دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
@saleemkhaliq in Pakistan, when your performance is Zero then you should go for domestic cricket, Shaheen performance is zero and he is out of form..Lets watch Babar!
ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں
اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں
کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں
اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو
اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں
شہریار
یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھ لینا ہی دانائی ہے:
رشتے دل سے چلتے ہیں، اور کاروبار اصول سے۔
جب دل اور اصول کی حدیں آپس میں گڈمڈ ہو جائیں، تو اکثر نہ تعلق سلامت رہتا ہے اور نہ لین دین۔
رشتوں کی بنیاد محبت، اعتماد اور اپنائیت پر ہوتی ہے۔ وہاں مقصد ایک دوسرے کو جوڑنا، سہارا دینا اور تعلق کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
مگر کاروبار ایک الگ دنیا ہے یہاں جذبات نہیں بلکہ واضح اصول، شفاف حساب اور مضبوط نظم و ضبط کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اسی لیے اجنبی کے ساتھ کاروبار کرنا بظاہر آسان ہوتا ہے، کیونکہ وہاں:
توقعات محدود ہوتی ہیں
اصول واضح ہوتے ہیں
اور فیصلے جذبات کے بجائے حقیقت پر کیے جاتے ہیں
جبکہ رشتوں میں اکثر یہ جملہ سب کچھ خراب کر دیتا ہے:
"چلو چھوڑو، اپنے ہی تو ہیں…"
یہی نرمی بعد میں غلط فہمی، نقصان اور دل آزاری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
دانشمند لوگ کیا کرتے ہیں؟
وہ رشتوں کو رشتہ ہی رہنے دیتے ہیں، اور کاروبار کو کاروبار۔
وہ محبت کو اس کی جگہ دیتے ہیں، اور لین دین کو اس کے اصولوں کے مطابق چلاتے ہیں۔
یاد رکھیں:
جہاں تعلق ہو وہاں نرمی آتی ہے
اور جہاں پیسہ ہو وہاں وضاحت ضروری ہوتی ہے
اگر ان دونوں کو بغیر حکمت کے ملا دیا جائے، تو نتیجہ اکثر شکوے، دوریاں اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ سوچ ہمیں رشتوں سے بدگمان نہیں بناتی، بلکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ:
ہر تعلق کی ایک حد اور ایک دائرہ ہوتا ہے۔
اکثر پیسے کا نقصان پورا ہو جاتا ہے،
مگر دلوں میں پڑی دراڑیں آسانی سے نہیں بھرتیں۔
اصل دانائی یہی ہے:
ایسے فیصلوں میں احتیاط برتی جائے، جہاں ایک غلط قدم
صرف مال ہی نہیں، بلکہ ایک قیمتی رشتہ بھی چھین سکتا ہو۔
@TsMeSalman1_ What he did for PSL or Pakistan cricket??? Javed Afridi contribute a vital role for PSL and Pakistan Cricket in difficult times. He is not getting any favour, if he is getting favourable decisions than he deserves.
ایک ملک کے وزیر اعظم نے ایک یتیم خانے کا دورہ کیا تو پوچھا :
ایک بچے کے کھانے کا ماہانہ بجٹ کتنا ہے؟
انہوں نے بتایا، چار سو ڈالر
وزیراعظم نے کہا: یہ بہت ہے، اور اسے کم کر کے 300 ڈالر کر دیا
پھر انہوں نے جیل کا دورہ کیا اور پوچھا: قیدی کے کھانے کا بجٹ ماہانہ کتنا ہے؟
بتایا گیا 400 ڈالر۔
وزیراعظم نے کہا: یہ بہت کم ہے.. اسے بڑھا کر 1000 ڈالر کر دیں.
ایک وزیر نے پوچھا: آپ نے یتیم خانے کے بچوں کے کھانے کا بجٹ کم اور قیدیوں کا زیادہ ک��وں کر دیا؟
وزیراعظم نے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت ختم ہونے کے بعد ہم یتیم خانے جائیں گ��؟
بیوی: دروازہ نہیں کھولونگی، اتنی رات کو جہاں سے آرہے ہو وہیں چلے جاؤ.
وکیل: دروازہ کھولو نہیں تو نالے میں کود کر اپنی جان دے دونگا.
بیوی: مجھے کوئی پرواہ نہیں تمہیں جو کرنا ہے وہ کرو.
اس کے بعد وکیل دروازے کے ��اس کے اندھیرے حصے میں جاکر کھڑا ہو گیا،
اور دو منٹ انتظار کیا، پھر ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور نالے کے پانی میں پھینک دیا۔
بیوی نے سنا تو فوراً دروازہ کھولا اور نالے کی طرف دوڑی.
اندھیرے میں کھڑا وکیل دروازے کی طرف بھاگا اور گھر کے اندر سے دروازہ بند کر لیا.
بیوی: دروازہ کھولو، نہیں تو میں چلا چلا کر سارے محلے کو جگا دونگی.
وکیل: خوب چلاؤ، جب تک سارے پڑوسی جمع نہ ہو جائیں، پھر میں ان کے سامنے تم سے پوچھونگا کہ آدھی رات کو کہاں سے آرہی ہو؟
کالا کوٹ یونہی نہیں پہنا ....
اکبر الہ آبادی نے صحیح کہا تھا
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا,
لو آج میں بھی صاحب اولاد ہو گیا .
😆���😆
Just fun
وکلاء سے معذرت
─────••●◎●••─────
"ضرورت ہو تو بازار جائیے، بازارجا کر ضرورت مت پیدا کیجیے"
ایک جگہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا تھا کہ،
گھر سے جس شے کی نیت لیکر نکلے ہو بازار سےوہی شے خریدو، دوسری شےخریدنی ہو تو دوبارہ گھر سےنیت کر کےجاو۔"
یہ پرانے بزرگوں کی نسخے تھےبچت کے ۔
شاپنگ مال کلچر اور آنلائن شاپنگ نےشے کو دیکھ کر شے کی ضرورت/لالچ پیدا کرنےکی ایسی عادت پیدا کر دی ہےکہ لوگ دہی لینے نکلتے ہیں اور دکان لیکر آ جاتے ہیں۔
(منقول )
According to our Sufi masters, actions are essentially lifeless forms unless they are accompanied by sincerity. As the Egyptian Sufi master Ibn ʿAtaʾillah says in his Hikam (Book of Wisdom): ‘Actions are lifeless forms, but the presence of an inner reality of sincerity within them is what endows them with life-giving spirit.’
جو رات کو جلدی نہیں سوتا اور صبح جلدی نہیں اٹھتا، اُس ��ے اوقات منظم نہیں ہو سکتے ، نہ ہی اُس کے وقت میں کوئی برکت ہو سکتی ہے۔ ایسا شخص پوری زندگی بھاگتا رہے گا لیکن پھر بھی بہت تھوڑا حاصل کر پائے گا۔
رات کو دیر سے سونے والے شخص کی زندگی سے اعتدال نکل جاتا ہے، اور حقوق کی...