معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ جمیل نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور عدالت میں جبری خلع کی مخالفت کی ہے۔
*🚨اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ فاروقی کا بیان سامنے آگیا*
*🔥"میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، ہماری پسند کی شادی تھی۔ میری فیملی زبردستی خلع کروانا چاہتی ہے، میری جان کو خطرہ ہے۔ عدالت سے درخواس�� ہے کہ مجھے اپنے شوہر کے پاس جانے دیا جائے۔"*
اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ فاروقی کا بیان سامنے آگیا۔
"میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، ہماری پسند کی شادی تھی۔ میری فیملی زبردستی خلع کروانا چاہتی ہے، میری جان کو خطرہ ہے۔ عدالت سے درخواست ہے کہ مجھے اپنے شوہر کے پاس جانے دیا جائے۔"
اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ فاروقی کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
عائشہ فاروقی کے مطابق ان کی اور جمیل فاروقی کی پسند کی شادی ہوئی تھی، تاہم ان کا خاندان ابتدا سے ہی اس رشتے کے خلاف تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد بھی اہلِ خانہ مسلسل ان پر تعلق ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، جبکہ اب انہیں زبردستی خلع لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سرگودھا میں اپنی جان کا خطرہ ہے اور خدشہ ہے کہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ عائشہ فاروقی نے عدالت، متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں بازیاب کروا کر اپنے شوہر جمیل فاروقی کے پاس جانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سرگودھا پولیس، انتظامیہ اور بعض سیاسی شخصیات ان کے خاندان کا ساتھ دے رہی ہیں۔
معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ جمیل نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر ��ے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور عدالت میں جبری خلع کی مخالفت کی ہے۔
عائشہ جمیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران انہیں جبری بیانات، ذہنی و جسمانی تشدد، کردار کشی، پولیس کارروائیوں اور دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے اپریل سے اب تک کے تمام سابقہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ذمہ داری اپنے والدین پر عائد کی۔
اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ فاروقی کا ��یان سامنے آگیا۔۔
میں پنے شوہر جمیل فاروقی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، ہماری پسند کی شادی تھی میری فیملی اسکے خلاف تھی، شادی کے بعد میری فیملی کیجانب سے شادی ختم کرنے کے دباؤ کا سامنا رہا اور اب وہ زبردستی میری خلع کروانا چاہتے ہیں، میری جان کو خطرہ ہے، مجھے سرگودھا سے بازیاب کروایا جائے،سرگودھا پولیس، انتظامیہ اور سیاست دان بھی میری فیملی کے ساتھ ہیں، مجھے خدشہ ہے میری ویڈیو لیک ہونے کے بعد میرے ساتھ کچھ ہوناں جائے، میری عدالت سے درخواست ہے میں اہنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں
آپ کُچھ بھی کہیں لیکن جمیل فاروقی پر جب بیگم اور سسرال کی جانب سے الزامات لگے تو وہ بندہ روتا روتا سب کو اپنی بےگناہی کی گواہیاں دیتا رہا۔۔!!
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے آج اُن کی وہی اہلیہ واپس اپنے خاوند کے پاس جانے کی منتیں کر رہی۔۔!!
@FarooquiJameel
اینکر پرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ فاروقی کا بیان سامنے آگیا۔
"میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، ہماری پسند کی شادی تھی۔ میری فیملی زبردستی خلع کروانا چاہتی ہے، میری جان کو خطرہ ہے۔ عدالت سے درخواست ہے کہ مجھے اپنے شوہر کے پاس جانے دیا جائے۔"
جنہوں نے ��الدین کی جانب سے جھوٹ اور بدمعاشی پر مبنی اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود تدبر سے کام لیا اور کوئی انتہائی قدم اُٹھانے سے گریز کیا - (کورٹ رپورٹر سرگودھا)
قرار دیا ہے ، عائشہ جمیل کے مطابق والدین پہلے دن سے پسند کی شادی پر ناخوش تھے اور انہوں نے سارا ایڈونچر اُن کے شوہر کو بدنام کرنے اور رشتہ توڑنے کے لئے کیا ، عائشہ جمیل نے اپنے شوہر کو ڈیسنٹ انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمیل فاروقی کی اعلیٰ اخلاق اور بہترین تربیت ہی ہے
بہت ہائی لائیٹ ہوا تھا جس کے بعد حقائق سامنے نہیں آپارہے تھے ، عائشہ جمیل کو والدین نے حبس بے جا میں رکھا ہوا تھا اور مسلسل جبری بیانات پر مجبور کر رہے تھے ، عائشہ نے اپریل سے لے کر اب تک کے تمام بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے والدین کو حالات و بیانات کا ذمہ دار
کی حدود میں واقع قرطبہ ٹاؤن میں مقیم عائشہ جمیل کے والدین ملک طارق مسعود ، مسرت عزیز سمیت مذکورہ بالا تمام کردار ہونگے جن کا تفصیلی تذکرہ وزارت داخلہ اور متعلقہ فورمز کو بھیجے گئے نوٹسز / خطوط میں کردیا گیا ہے ، یاد رہے 16 اپریل 2026 کو جمیل فاروقی اور عائشہ مسرت جمیل کیس
آسٹریلیا میں باقاعدہ کاروائی کا آغاز کردیا گیاہے ، جمیل فاروقی اور عائشہ جمیل نے عدالت کے روبرو اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ آج کے بعد مستقبل میں انہیں یا اُن کی اہلیہ یا بچوں کو ہلکی سی خراش بھی آئی یا اُن کو کوئی نقصان پہنچا تو اُس کے ذمہ دار تھانہ اربن ایریا سرگودھا
کرداروں کے خلاف قانونی حق استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے ، تشدد کرنے والے تمام ذمہ داران اور سرگودھا میں انسانیت سوز جبری اسقاط حمل یعنی ابارشن میں مبینہ معاونت پر ایک عدد شاعر کے خلاف آئرلینڈ اور عائشہ کے قریب تری�� عزیز کے خلاف بین الاقوامی ویمن رائٹس آرگنائزیشنز کے زیر انتظام
فون چھین لیاگیا ، زبردستی بیانات دلوائے گئے ، ویڈیو بیان اور پریس کانفرنس پر مجبور کیا گیا جس سے اُنہوں نے صاف انکار کیا ، جبری خلع فائل کروائی گئی اور شوہر کے خلاف مدعی بننے پر مجبور کیا گیا ، معروف اینکرپرسن اور تجزیہ کار جمیل فاروقی نے بطور شوہر عائشہ کے ساتھ مل کر مذکورہ تمام
،پولیس کے اعلی افسر اور اسلام آباد میں مقیم 3 رپورٹرز نے باقاعدہ سہولت کاری کی ہے اور اُنہیں جبری اسقاط حمل کے بعد کال کوٹھڑی میں بند رکھنے میں بھرپور معاونت کی ہے ، عائشہ جمیل کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں اُنہیں والدین کے گھر میں شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا شامنا کرنا پڑا
پر مبنی FIRs ، سوشل میڈیا مہم ، جبری اسقاط حمل اور جبری خلع جیسے اقدامات پر اپنے خاندان کو مجرم قرار دیا ہے ، عائشہ کے مطابق اُن کے 2 ماہ کے بچے کو جبری Abort کرانے میں والدین سمیت جواد شیخ نامی شاعر ، طیبہ ، طیبہ کے شوہر ، بھائی شاہ میر اعوان ، مقامی سیاستدانوں
عائشہ جمیل نے آج سرگودھا کی فیملی کورٹ میں جج زائرہ منظور ملک کے سامنے جبری خلع کے خلاف بیان دیتے ہوئے نہ صرف اپنے شوہر جمیل فاروقی کیساتھ رہنے کا اعلان کیا ہے بلکہ گزشتہ 3 ماہ میں پسند کی شادی کے باوجود والدین کی جانب سے جھوٹ پر مبنی بیلف ، پولیس ریڈز ، بیانات ، کردار کُشی
بریکنگ نیوز : معروف اینکرپرسن جمیل فاروقی کی اہلیہ عائشہ جمیل نے سماجی جبر اور برداری سسٹم کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کردیا ہے ، کورٹ میں گن پوائنٹ پر دھمکا کر جبری بیانات سے لے کر جھوٹی ایف آئی آرز کا ڈراپ سین ہوچکا ہے...