SHOCKING H-1B VISA INVESTIGATION 🔹 Nearly 7 million visas processed since 2015 ➡️ 70% from India ➡️ 12% from China 🔹 A former official told Newsweek 80-90% of applications from India involved fraudulent documents or unqualified applicants 🔹 A network of universities selling fake degr...
And that is the perpetual FRAUD that has landed Indians as the highest immigrant earners of America - Indians love bragging about it
Every single effing Indian, going back 40 years needs to investigated
US citizenships gotten thru Indian fraud need to be revoked
@CyberGreen09
🇮🇳🇺🇸 Tata Consultancy CEO Krithi Krithivasan brought in 6,500 L-1A “managers” to America from India.
Bloomberg says: many weren’t managers at all, just cheaper labor with fake titles used to bypass H-1B rules and fees.
$CUTOFFS
Japan has quietly entered the supersonic race and is developing an aircraft so fast that it can zoom passengers from Tokyo to New York faster than it would take America's much-hyped Concorde successor to fly from LAX to JFK https://t.co/2v1bdSICQX
🛑 Pakistan is not just a country on the map, it is the bridge connecting the West, South Asia, the Middle East, and the wider Muslim world. Its geography, diplomacy, and strategic importance make it central to regional stability and global connectivity.
“Pakistan is a bridge between the West, South Asia, Middle East and the wider Muslim world.” 📍Fareed Zakaria, CNN
A reality the world is increasingly recognizing. 🇵🇰
Thanks to the great performances of the J-10CE piloted by Pakistani pilots against India in the May 7th air war, the makers of J-10; Chengdu Aircraft Corporation saw their profit doubling in 2025.
Pakistan's J-10CE shot down 6 Indian fighters including 3 French Rafales, which are the most advanced in the Indian arsenal. All done with zero losses.
آخر کراچی میں ہو کیا رہا ہے پاکستان کو پالنے والے شہر کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے
کل تک حکومت نے اعلان کیا تھا ریڈ لائن لاٹ ٹو کا ٹھیکہ منسوخ کرکے کسی اور ٹھیکیدار کو دیدیا گیا ہے منگل کی شام سے پورے کوریڈور پر ایف ڈبلیواو کی جانب سے خیرمقدمی بینرز لگ گئے تھے آج سندھ حکومت عدالت میں جاکر مکر گئی اور یہ موقف اختیار کیا کہ ابھی یہ ٹھیکہ کسی کو نہیں دیا گیا صرف منصوبے کے اطراف کی سڑکوں کی تعمیر کا کام دیا گیا ہے سمجھ نہیں آتا ہنسنا ہے ، رونا ہے یا خاموش رہنا ہے
😂😒😂😒😳🤐🤐
اپنے لڑکپن کے دنوں میں، جب میرے پاس نئی کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، تو پرانی کتابوں کے ٹھیلوں کا رخ کرتا تھا۔ ایسے ٹھیلے کریم آباد اور گلشن اقبال میں ہوتے تھے جہاں پرانے رسالے اور ڈائجسٹ بھی مل جاتے تھے۔ سب رنگ مجھے بہت پسند آیا اور میں نے اس کے شمارے جمع کرنا شروع کردیے۔
ایک دن اپنے چھوٹے سے کتب خانے کو ترتیب دینے بیٹھا تو اندازہ ہوا کہ سب رنگ کے درجنوں شمارے جمع ہوچکے ہیں۔ یہ نوے کے وسط کا کوئی سال تھا اور سب رنگ طویل وقفوں کے بعد شائع ہوتا تھا۔ میں نے فہرست مرتب کی تو پتا چلا کہ 1970 سے نکلنے والے سب رنگ کے صرف چھ شمارے میرے پاس نہیں ہیں۔ باقی تمام شمارے میرے ذخیرے میں آچکے ہیں۔
میں نے ڈائجسٹ پر درج پتا نوٹ کیا اور ایک دن بسیں بدل بدل کر چندریگر روڈ جاپہنچا۔ اس شاہراہ پر صرف ون سی روٹ کی بس چلتی تھی۔ سب رنگ کا دفتر پریس چیمبر نام کی پرانی عمارت میں تھا جو جنگ بلڈنگ والی گلی میں واقع ہے۔ جنگ بلڈنگ بھی عوامی نام ہے، اس عمارت کا اصل نام پرنٹنگ ہاوس ہے۔
پریس چیمبر میں لفٹ نہیں تھی۔ سب رنگ کے دفاتر چوتھی منزل پر تھے۔ میں نے ایک کمرے میں جاکر شکیل صاحب کا نام لیا۔ انھوں نے دوسرے دفتر کی طرف اشارہ کیا۔ میں وہاں پہنچا تو ایک صاحب صوفے پر پاوں پسارے بیٹھے تھے۔ میں نے کہا، شکیل عادل زادہ صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا، اتنی گرمی میں کہاں سے آرہے ہو؟ یہیں صوفے پر بیٹھ جاو۔ پانی پیو۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ ان سے پوچھا کہ شکیل صاحب کب آئیں گے۔ انھوں نے کہا، میں ہی شکیل عادل زادہ ہوں۔
مجھے ایک جھٹکا لگا۔ یہ تو مجھ جیسے گوشت پوست کے آدمی ہیں۔ میرے جیسا ہی قد ہے۔ ترشوائے ہوئے بال۔ پرانے وقتوں کے فیشن والی ٹوتھ برش مونچھ۔ ڈھیلی پینٹ شرٹ۔ صوفے پر پاوں سکیڑے ایسے بیٹھے تھے جیسے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ دفتر اور لوگوں کے لیے بھی گھر جیسا تھا۔
شکیل صاحب دوپہر کو قیلولہ کرتے تھے۔ لیکن انھوں نے مجھ سے محبت اور توجہ سے بات کی۔ جب میں نے بتایا کہ میرے پاس سب رنگ کے صرف چھ شمارے کم ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ مجھ سے فہرست لی اور کہا، میاں ذرا صبر کرو۔ پھر کسی اور کمرے میں گئے اور وہ چھ شمارے ڈھونڈ لائے۔ میں نے اپنی پتلون کی جیب سے مڑے تڑے کچھ نوٹ نکالے کہ ان ڈائجسٹوں کی قیمت ادا کروں۔ شکیل صاحب نے پیسے لینے سے انکار کردیا۔ میں نے اصرار کیا لیکن وہ نہ مانے۔ میں ان کے ہاتھ چوم کر واپس چلا آیا۔
اس کے بعد پندرہ سال تک شکیل صاحب سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس دوران میں نے جرنلزم جوائن کی اور جاسوسی ڈائجسٹ، ایکسپریس اور جنگ سے ہوتا ہوا جیو پہنچ گیا۔ چار سال دبئی اسٹیشن پر کام کیا۔ واپس آنے کے بعد سو لفظوں کی کہانی شروع کی اور ایک کتاب چھاپ لی۔ وہ کتاب شکیل صاحب کو پیش کی۔ ان کا ایک شاگرد عرفان جیو میں کاپی ایڈیٹر تھا۔ اس کے توسط سے شکیل صاحب سے دوبارہ رابطہ ہوا۔
میں نے اپنی نسبتا طویل کہانیوں کی ایک اور کتاب چھاپنا چاہی۔ کمپوزنگ کے بعد اس کتاب کا مسودہ شکیل صاحب کو بھجوایا۔ میں اپنی کتابوں پر بڑے ادیبوں کی آرا نہیں چھاپتا۔ انھیں مسودہ بھیجنے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ وہ چھپنے لائق ہے بھی یا نہیں۔ انھوں نے کتاب صرف دیکھی نہیں بلکہ اس کے پروف پڑھ ڈالے۔ میرا دل جھوم اٹھا۔ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔
اب شکیل صاحب نے اپنے دفتر میں مدعو کیا۔ یہ 2014 کی بات ہے۔ سب رنگ کو بند ہوئے زمانہ ہوچکا تھا۔ ہفتے کا دن تھا۔ وہ دن مجھے اس لیے یاد ہے کہ ہر ہفتے کے دن اس دفتر میں عاشقان شکیل عادل زادہ جمع ہوتے تھے۔ دوپہر کا پرتکلف کھانا ہوتا تھا۔ اس کے بعد پرانی یادیں تازہ کی جاتی تھیں۔ مزے مزے کے قصے سنائے جاتے تھے۔ کبھی کبھی حالات حاضرہ بھی زیر بحث آجاتے۔
میں پہلی بار وہاں گیا تو ایک لمحے کو بھی احساس نہ ہوا کہ اجنبی محفل میں آیا ہوں۔ صحافی ہونے اور پریس کلب اور آرٹس کونسل کے چکر لگانے کی وجہ سے ان میں سے بیشتر لوگوں سے سلام دعا ہوچکی تھی۔ بھائی عقیل عباس جعفری سے تو برادرانہ تعلق تھا۔ انیق احمد تھے۔ وسعت اللہ خان تھے۔ پروین افشاں راو تھیں۔ سنووائٹ ڈرائی کلینرز کے مالک شکیل الرحمان تھے۔ خالد بھائی تھے جن کا جنگ کے عقب والی گلی میں پرنٹنگ پریس تھا۔ ان کے علاوہ شکیل صاحب اور عرفان تو ہوتے ہی تھے۔
کھانا آیا۔ مٹن کا کُنا، تندور سے تازہ اترے ہوئے نان، کولڈڈرنک اور کچھ میٹھا بھی تھا۔ سب نے مزے لے لے کر کھایا۔ اس دوران انیق بھائی اور سنووائٹ والے شکیل الرحمان صاحب کی چھیڑچھاڑ چلتی رہی۔ معلوم ہوا کہ انیق بھائی کا ہاضمہ اچھا ہے۔ ہاضمہ اچھا ہے تو خوراک بھی اچھی ہے۔ پیٹ بھر کے نہیں، جی بھر کھاتے ہیں لیکن ہر کچھ دیر بعد بھوک لگ جاتی ہے۔ دوسرے مذاق کرتے تھے لیکن انھیں اپنے ہاضمے پر فخر تھا۔
میں ہر ہفتے وہاں جاتا رہا۔ ماضی میں جب سب رنگ چل رہا تھا تو روزانہ کا کھانا شکیل صاحب کی طرف سے ہوتا تھا۔ لیکن اس کے مرحوم ہونے کے بعد طے پایا کہ کسی ایک شخص پر بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔ چنانچہ ہر ہفتے اس پارٹی کے ارکان باری کے حساب سے کھانا بنوا کے لاتے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی زندگی کا مقصد اچھے سے اچھا کھانا تھا۔ وہ شہر بھر کے بہترین باورچیوں، ریستورانوں اور حلوائیوں کو ان کے نام، صورت اور خاصیت سے جانتے تھے۔ انھوں نے میری معلومات میں بھی اضافہ کیا اور اپنی باری آنے پر مجھے بھی دیگ اٹھاکر لانی پڑی۔
اس سے پہلے میں نے مرنجاں مرنج لفظ پڑھا اور سنا تھا۔ شکیل عادل زادہ کو قریب سے دیکھ کر اس لفظ کے معنی سمجھ میں آئے۔ ہر وقت خوش رہتے تھے۔ نہ کسی کی برائی کرتے، نہ سنتے۔ نہ سننے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو برا کہنے سے روک دیتے۔ بس نظرانداز کردیتے تھے ورنہ کیا کیا غیبتیں وہاں نہ ہوتی تھیں۔ ان غیبتوں کا مقصد کسی کو برا کہنا نہیں، بس ہنسی مذاق ہی ہوتا تھا۔
مجھے جون ایلیا کے ذکر سے دلچسپی تھی۔ وہ ہمارے امروہے کے تھے۔ دور کے رشتے دار، میرے بڑے ماموں کے بچپن کے ہم جماعت، لیکن میری ان سے ملاقاتیں نہیں تھیں۔ شکیل صاحب کے اس خاندان سے قریبی تعلقات تھے۔ ان کے ساتھ پرنٹنگ پبلشنگ کا کام بھی کیا۔ شکیل صاحب نے بتایا کہ جون صاحب تنہائی کے زمانے میں ان کے دفتر آکر پڑے رہتے تھے۔ کبھی کبھی وہاں شعر بھی کہتے۔
ایک دن عرفان نے بتایا کہ کوئی شخص پریس چیمبر کے دفاتر خرید رہا ہے اور شکیل صاحب نے بھی اپنے دفاتر کا سودا کرلیا ہے۔ وہ اپنی کتابیں کسی لائبریری کو دے رہے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے انھوں نے پیشکش کی ہے کہ اگر کچھ چاہیے تو اٹھالو۔ میں بھاگا بھاگا گیا اور جتنا مال لوٹ سکتا تھا، لوٹ لیا۔ دنیازاد کے ایک شمارے میں میرا ترجمہ چھپا تھا۔ وہ آصف فرخی سے بھی نہیں ملا تھا لیکن شکیل صاحب کے ہاں مل گیا۔ میرے پسندیدہ شاعر جمال احسانی مرحوم کی ذاتی کتابیں ملیں جن پر ان کے دستخط تھے۔ اور بھی کئی نادر و نایاب کتابیں ملیں۔ شکیل صاحب نے رئیس امروہوی کا ایک خط دکھایا جو ان کے نام تھا۔ میں نے اس کی تصویر اتارلی اور تب فیس بک پر پوسٹ بھی کی تھی۔
پریس چیمبر کا دفتر فروخت ہونے کے بعد وہ محفلیں خالد بھائی کے پریس میں ہونے لگیں۔ چند کھانے ریستورانوں میں کھائے اور ایک بار انیق بھائی کے گھر پر دعوت ہوئی جو علامہ احمد جاوید کے اعزاز میں تھی۔ اس میں انھوں نے جون ایلیا کی شاعری پر ایک گھنٹا گفتگو کی۔ وہ گفتگو ریکارڈ کی گئی اور ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔
امریکا آنے تک میں عاشقان شکیل عادل زادہ کی محفلوں میں شریک ہوتا رہا۔ وائس آف امریکا میں مجھے ٹاک شو کرنے کا موقع ملا تو ایک پروگرام اردو ڈائجسٹوں پر کیا اور اس میں شکیل صاحب سے بھی گفتگو کی۔ شکر ہے کہ میں نے بروقت اس کی آڈیو محفوظ کرلی ورنہ وائس آف امریکا بند ہونے کے بعد سب ڈیٹا ضائع ہوجانے کا خدشہ تھا۔
An NVIDIA powered farming machine uses Al vision and precision lasers to eliminate weeds in milliseconds without herbicides and without harming crops, a potential shift toward chemical free agriculture