور کل عمران خان کے انتہائی اہم کیسز لگے ہیں عدالت میں۔ ہسپتال منتقلی، توشہ خانہ اور القادر یونیورسٹی کیسز کی سماعت ہوگی۔
سوشل میڈیا پر ہم میں سے کافی لوگ ایک بار پھر بہت امید لگائیں گے اور اگر فیصلے عمران خان کے حق میں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہ آئے تو کافی دن اداس بھی رہیں گے۔
اداس ضرور ہوں مگر واپس ضرور آئیے گا۔ یہ جدوجہد اور لمبی ہوسکتی ہے۔ چار سال اس میں survive کرنا کافی مشکل تھا مگر آپ سب جو یہ کارنامہ سرزد کرگئے ہیں، بہت خاص لوگ ہیں۔ کوئی کتاب میں یا ڈاکیومنٹریز میں ذکر کرے یا نہ کرے، جو عزت ایک دوسرے کے لیے دل میں ہے، وہ کسی بھی recognition سے بڑھ کر ہے۔ سب سے زیادہ اسپیشل ہیں آپ کیونکہ آپ کو اس جدوجہد کے بدلے میں کچھ نہیں چاہیے سوائے بہتر پاکستان کے۔
جو لوگ صرف یہ پڑھ سکتے ہیں اور جواب دینے کی اجازت نہیں ہے پھر سے گرفتاری یا اغو��ہ کی دھمکیوں کی وجہ سے، ان سب کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کوئی نہیں بھولا۔ کبھی افسردہ نہ ہوں ۔۔۔ آپ میں سے بہت سے لوگ پاکستان میں مقیم ہیں یا پھر آپ کی قریبی فیملی پاکستان میں ہے جسے عاصم منیر اور ٹیم استعمال کرتے ہیں دھمکانے کے لیے ۔۔۔آپ جتنا کر سکتے تھے آپ نے کیا، باقی کی جدوجہد آپ کے بہن بھائی جو اللہ کے کرم سے ابھی تک آزاد ہیں، وہ کر رہے ہیں، بس آپ دعا میں سب کو یاد رکھیں!
یہ نہیں پتہ کہ کتنے دن یا کتنے سال اور لگ جائیں ، مگر یہ پتہ ہے کہ آخر میں جیت عمران خان اور عوام کی ہی ہوگی۔ finish line پر سب ملیں گے انشاءاللہ۔ اور اس وقت تک #ChallengeAccepted رکھیں!
بریکنگ نیوز: عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے ذاتی معالجین و فیملی کی موجودگی میں علاج کرانے کی آج دائر کی گئی متفرق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل سماعت کیلئے مقرر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو سماعت کریں گے,سب پارلیمن��رین اور وکلاء ٹکٹ ہولڈرز شرکت کریں .
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور ��س پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی ��جہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان ک�� فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ایک اہم سوال !
عمران خان نے بطور وزیراعظم نواز شریف کو لندن علاج کیلئے جانے دیا۔
آج عمران خان کو اڈیالہ سے 15 منٹ دور ہسپتال تک رسائی کیوں نہیں؟
فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقات کیوں روکی جا رہی ہے؟
میرے بھائی عمران خان کی آنکھ سیاست نہیں ہے یہ اس کی بینائی ہے اس کی زندگی ہے، ہر قیدی کا حق ہے اپنا علاج کرائے، خود یہ بیرون ملک بھاگتے ہیں علاج کے لیے اور میرا بھائی شفا انٹرنیشنل ہسپتال تک نہیں جا سکتا؟ علیمہ خان
#ImranKhanHealthEmergency