جب وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے مسنگ پرسنز آپ نے اٹھائے ہیں تو بھی انہیں مارا جاتا ہے ڈی چوک اسلام باد گواہ ہے
اسلام باد ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے بھی تو کچھ بتایا تھا تو ان کو سبق سکھانے کیلیے آئین ہی توڑ دیا گیا انوار کاکڑ صاحب فلسفہ فسطائیت کے علمبردار نہ بنیں
جیل سے خطرے کی گھنٹی: عمران خان کا بہنوں کے نام ہنگامی پیغام
بشریٰ بی بی کی حالت پر تشویش
لبنان میں خوفناک حملے: معاہدہ خطرے میں؟
https://t.co/wW1Cw3VI34
اپ سمجھ رہے ہوں گے کہ سہیل افریدی نے بجٹ کاغذات پر سائن کیے ہیں بالکل بھی نہیں اج خیبر پختونخواہ کی اسمبلی نے عمران خان کے نام پر جیتے ہوئے 92 ایم پی ایز نے مائنس عمران خان پر دستخط کر دیے ہیں
آواز اُٹھائیں 🚨
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ یوسف سعید لاپتہ ہے جبکہ اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹیویٹ ہوا ہے۔
��رض سمجھ کر یوسف سعید کی بازیابی کے لئے آواز اٹھائیں کیونکہ یہ وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے
اٹلی کی وزیر میلونی نے ٹرمپ کا ڈرم بجا دیا ہے
عمران خان دنیا کا سب سے بڑا لیڈر ہے
ٹرمپ یاد رکھیں اٹلی اور جارجیا میلونی بھیک نہیں مانگتے ان کے من گھڑت بیانات اور اتحادیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ ناقابلِ قبول ہے یہ پہلی بار نہیں مگراب حد ہو چکی ہے 🔥✌️
کچھ دن پہلے ایک شخص نے مجھے ایک دلچسپ واقعہ سنایا وہ ایک شادی میں گیا ہوا تھا جہاں اس نے ایک انوکھا نظام دیکھا وہاں ایک شخص بیٹھا تھا جو مہمانوں کو سالن ترازو میں تول کر دیتا اور روٹیاں بھی گن کر دیتا جو بھی کھانا لینے آتا، وہ بتاتا کہ کتنے افراد کا کھانا چاہیے، پھر وہ شخص اسی حساب سے سالن تول کر دیتا اور ��اتھ ہی ایک رجسٹر میں نام، سالن کی مقدار اور روٹیوں کی تعداد بھی نوٹ کر لیتا۔
اس شخص نے جب اس بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ اس طریقے کو "تولویں روٹی" کہا جاتا ہے بعض علاقوں میں آج بھی یہ روایت موجود ہے، جہاں شادیوں میں سالن افراد کے حساب سے تول کر دیا جاتا ہے۔ لوگ چاہیں تو وہیں بیٹھ کر کھانا کھا لیں یا پھر اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔
بات سن کر مجھے یہ طریقہ کافی دلچسپ لگا ایک طرف شادیوں میں اکثر کھانا ضائع ہو جاتا ہے، لوگ روٹی اور سالن لینے کے لیے ہجوم بنا لیتے ہیں، جس سے نہ کپڑے محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی کھانے کی ترتیب برقرار رہتی ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ نظام کافی منظم اور بہتر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لیتا ہے اور ضیاع بھی کم ہوتا ہے... کیا آپ نے بھی کہیں یہ روایت دیکھی ��ے؟ کن علاقوں میں یہ آج بھی رائج ہے؟
منقول
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ
مجبور بے کس پاکستانی مائیں قیامت کے روز گواہی دیں گی حافظ عاصم منیر نے چھبیس نومبر کو نہتے جوانوں کو گولیاں ماریں لاشوں کو غائب کیا ماؤں کی گود اجاڑ دی۔
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی...
بھٹو نے بھی CCD کی طرح اپنا ذاتی ڈیتھ اسکواڈ بنا رکھا تھا۔ اس سکواڈ نے لاتعداد جانیں لیں لیکن قصوری کی موت بھٹو کے گلے کا پھندا بنی تھی۔
مریم نواز کی CCD نے 8 ماہ میں 900 سے زائد لوگ ماورائے عدالت قتل کیے ہیں۔ وہ 900 لوگ آسٹریلین شہری نہیں تھے اس لیے کوئی ��واز نہیں اٹھی۔ یاد رکھنا جب بھی وقت بنا، یہی CCD کا قتل عام مریم نواز کو تختہ دار تک لے کر جائے گا کیونکہ خونِ ناحق ہمیشہ بولتا ہے۔
بابا جی کہتے ہیں، ضمیر کا بوجھ واقعی ہلکا کرنا ہو تو ریحانہ ڈار کی سیٹ واپس کر کے عوام سے معافی مانگ لیں۔ رنگ بازی نہ کریں۔ احمد وڑائچ
#pakistan@ahmadwaraichh
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کینسر کے خلاف ہمت اور حوصلے کی جنگ لڑتا یہ ننھا فرشتہ اپنا پسندیدہ کھلونا سینے سے لگائے ہوئے ہے، اور جیسے ہی کیمرے پر نظر پڑتی ہے، معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلا دیتا ہے۔
قصہ بددعاہوں کا:
جہلم جیل راولپنڈی سے لگ بھگ 110 کلومیٹر دور ہے۔ بھاری بھرکم پرانے پرزن بسوں میں یہ سفر قریبا 3 گھنٹوں کا پڑجاتاہے۔ بس میں دونوں طرف کی سیٹوں پر 20 یاگھس گھساکر 22 بندے آجاتےہیں۔ راستہ پہاڑی ہے تو جھٹکے واہ واہ لگتے ہیں۔ لانے ��یجانے والوں کو جوڈیشل پولیس کہتےہیں۔یہ سردیوں کے دن تھے۔ جہلم میں دریا کے سبب دھند پڑتی ہے تو سردی بھی اچھی خاصی چپکتی ہے۔ تحریک انصاف کے ورکرز کو عل الصبح نماز کےبعد جگادیاجاتاتھا۔ صبح 7بجےتک لائنوں میں جیل کےمین گیٹ کی طرف مارچ شروع ہوجاتا۔ تعداد سینکڑوں میں ہوتی اس لیے گنتی، حاضری اور ہتکھڑیاں لگنے میں گھنٹہ ڈیڈھ مزید لگ جاتا۔ اس کے بعد 20 بندوں کے بس میں 45سے50 ہاتھ بندے ورکرز کودھکیل دیاجاتا۔ بیس بائیس سیٹوں پر گھس گھسا کربیٹھ جاتے، کچھ زمین پر، باقی کھڑے رہتے۔ دوبندے ساتھ ہتکھڑیوں میں جھکڑے ہونےکےسبب اٹھنا، بیٹھنا اورفاصلہ برقراررکھنامشکل کام ہوتاتھا۔ ہتکھڑیاں اتنی سخت گیر باندھی ہوتی کہ کلائیوں پرنشان پڑجاتے۔ ہڈیاں دردکرنےلگتی۔ جہلم سے دینہ، سہاوا، گجر خان وغیرہ تمام پہاڑی سلسلےہیں۔ ڈرائیوربھی تحریکیوں کو غداری کی سزادینےکےلیےزبردست ہچکولےدیتے۔ لڑکےہاتھ بندھےہونےکیوجہ سےادھرادھرگرجاتے۔ کبھی کسی بزرگ کی طبیعت خراب ہوجاتی۔دھندوالی گیلی سردی میں روشندانوں سےآتی تیز ہوا سےسریابدن پرایک آزادہاتھ سےچادرسنبھالنااورساتھ خودکوگرنےسےبھی بچاناایک ایساہنرتھاجوسیکھتےسیکھتےگرمیاں آگئی تھی۔کہنےکوتوہم پیشی پرجارہےہوتےلیکن پیشی ہوتی ناتھی۔قیدی وین کو4سے6گھنٹےپنڈی پولیس لائن میں کھڑارکھاجاتا تاکہ اگرکسی کےوالدین یا رشتہ دار عدالت ملاقات کرنےآئےہوں تو وہ ملاقات ناہونے پائے۔ ورکرزکو گھنٹوں قیدی وین میں بند ہوتےشازونادرہی پیشاب کرنےکی اجازت ملتی۔ بوتل اندرپھینک کرکہتےاس میں کرلو۔ اب بتاوچالیس پچاس بندوں میں ہتکھڑی لگےہاتھوں میں بوتل کااستعمال کوئی کیسےکرے؟ انکی کوشش ہوتی انسان کی تزلیل ہو۔ کسی کاحوصلہ توڑنےکےلیےیہ انکا بدترین ہتھیارتھا۔ واپسی انکی مرضی سےہوتی۔ ورکرزکبھی مغرب تک آجاتے کبھی عشاءتک توکبھی رات 12یا1بجے۔ تھکےہارے،زنجیروں میں جھکڑے،بھوکےپیاسے، پندرہ سترہ گھنٹوں کےہتھکڑی لگےبیڑبکریوں کی طرح ایک دوسرےکےاوپرگرتےپڑتےیہ بےگناہ لوگ جب واپس آتےتوانکےچہرےغم اورغصےسےچمک رہےہوتے۔اکثرسیدھابیت الخلاء جاتے،پھروضو کرتے،آکرنمازپڑتے۔۔۔پھرجس خشو اورخضوع کےساتھ، اکثراوقات آسمان کی طرف دیکھتےہوئے، چیختے چلاتےجو وہ بددعائیں کرتے۔۔۔اوئے ہوئے۔۔۔ خدا بزرگ و برتر کی بزرگی و طاقت کی قسم کہ وہ بےگناہ لوگوں کی وہ بد��عائیں ضرور پوری ہونگی۔ اور ظالم اس دنیا اور اگلی میں شدید رسوا ہونگے!