مظہر عباس اسٹیبلشمنٹ کے چودہ طبق روشن کرتے ہوئے
کم سے کم صحافت کا کچھ حق تو ادا کیا!
جو کچھ محسن نقوی نے کہا وہ انکی ذاتی رائے نہیں تھی۔
محسن نقوی تو کاکروچ بھی اپنی مرضی کے لانا چاہتے ہیں۔
اس ملک میں نظام عوامی نمائندوں کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے جنکو سیاست میں حصہ لینے کی آئینی اور خود انکے کوڈ میں اجازت نہیں ہے۔
جس ملک میں وزیراعظم کو اختیار نہیں، عدالت معزول، سیاست معزول، سیاست دان معزول ہو۔ چیف جسٹس اپنی مرضی سے عدالت نہیں جا سکتا۔ میڈیا آزاد نہیں ہے،
وہاں بااختیار بلدیاتی اداروں کی بات ہو رہی ہے۔ پہلے آپ خود طے کریں کہ آپ اس ملک میں کونسا نظام چاہتے ہیں ۔
چند سال پہلے آپ ہائبرڈ سسٹم لائے اب وہ بھی آپکو اچھا نہیں لگ رہا۔ کیا ہم غیر جماعتی فارمولے کی طرف جا رہے ہیں۔
جب تک آپ آئین کی سپرمیسی کو نہیں مانیں گے۔ جس عدلیہ نے ملک کا آئین توڑا اسکو آپ نے نہ صرف لیگل پروٹیکشن دی بلکہ کہا آپ چاہیں تو آئین میں مزید ترامیم بھی کر لیں۔
79 میں بھٹو کی پھانسی کے بعد غیر جماعتی انتخابات کروائے آپ نے تو انھیں بھی پاور نہیں دی۔آپ نے سیاسی نظام کو برادریوں میں تقسیم کیا۔ پھر آپ برملا کہتے ہیں کہ یہ اتحاد آپ بنواتے ہیں ۔ مہران بینک کا اسکینڈل سب کے سامنے ہے چار بینکوں سے پیسے جمع کر کے نمائندے منتخب کروائے گئے یہ سب سیاسی جماعتیں نہیں کرتیں ۔
غیریقینی کی صورتحال ہی پاکستان کا مسئلہ ہے۔آپ ملک میں استحکام آنے ہی نہیں دیتے ۔سیاست کو گالی بنا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتی ۔ کسی کے لیے آپ بارہ مئی چھوڑا ہوا ہے کسی کے لئے نو مئی ۔ مقدمات سے آپ کنٹرول کر رہے ہیں۔ آپ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے معامالات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی بحث چھیڑ تے ہیں ۔
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔
کاش دنیا کا ہر ملک اپنے بچوں کے لیے ایسا نظام بنائے!
جاپان کی اسکول بسیں اپنی منفرد ترتیب، نظم و ضبط اور بچوں کی حفاظت کے بہترین انتظامات کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔یہ بسیں محض ایک سواری نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور تہذیب کا شاہکار ہیں۔
جاپان میں اسکول بسوں کو اکثر کارٹون کیپشنز (جیسے پیکاچو، ہیلو کٹی یا ٹرین) کی شکل میں ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بچوں کے دل سے اسکول جانے کا خوف ختم کرنا اور صبح سویرے ان کے موڈ کو خوشگوار بنانا ہے۔
ان بسوں میں بچوں کے سائز کی سیٹیں اور خاص سیٹ بیلٹس ہوتی ہیں۔ اگر کوئی بچہ غلطی سے بس میں چھوٹ جائے، تو بس کے آخر میں ایک "سیفٹی بٹن" ہوتا ہے جسے دبا کر بچہ پورے علاقے کو الرٹ کر سکتا ہے۔ ہر بس میں جی پی ایس (GPS) ٹریکنگ لائیو ہوتی ہے۔
جاپان میں جب اسکول بس رکتی ہے اور اس کی لیمپ لائٹس جلتی ہیں، تو پیچھے اور سامنے سے آنے والی تمام گاڑیاں خود بخود رک جاتی ہیں۔ بچوں کو بس میں چڑھتے اور اترتے وقت لائن بنانے اور ڈرائیور کو جھک کر شکریہ (Arigato) کہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
یہ ڈسپلن ہی جاپان کو دنیا کی سب سے مہذب قوم بناتا ہے۔ اپنے بچوں سے پیار اور ان کی حفاظت کسے کہتے ہیں، یہ کوئی جاپانیوں سے سیکھے! 👏
چک جھمرہ، ڈیڑھ سو افراد کا عملہ سارا دن فارغ بیٹھا رہا ، ایک کشمیری ووٹر ووٹ ڈالنے نہ آیا
تقریباً ہر پولنگ اسٹیشن پر یہی حال تھا کہ ایک بھی ووٹر نہیں آیا لیکن جب رزلٹ کا اعلان ہوا تو دس دس ، پندرہ پندرہ ہزار ووٹ پڑ چکے تھے
🚨اہم گفتگو
اب یہ عمران خان کی ویڈیو چلا کر قوم سے حمایت مانگ رہے ہیں کہ عمران خان بھی زیادہ صوبوں کے حامی تھے لہٰذا اب ہمیں سپورٹ کرو !!
یہ عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں " عمران خان نے صوبے بنانے کی بات ووٹ لے کر کی تھی اور اس نے کہا تھا اس پر بات چیت اور سوچ بیچارے ہونا چاہیے نا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ایک ڈکٹیٹر آئے گا اور وہ ڈنڈے کے زور پر صوبے بنائے گا اور تم اسے سپورٹ کردیا "
قاسم خان سوری
پاکستانیوں، یہ ان بارہ سیٹوں کی حقیقت ہے، جس کی خاطر ان ظالموں نے کشمیر کو خون میں نہا دیا ہے! یہ فارم ڈاؤن لوڈ کر لیں! اس سے پہلے کہ یہ غیر قانونی حکومت X پہ دباؤ ڈال کے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کروانے کی کوشش کرے! ہمیں X کی پالیسی ٹیم تک پہنچنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ انھیں brief کیا جا سکے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے Rule of Law اور Due Process نہیں ہے! اور پاکستان کی تمام عدالتیں فوجی افسر کنٹرول کرتے ہیں، اسلئے ان عدالتوں کو احکامات کو منانا امریکن آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے! @X
ہم بغیر اطلاع میانوالی پہنچے ، اگر اطلاع دیتے تو استقبال کے لیے آنے والوں کو چشمہ بیراج سے ہی اٹھا لیتے، جو کارکن نکلے ان کو بھی پولیس نے اٹھا لیا۔لائحہ عمل یہ ہے کہ لوگ تیار ہیں، لوگ بہت غصے میں ہیں،جہاں سے گزرتے لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے، ہم نے چار جگہوں پہ رکنا ہوتا تھا چودہ جگہوں پر رکنا پڑ جاتا۔ یہ جو تاثر دے رہے تھے لوگ نہیں نکلتے دیکھ لیا لوگ نکلنے کو تیار ہیں علیمہ خان
سسٹم کے collapse کی بات حکمرانوں کے لئے تو خبر ہوسکتی لیکن پاکستان کے عوام کے لئے تو یہ نظام ستر برس سے ڈیلیوری نہیں کر رہا۔ جہاں تین مہینے کے لیے آنے والی نگران حکومت 13 ماہ تک قائم رہے وہ سسٹم یقینا" ناکام ہوچکا ہے۔
ڈھائی ڈھائی سال حکومت کرنے کا مطالبہ پیپلزپارٹی نے کیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے کہا تھا کہ ڈھائی سال آپ لے لیں اور ڈھائی سال ہمیں دے دیں۔۔ہم نے جواباً کہا تھا کہ پھرصدر بھی ڈھائی سال کرلیں، چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان حکومت بھی نصف نصف دورانیہ کرلیں۔۔اس پر پیپلزپارٹی پیچھے ہٹ گئی اور زرداری صاحب نے کہا نہیں،وہ پانچ سال کیلئے صدربنیں گے: حذیفہ رحمان
@AUKhanOfficial1@HuzaifaRehman_@sharmilafaruqi
صدر زرداری لاہور ہائیکورٹ میں پیپلز پارٹی وکلا ونگ کا وکیل بطور جج بھرتی نہ کرا سکنے کے غم میں نو منتخب ججوں کی سمری پر ناراض ہو کر بیٹھ گئے ۔۔ دستخط نہیں کر رہے۔۔۔
یہ ہے اس ملک میں منصف بھرتی کرنے کا Criteria ، کہ اگر ن لیگ اپنے وکلا ونگ کے وکیل لاہور ہائیکورٹ کے جج بنوانے میں کامیاب ہو گئی ہے تو میرے پیپلز پارٹی ونگ کے وکلا میں کیا خرابی تھی ؟ اب میں سائن نہیں کروں گا۔۔
سسٹم یونہی کولیپس نہیں ہوا اس سسٹم کو کولیپس کرنے میں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم نے تیزاب کا کام کیا ہے ۔
خبر یہ ہے کہ
اڈیالہ جیل دورے کے بعد برطانوی صحافی کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو بہت برے حالات میں جیل کے اندر رکھا ہوا ہے
اور وہ بہت سخت جیل کاٹ رہے ہیں۔ عمران خان کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا 💔
انیق ناجی کی یہ بات غلط ہے کہ عمران خان جیل میں بیٹھ کر بہترین سیاسی داؤ پیچ کھیل رہا ہے۔
عمران خان کوئی داؤ پیچ نہیں کھیل رہا ہے۔ نہ عمران خان سیاست کر رہا ہے۔ خان اپنی قوم کے حقوق حاصل کرنے کے لئے قربانی دے رہا ہے۔ ایسی قربانی جو صرف قوم کا درد رکھنے والا آخرت پر یقین کامل رکھنے والا اللہ کا ولی ہی دے سکتا ہے۔
خان کوئی سیاست نہيں کر رہا ہے۔ وہ اپنے اللہ کے ہاں سرخرو ہونے کے لیے اپنی دانست اور استعداد کے مطابق عبادت کر رہا ہے۔ اسے اپنے گناہ گار ہونے کا احساس ہے۔ اس نے کئی بار اس کا اظہار کیا ہے۔ وہ نہیں چاہتا وہ اس دنیا سے نواز شریف اور زرداری جیسوں کے طرح گناہوں کی گٹھڑی ساتھ لے کر جائے۔ وہ یہ گٹھڑی ان لوگوں کے سر پر رکھ کر جانا چاہتا ہے جنہوں نے اسے ناحق قید کیا ہوا ہے اور سسٹم کو جکڑا ہوا ہے اور فرعون بن کر اسے قبر جیسا عذاب دے رہے ہیں۔
دوسری بات۔ سسٹم اس لئے رکا ہوا ہے کیونکہ قید میں تنہا عمران خان نہیں ہے۔ پاکستان کی 80 سے 85 فیصد عوام بھی خان کے ساتھ قید میں ہیں۔ اس لئے جب تک جم غفیر قید میں ہے کوئی بھی سسٹم لے آئیں وہ بری طرح فیل ہو جائے گا۔ نظام کو کامیاب بنانے کے لئے عوام کو رہا کرنا پڑے گا۔
نواز شریف نے جنرل کرامت کو فارغ کر دیا تھا کہ آپ نے وزیراعظم کو انڈر مائن کیا ہے آج محسن نقوی کہہ رہا ہے نظام فیل ہو گیا کیا وہ فارغ ہوں گے ؟ اعزاز سید ۔۔
آپ نے نواز شریف کی بچپن کی مثالیں دی ہیں آپ نے آج کی مثال کیوں نہیں دی آج کے نواز شریف نے نہ صرف خود محسن نقوی کی بیعت کی بلکہ بھائی سے بھی کروائی اس ہائیبرڈ نظام کی بیعت کرنیوالے سب سے بڑے آدمی نواز شریف ہیں میں آج کے نواز شریف کو دیکھوں یا ان کی 20 سال پرانی گیت مالا سنوں ! آصف بشیر چوہدری ۔۔
مطیع اللہ جان 🔥🔥🔥
نون لیگ کو 17 سیٹوں کے باوجود سادہ اکثریت دے دی گئی جو کہ اتنی سادہ ہے کہ بڑے ہی آسانی سے اقلیت میں بدلی جا سکتی ہے ایسی جماعتوں کو جب اقتدار دیا جاتا یے تو انکے اندر سے ایسے چشمے پھوٹتے ہیں کہ نون سے ش اور ش سے م نکل جاتی یوتی یے۔
چھوٹے صوبے کی بات کوئی سیاسی جماعت کوئی سول سوسائیٹی یا دانشوروں سے نہیں ہو رہی یے۔ پاکستان کوئی شاہراہ یا پل یا کوئی بلڈنگ نہیں ہے جسکا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے عطا کردیا جائے۔ اس تجویز پر صرف ٹٹو بات کر رہے ہیں لیکن 3 بار کا وزیراعظم اور شوباز کے منہ سے کوئی بات نہیں نکل رہی مریم خاموش یے۔
پارلیمنٹ فتح ہوگئی ہے عدالت فتح ہوگئی ہے اب صوبے فتح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لاہور ، شیخو پورہ، قصور اور ننکانہ میں 6 سے 12 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ
شدید حبس میں سانس لینا محال، کاروبار تباہ، تاجروں کی جھولیاں اٹھا کر بددعائیں
یہ لوگ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام اباد کی طرف سفر کر رہے تھے ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کرنے کی کوشش کی ۔ ڈرائیور نشے میں دھت تھا ۔ آگے جاکر اس نے گاڑی درمیان سڑک میں روک دی اور پسٹل لیکر نیچے اترا ۔ اس گاڑی والے کو گالیاں دیتا ہوا آگے بڑھنے لگا ۔ ان لوگوں نے گاڑی کو ریورس کرکے اپنی جان بچائی ۔
ان لوگوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو اپلوڈ کردی
بریکنگ نیوز 🚨عمران خان کے ساتھی وقار یونس نے بھی خُوف کے بُت پاش پاش کردیے۔ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایمانداری کی کھل کر تعریف کرڈالی، بڑی گواہی دے دی مخالفین کو تتے توے پر بیٹھا دیا 🔥🔥
عمران بھائی اگر مجھے کہتے نہ کہ اس چھت سے چھلانگ مارو، تو میں نے دوسری دفعہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں؟ ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔ کنسیکوئنسز (نتائج) ہم لوگوں نے نہیں دیکھے تھے۔ میرے خیال میں جو Success بھی تھی ہماری وہ اسی لیے تھی کہ ہم نے ایک ایسے قائد کی پیروی کی جو ایماندار تھا اور جو ہم سے بہترین کارکردگی چاہتا تھا اور I Think انہوں نے جو سکھایا ہے، یا جو انہوں نے کر کے دکھایا ہے، جو Attitude کے Issues ہوتے ہیں۔ بولرز یا کرکٹرز کے۔ آپ جانتے ہیں مہارت تو سب کے پاس ہوتے ہے talent بھی سب کے پاس ہوتا ہے، ایک ایٹی ٹیوڈ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ Attitude ان کی طرف سے آیا۔ میرے لیے، میرے والد کے بعد میری زندگی پر سب سے بڑا اثر عمران خان کا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے، ہمیں اُس پر فخر ہے۔
پورے پاکستان کی جیلوں میں ہمارے 4500 سے زائد قیدی ہیں جن میں سب سے ذیادہ تکلیف دہ وہ ہیں جو ملٹری قید میں ہیں۔ دیر میں ایک کارکن کی والدہ کا انتقال ہوا اسے ہتھکڑیوں میں لایا گیا تب تک اس کی ماں کی قبر کی مٹی خشک ہو چکی تھی۔ ہمارے کارکنوں کو 2 2 ماہ غلاظت سے بھرے واشرومز میں بند کیا گیا اور کہا گیا کہ ایک پیپر پر لکھو کہ جو کچھ 9 مئی کو ہوا ہم نے عمران خان کی ایما پر کیا لیکن انہوں نے کہا ہم مر جائیں گے اس پر دستخط نہیں کریں گے، اخونزادہ حسین احمد
🛑 توبہ توبہ توبہ
📌پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میں 7 کھرب 2 سو 75 ارب روپے آئی پی پیز کو دئیے
جبکہ ان سے بجلی ایک دھیلے کی بھی نہیں ملی مطلب ایک یونٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی ۔
صرف پچھلے سال 1کھرب 1 سو 49 ارب آئی پی پیز کو دئیے گئے
ان پیسوں سے 5 دیامر بھاشا ڈیم بن سکتے تھے
🔥ظلم در ظلم یہ بھی کہ 7275 ارب پہ ٹیکس بھی نہیں لیا گیا
رواں سال کے یعنی 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ایک ہزار 4 سو 30 ارب آئی پی پیز مالکان کو دیا جا چکا ہے
🔥اگلا ظلم سنیں
نیپرا کے ایک ملازم نے لگے ہوئے 108 پلانٹس کی انسپیکشن کرنا ہوتی ہے مطلب اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ اس نے ان پلانٹس کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کونسا پلانٹ چل رہا ہے یا کونسا نہیں چل رہا
اس نے پچھلے 6 سالوں میں صرف 30 پلانٹس کا وزٹ کیا
🔥اگلا ظلم سنیں
چئیرمین نیپرا کی تنخواہ 11 لاکھ تھی
جسے بڑھا کر 32 لاکھ کیا جا چکا ہے
ان درندوں کا نا پیٹ بھر رہا ہے نا نیت ، دولت کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ھو رہی ۔