ہرنائی، وام تنگی اور پیڑی میں سی��یورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے بعد فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے زیارت سے معصوم شہریوں کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور اب اپنی دہشت گردی کا الزام سیکیورٹی فورسز پر ڈال کر گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
Following effective operations against Fitna al-Hindustan terrorists in Harnai, Wam Tangi, and Peri, the terrorists are allegedly seeking to retaliate for their failures by abducting and torturing innocent civilians in the Anzargai area of Ziarat. They are also attempting to shif
When effective operations by security forces in Harnai, Wam Tangi, and Peri increased pressure on Fitna al-Hindustan terrorists, they abducted innocent civilians in Ziarat and subjected them to torture, then began blaming security forces to distort the facts. These elements use
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6391ویں روز بھی وہی جھوٹا بیانیہ، وہی پراناڈراما،حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد جبری گمشدگیاں دراصل دہشت گردوں کو قانون کے پنجے سے بچانے کا ایک بھدا ہتھکنڈا ہے۔ جب ریاست ان قاتلوں کو پکڑتی ہے تو یہ لوگ چیخنے لگتے ہیں،
نوشکی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ سکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی، جب تک بیرونی پشت پناہی میں پلنے والے ان دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان BLA کے دو دہشت گردوں کو ان کے عبرتناک انجام تک پہنچا دیا۔
#Noshki#FCBalochistanN#Balochistan#Pakistan
نئے صوبوں کا قیام عوامی مسائل کے حل، مقامی ترقی کے فروغ اور وسائل کی بہتر تقسیم میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس سے پسماندہ علاقوں میں خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
Establishing new provinces can strengthen governance, improve resource distribution, and address public needs more efficiently. It can also encourage regional development, expand employment opportunities, and contribute to prosperity in underdeveloped areas.
قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان، پنکی کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے والے یہ جعلی اکاؤنٹس مبینہ طور پر بھارت سے چلائی جانے والی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس بلوچستان کے حالات سے متعلق غلط معلومات پھیلا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ X انتظامیہ کو چاہیے
قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان، پنکی کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے والے یہ جعلی اکاؤنٹس مبینہ طور پر بھارت سے چلائی جانے والی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس بلوچستان کے حالات سے متعلق غلط معلومات پھیلا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ X انتظامیہ کو چاہیے
بی وائی سی بلوچ عوام کے دکھ، بے گھری اور مشکلات کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے پہلے حقائق اور ثبوت سامنے لائے۔ پرانی یا غیرمصدقہ تصاویر کے ذر��عے خوف و ہراس پھیلانا اور ہر واقعے کو ��یاست مخالف پروپیگنڈے میں بدلنا عوامی حقوق کی خدمت نہیں۔ بلوچ عوام کے نام پر
نئے صوبوں کا قیام اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی مسائل کے فوری حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بہتر انتظامی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور روزگار کے نئے مواقع کے ذریعے تمام علاقوں میں یکساں ترقی اور پائیدار خوشحالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
بی وائی سی بلوچستان کے ہر مسئلے کو اپنے سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے پہلے حقائق اور ثبوت سامنے لائے۔ اگر واقعی مقصد بلوچ عوام کے حقوق کا تحفظ ہے تو پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسوب مبینہ بھتہ خوری، دھمکیوں، اغوا اور شہریوں پر تشدد کے واقعات پر خاموشی کیوں؟
BYC should stop portraying every security operation as forced displacement and also raise its voice for Baloch families who reportedly face threats, extortion, and violence from the BLA and BLF. The rights of the Baloch people mean more than political slogans they include genuine
بلوچستان میں نقل مکانی کی اصل وجہ عالمی سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے (BLA) کی بربریت ہے۔ یہ تنظیم تشدد اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث ہے، جبکہ بی وائی سی (BYC) اسی کا سیاسی چہرہ ہے جو نوجوانوں کو ریڈیکلائز کرتی ہے۔ اصل مجرم یہی دہشت گرد ہیں جو صوبے کا امن تباہ کر
‼️🚨 بلوچستان میں ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے ظلم اور بلیک میلنگ کے باعث مستونگ اور کھڈکوچہ کے مقامی بلوچ عوام نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ 💔💔💔🥲
#Balochistan
پروپیگنڈا بے نقاب‼️
بی وائی سی ہر سکیورٹی کارروائی کو جبری بے دخلی کا رنگ دینے کے بجائے ان بلوچ خاندانوں کی مشکلات پر بھی آواز اٹھائے جو مبینہ طور پر بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دھمکیوں، بھتہ خوری اور تشدد سے خوف زدہ ہیں۔ بلوچ عوام کے حقوق کا مطلب صرف سیاسی نعرے نہیں،